Occupied Kashmir 141

آرٹیکل 370 کے بعد کا کشمیر(حصہ دوئم)

لداخ میں چین کی مداخلت کے بعد بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانا چھوڑ دے اور بھارت آجکل پاک بھارت سرحدوں کی خلاف ورزی میں بھی کمی کر کے پورے دھیان سے چین سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔اور مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر وقتی طور پر سرحدوں پر جنگ بندی کا خواہاں ہے۔ جبکہ پاکستان تو شروع سے ہی امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے مگر مسئلہ کشمیر کے بغیر یہ ممکن بھی نہیں ۔۔ اور بھارت کی کشمیر میں 370 اور 35 آرٹیکل ہٹانے کی اصل وجہ ہی پاکستان ہے۔مگر اب بھارت حل کے لیے پاکستان کا رخ کر رہا ہے کیونکہ بظاہر اصل مسئلہ چین ہے۔
دنیا کو سوچنا ہوگا کہ کیا مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت سےتعلقات کی بہتری یا سمجھوتہ ممکن ہے ۔ اور چین بھی پاکستان کا دوست ہے۔ اور بھارت وہ ازلی دشمن جو آئے دن سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔ اب اچانک سے سکون کی خواہش کرنے لگا۔عوام کو سوچنا ہوگا کہ بھارت نے 2019 میں پاکستان دشمنی میں جو کارروائی کی اس سے پورے خطے اور کشمیری عوام کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوا ہے۔خیر مودی سرکار نے کشمیر کی خودمختاری پر ضرب لگا کر بھارت میں آزادی کی چنگاریاں بڑھکا دی ہیں۔ بھارت میں خود مختاری کی تحریکیں اروناچل پردیش، آسام، بوڈالینڈ، کھپلنگ میگھا لیا، میزو رام، ناگا لینڈ، تیرہ پورہ، بندیل کھنڈ، گورکھا لینڈ، جھاڑ کھنڈ،تامل ناڈو، میزو لینڈ،خالصتان،ہماچل پردیش اور کشمیر میں تو آزادی کی تحریکیں اس حد تک توانا اور قوی ہو چکی ہیں کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے بھارتی افواج کے انخلاء کیلئے فدائی حملوں کے ہتھیار کو بھی استعمال کر رہی ہیں۔ نریندر مودی سرکار نے راکھ کے نیچے سلگنے والی چنگاریوں کو شعلوں میں تبدیل کر دینے کی کوشش کی ہے اور ان کی سرکار ابھی تک اس کام پر لگی ہوئی ہے۔نریندر مودی سرکار داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر پاکستان کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہے ہیں۔ بھارت میں صرف چہرے بدلے ہیں، نظام نہیں بدلا۔ محض چہروں کی تبدیلی سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی۔جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیاچاہیے۔ حیرت اِس بات پر ہے کہ مغربی دُنیا کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ اِن حالات میں ترکی کے صدر طیب اردگان نے کئی مواقع پر کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی مسئلہ کشمیر دو ایٹمی ممالک کے درمیان حل کروانے میں تا حال ناکام ہے ۔ پاکستان کی حکومت، افواجِ پاکستان اور عوام مکمل طور پر کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی بھر پور مخالفت کی ہے اور وادی ِکشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی فوراً روکنے کا پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ پاکستان ایک بار پھر کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اہل ِکشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بھارت نے پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف ہمیشہ کشمیر میں مداخلت کا پروپیگنڈہ کیا ہے جسکا مقصد صرف کمال ہوشیاری اور چالاکی سے دُنیا کو مسئلہ کشمیر سے دور رکھنا ہے اور کشمیر میں اپنے ناپاک مزموم عزائم کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی 76 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے حق میں بھرپور آواز اٹھا کر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ نہ تو پاکستان مظلوم کشمیریوں کا ساتھ چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل ہونے تک چین سے بیٹھنے دے گا۔ اس حوالے سے کئی دوست ممالک پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں۔، مگر دُنیا نے دیکھا کہ کیسے 5 اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو کالعدم قرار دے کر اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت ختم ہی اس لیے کی کیونکہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ پاکستان اس مسئلے کو چاہے جتنا اجاگر کرلے، بین الاقوامی برادری اس سلسلے میں محض کھوکھلے بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرے گی اور اب تک ہوا بھی ایسا ہی ہے۔مگر اب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ ظاہری بات ہے کشمیر اقوام متحدہ کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے اور متنازعہ جگہ کو کوئی بھی ملک جعلی قرار داد کے ذریعے اپنا حصہ نہیں بنا سکتا۔ بھارتی انتہا پسند قیادت نے اپنی بیمار ذہنیت کا ایک بار پھر کھل کر اظہار کیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ موجودہ بھارتی قیادت نہ صرف مسائل کو حل کرنے کی سکت نہیں رکھتی بلکہ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور خطے کو جوہری جنگ کی آگ میں دکھیلنے پر تلی ہوئی ہے۔ بھارتی آئین میں علاقائی نوکریوں، زمینوں و کلچر ثقافت کو محفوظ بنانے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ بھارت کی دیگر کئی ریاستوں کو ایسے آئینی تحفظ حاصل ہیں اور 370 میں بھی یہی بات تھی۔ آزادی کشمیریوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر دنیاآج بھی جاگ کر متحد ہو کر مظلوم ومعصوم کشمیریوں کا ساتھ دے اور مودی کو کشمیر کی آزادی کے لیے پابند کرے۔تو یہ مشکل ضرور ہوگا مگر ناممکن نہیں آزادی سب کا حق ہے اور اس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ لیکن افسوس صدافسوس تاحال عالمی برادری کا ضمیر سویا ہوا ہے اور کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی،کسی عالمی تنظیم یا انسانی حقوق کے ادارے کو یہ توفیق تک نہیں ہوئی کہ کم از کم کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم پر مذمت کر دیں۔عراق اور افغانستان پر حملہ آور ہو کر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور عالمی تسلّط کی خواہش مند بین الاقوامی قوتیں کشمیر میں بھارتی مظالم کو یکسر نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔وادی ِ مقبو ضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اقوامِ عالم اور انصاف کے علمبرداروں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اِن کے بنیادی حقوق کب تسلیم کئے جائیں گے؟انہیں بھارتی مظالم سے کب نجات ملے گی ؟۔ یقیناً یہ ایک پریشان کُن صُورتِ حال ہے اور اس جانب عالمی برادری کی توجّہ ضرور مبذول کروانی اور بھارت کے ظالمانہ رویوں کا راستہ روکنا ہماری اوّلین ترجیحات میں شامل ہوناچاہیے۔اس کاتدارک محض مذمّتی بیانات سے نہیں،جارحانہ سفارت کاری ہی سے ممکن ہے۔ ورنہ جیلوں سے کشمیریوں کی لاشیں ہی ملتی رہیں گی اور ہمیں فاتحہ خوانی سے فرصت نہیں ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: -   فواد کے 10سال کون لوٹائے گا؟

راجہ منیب مخلتف اخبارات میں کالم ، آرٹیکل اور بلاگ تحریر کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ وہ ایک تجزیہ کار ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں