Network 196

سائنس کے ثمرات

اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس کی ترقی سے انسان نے بے شمار فوائد حاصل کیے ہیں، سائنس ہی کی بدولت انسان چاند پر پہنچا اور تسخیر کائنات کی طرف پہلا قدم رکھا جس سے اس کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل ہوا، سائنس ہی کی بطولت انسان نے ہوا میں اڑنا سیکھا،دور رہ کر بھی پاس کر دیا ، ،مشکلیں آسان ہوئیں، اب آپ جتنی بڑی رقم ہو اسے منٹوں میں گن سکتے ہیں دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بھی انسان کو اس کی ادائیگی کر سکتےہیں، مہینوں کا کام دنوں میں،دنوں کا گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا کام منٹوں میں کرنے کے قابل ہوا مگر اس سب کے باوجود بھی انسان اپنے لیے وقت نکالنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

اتنی سہولیات کے باوجود ہر انسان جلدی میں نظر آتا ہے کس بات کی جلدی ہے یہ خود اسے بھی نہیں معلوم، روڈ پر نکل کر دیکھیں تو گاڑیاں ، موٹر سائیکل ایسے چلتے نظر آتے ہیں جیسے سب کے بریکس فیل ہو گئے ہوں اور سب کو کہیں نہ کہیں پہنچنے کی جلدی ہو،ہم نے سائنس کی مدد سے اپنی سہولت کے لیے مشینیں ایجاد کیں مگر شاید ان کے ساتھ کہیں نہ کہیں ہم خود بھی مشینیں بنتے جا رہے ہیں۔جو چیز انسان اور مشین میں فرق کرتی ہے وہ ہے احساس،کیونکہ ذہانت تو اب مشینوں میں آنا شروع ہو گئی ہےاور شاید انسانوں سے بھی کئی درجہ بہتر ہومگر خوشی اور غمی، پیار و محبت،بڑوں کا ادب،چھوٹوں پر شفقت یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو مشین سے جدا کرتی ہیں مگر صبر ختم ہو چکا ہے، احساس ختم ہو چکا ہے، ادب نہ استاد کا رہا، نہ ماں باپ کا اور نہ ہی بڑوں کا، بچوں پر ظلم ہو رہا ہے، پیار محبت کہ جگہ ہوس نے لے لی ہےاور ہم اپنی خوشی کے حصول کے لیے کسی کو بھی دکھ دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں مگر پھر بھی سکون نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: -   وزن میں صرف 5 فیصد کمی بھی ذیابیطس سے بچاسکتی ہے، تحقیق

سائنس کی ایجادات میں سے جو سب سے زیادہ انسانوں کے استعمال میں ہے وہ ہے موبائل فونز،جن کی مد د سے ہم ایکدوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ، اب ہم کسی سے بھی کہیں بھی بات کر سکتے ہیں اس کے لیے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کی ضرورت نہیں، کسی کی کامیابی پر مبارکباد دینی ہو یا کسی کی غمی میں افسوس کرنا ہوتو بس ایک پیغام ہی کافی ہے جو موبائل فون سے بھیج کر ہم فرض ادا کر دیتے ہیں یعنی ذریعہ اطلاعات کو ہم نے اپنی ہر ذمہ داری کا حل بنا لیا ۔ پھر اس میں مزید ترقی ہوئی تو پورا کا پورا کمپیوٹر ہی موبائل میں آگیا اور ہر ایک اصلی دنیا چھوڑ کر مصنوعی دنیا میں مگن ہو گیا۔آپ کسی بھی محفل میں دیکھ لیں کہ ہر ایک آپ کو اپنے اپنے موبائل کے ساتھ مصروف نظر آئے گا۔

اس میں قصور وار سائنس یا اس کی ایجادات نہیں کیونکہ اس کی ترغیب تو ہمیں خود مالک کائنات نے دی ہے کہ کائنات کے سربستہ رازوں کی تلاش میں سرگرداں رہا کرو اور اپنے رب کے شکر گزار بنو مگر ہم نے رازوں کو ہی اپنا رب بنانا شروع کردیا اور جس نے یہ ساری سہولیات ہمیں عطا کیں اسے بھولتے گئے، جو چیزیں ہم نے اپنے وقت کی بچت کے لیے بنائیں انہوں نے ہی ہمارا وقت ہم سے چھین لیا، ہم اپنے رشتہ داروں، دوستوں سے دور ہو گئے اور مشینوں سے قریب ہوتے گئے۔ہمیں ان ایجادات کا ایسا نشہ چڑھا ہوا ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا اور نہ ہی ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ ہم نشے میں ہیں ،پتہ نہیں کب ہم ہوش میں آئیں گے اور ان سائنسی ایجادات کو اپنی سہولت تک ہی محدود رکھ کر خود کو ان کے چنگل سے آزاد کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایسی ڈیڈ پچز نہ بنائیں

مصنفہ معاشیات میں ماسٹرز ہیں اور   ملکی معیشت کے ساتھ معاشرہ و ثقافت پہ لکھنا پسند کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں