Dua Ki Qaboliat 121

مناجات و دُعات کا فلسفہ

ایک تحریر ان لوگوں کے لیے جو دعائیں کثرت سے کرتے ہیں مگر شکوہ کناں ہیں کہ دعائیں قبولیت کا درجہ نہیں پاتیں اور وہ مایوسیوں کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔ ہاں یہ تحریر انہیں ان اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنیوں کی طرف لا سکتی ہے۔ تو پھر دیر کیوں آئیے بغور پڑھیں اور مکمل پڑھیں ان شاء اللہ دل و دماغ کے آئینوں کو گھیرے میں لیے ہوئے بے چینیوں اور مایوسیوں کے دھندلکے چھٹ جائیں گے۔ دعاؤں کا طالب سید لبید غزنوی

مناجات و دُعات کا فلسفہ

روزمرہ زندگی میں ہمارا یہ طرز عمل ہے کہ گرمیوں کی گرم رات میں ٹھنڈک کے حصول کے لیے پنکھے، اے سی، واٹر کولر چلاتے ہیں اور اگر موسم تھوڑا سرد ہو جائے تو ہم گرمائش کے حصول کے لیے ہیڑ چلاتے ہیں، اے سی کا موڈ تبدیل کرتے ہیں کہ گرم ہوا دے کر ٹھنڈک کا خاتمہ کر دے، گرم ہوا دینے والے پنکھے چلاتے ہیں، اور یہاں اک بات عرض کیے دیتا ہوں کہ ہم ان تمام اشیاء کو مسلسل چلاتے ہیں، یہ نہیں کرتے کہ دو منٹ سوئچ آن کیا پھر آف کیا پھر آن کیا پھر آف نہیں بلکہ مسلسل چلاتے ہیں۔ رکیے۔۔! تو پھر دعائیں کرتے ہوئے کیوں مسلسل نہیں کرتے کیوں اتنی جلدی ہمت ہار دیتے ہیں اور مانگنے کے سلسلے کو فل اسٹاپ لگا دیتے ہیں ؟ کیوں آخر کیوں قبولیت تک اس سلسلے کو جاری و ساری نہیں رکھتے ؟ دعاؤں کو تو ہواؤں کی طرح ہونا چاہیے جو مسلسل چلیں۔۔! دعائیں مانگتے ہوئے وقت کی، جگہ کی، حالت کی تعین نہ ہو، بلکہ ہر وقت، ہر جگہ، ہر حالت میں دعاؤں کو موجود رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اسموکنگ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آئٹم نمبر کی پیشکش ہوئی، علیزے شاہ

دعاؤں کی قبولیت تو پکی بات ہے ہاں مگر قبولیت کے انداز مختلف ہیں۔ کچھ دعائیں ایسی ہوتی ہیں کہ اِدھر مانگا اُدھر مل گیا۔ اور کچھ دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، بعض دعائیں ایسی ہوتی ہیں جو ہماری مرضی و چاہت و منشا کے مطابق قبول نہیں ہوتیں بلکہ ان کا کچھ حصہ قبولیت کا درجہ پا کر آنکھوں کے سامنے آ موجود ہوتا ہے اور کچھ قبول نہیں ہوتا، اس کا فیصلہ مستور ہوتا ہے، مثال کے طور پر آپ الله سے ایک ایسے خوشمنا، خوش رنگ اور خوشبوؤں کے حامل پھول کی تمنا کر رہے ہیں جو پہلے کسی کے حصّے میں نہ آیا ہو۔ ” لیکن یہاں اللہ کی مرضی یہ ہو کہ اسے اس پھول سے نہیں بلکہ اس سے زیادہ حسین و جمیل پھول یا پھر پھولوں کے پورے گلدستے یا ٹوکرے سے نوازنا ہے ” مگر آپ الله کی مرضی و منشا سے ناواقفیت کی بنا پر اسی پھول کو مانگنے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور بار بار ضد کرتے ہیں ہٹ دھرمی اخیتار کیے بس اسی کی چاہ میں دعائیں مانگ مانگ کر ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ چونکہ اسے ایک پھول کی خواہش ہے اسے ایک ہی پھول دے دیا جائے۔

کسی بھی چیز کے تیار ہونے میں بننے میں وقت لگتا ہے، پھولوں کے ٹوکرے اور گلدستے کو تیار ہونے میں بھی وقت لگے گا۔ ایک پھول تو پودے پر بہت جلد نکل آتا ہے، لیکن پورے چمن اور گلستاں کے پھولوں سے بھر جانے اور سج جانے میں وقت لگتا ہے۔ ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔۔! بلکہ ہمیں تو کسی بھی بات کی سمجھ نہیں آتی، ہم بس ضد کر لیتے ہیں اور اپنی چاہت پر اٹک جاتے ہیں یہ نہیں تو کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   جنسی بے راہ روی کا خاتمہ

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ سب کچھ عطا کر سکتا ہے تو وہ آپ کے سی ایس ایس آفیسر یا ڈاکٹر و انجینئر بننے کی دعاؤں پر قبولیت کا ٹھپہ نہ لگائے اور آپ کے ہاتھوں میں کاسئہ گدائی تھما دے تو کیا بگاڑ سکتے ہیں اسکا۔ ہاں وہ چاہے تو اس سے کہیں کچھ بہتر بنا دے یا عطا کر دے، یہ تو اس کی چاہت و منشا ہے نا، ہمارا اللہ پر کوئی حق تو نہیں ہے کہ اسے ہر صورت ہماری ہی منشا کو پورا کرنا ہے، اس کے اپنے قاعدے کلیے اور اصول و ضوابط ہیں دعاؤں کی قبولیت میں۔

آپ ایک لمبے عرصے تک دعائیں مانگتے رہتے ہیں لیکن دعاؤں کا ثمرہ بظاہر ملتا نظر نہیں آتا تو یہاں بھی قبولیت ضرور ہے اور وہ اس طرح کہ جیسے آپ اپنے بچے کے لیے کوئی سیونگ سرٹیفیکیٹ لے لیتے ہیں کہ آگے چل اسے انعام مل جائے گا۔ بالکل اسی طرح اللہ بھی سیونگز کرتے ہیں ان دعاؤں کی، کیونکہ یہ تو اللہ جانتا ہے کہ اس دعائیں مانگنے والے کے لیے مانگی جانے والی چیز سودمند ثابت ہو گی یا نہیں۔ اگر یہ مانگنے والا صبر کا دامن تھامے رہتا ہے تو اللہ کہتے ہیں، آگے چل کر ہم اسے بہت بڑے انعام سے نوازیں گے۔

بعض دفعہ دعائیں قبول تو نہیں ہوتیں مگر دل میں کہیں یہ احساس ضرور جاگزیں ہوتا ہے کہ دعاؤں کے تیر نشانے پر لگ رہے ہیں، تب دعائیں کرنا ایک خاص لطف آگیں امر لگتا ہے، اسی کیفیت کے بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ مناجات کی لذت انسان کی طلب پر غالب آ جاتی ہے جس کے لیے وہ دعا کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے دعا کرتے ہوئے منشا اسے اپنی مرضی کے مطابق قبول کروانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ دعا کے اندر پنہاں سرور اور لذّت و حلاوت کو پانے کی کوشش کرنا ہونا چاہیے، پھر انسان دعا سے اکتاتا نہیں اور نہ اللہ سے بدگمان ہوتا ہے، جلد بازی اور مایوسی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتا، اس لیے میرا کہنا یہ ہے کہ خدا کے واسطے دعا کو معمولی چیز نہ سمجھا کریں کیونکہ دعا ایک عبادت ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جب تم نماز ادا کر چکو تو پہلو کے بل لیٹ کر یا بیٹھ کر میرا ذکر کرو، یعنی میرے ساتھ رابطہ قائم کرو۔ اور محترم قارئین کرام یہ بات پکی ہے۔۔! جب تلک اللہ کے ساتھ تعلق پیدا نہیں ہوگا، دعا کے ذریعے، ذکر و فکر کے ذریعے جب تک یہ ہاٹ لائن نہیں لگے گی، بہت ساری چیزوں کے سمجھنے سے آپ قاصر رہیں گے، ان میں سے ایک دعا کی قبولیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   دنیا کا طاقتور ترین گیمنگ ٹیبلیٹ

مصنف اسلامک سکالراور گرافک ڈیزائنر ہیں۔اصلاح معاشرہ پر قلم آزمائی کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں