Occupied Kashmir 179

آرٹیکل 370 کے بعد کا کشمیر(حصہ اول)

میرا کشمیر آج پھر لہُو لہان ہے۔چاروں طرف دھوئیں کے بادل، ہر طرف بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور قتل و غارت کا راج، جنت نظیر وادی کشمیر، سراپا احتجاج۔۔بھارت نے حسبِ معمول انسانی حقو ق کی خلاف ورزی کی تمام حدود پار کر دِیں۔وادیِ کشمیر کے بچے سے لے کر بزرگ اور مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنی آزادی کے لئے سر بکف ہیں۔ گزشتہ 73سال کے عرصے میں لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چُکے ہیں۔مائوں نے اپنے نوجوان لختِ جگر آزادیِ جدوجہد میں قربان کئے۔اس بات کا کافی عرصے سے سوچ رہا تھا کہ ایک مختصر جائزہ پیش کروں کے آرٹیکل 370 کشمیر میں غیر فعال کرنے کے دو سال بعد اب حالات کیسے ہیں اور یہ فیصلہ کس قدر غلط یا صیحح تھا۔ اس کے کشمیری عوام پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ کشمیری حرّیت پسند رہنماؤں ، کارکنوں پر ظلم و جبر کوئی نئی بات نہیں ۔ بلاشبہ، آزادی کی تحریک قید و بند کے بغیر آگے نہیں بڑھتی کہ ہر تحریک کو نشیب و فراز کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ تحریکِ آزادی جہدِ مسلسل کا نام ہےاوراس کے لیےغاصب قوّت سے نبرد آزما ہونا یقینی امر ، تو یہی صورتِ حال جمّوں و کشمیر کی تحریکِ آزادی اور اس سے وابستہ رہنماؤں ، کارکنوں کو بھی در پیش ہے۔تازہ صورتحال کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے بھارتی فوج اور کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد یا لائن آف کنٹرول پر مینڈھر کے جنگلات میں جاری اس طویل جھڑپ میں اب تک بھارتی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کے دو افسران سمیت نو فوجی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ پونچھ میں جاری جھڑپ کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کے بعد یہاں ہونے والی سب سے طویل اور بھارتی فوج کے لیے ہلاکت خیز جھڑپ ثابت ہوئی ہے۔ ہزاروں فوجیوں، درجنوں کمانڈوز، کئی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو استعمال میں لانے کے باوجود بھارتی دہشت گرد فوج اب تک کسی بھی کشمیری کو شہید کرنے میں کامیاب نہیں ہو ئی۔ پونچھ ڈسٹرکٹ کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کے 20 کے قریب اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات سے یہ واضح ہے کہ مودی سرکار حکومت کے پاس کشمیر کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں تشدد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سکون و سلامتی فراہم کرنے میں مودی سرکار حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔ قتل کے مسلسل واقعات افسوسناک ہیں۔ مقبوضہ جمّوں و کشمیر کی حرّیت قیادت جس طرح ایک عرصے سےپابندِ سلاسل ہےاور اس پر تیس سال پرانے مقدمات کھولے جار ہےہیں یا دہشت گردی میں مالی اعانت (Terror Financing) اور منی لانڈرنگ جیسے بے سروپا الزامات لگائے جا رہے ہیں، اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ کشمیری حرّیت قائدین جیلوں سے رہا نہ ہونے پائیں۔ افسوس ناک طور پر ان محبوس قائدین کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان کے صحت کے حوالے سے مسلسل خدشات کے اظہار کے باوجود اس جانب کوئی توجّہ نہیں دی جا رہی۔ کشمیری قیدیوں کی سلامتی کے متعلق اگرچہ بے اطمینانی ہمیشہ ہی سے موجود رہی ہے۔مگر اس کورونا کی وبا کے بعد سے یہ بے اطمینانی اب انتہائی تشویش میں بدل چُکی ہے اور اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ وبا کی آڑ میں بھارت کی مختلف جیلوں میں بند کشمیری قیدیوں، خاص طور پر قائدین کو نشانہ بناکر انہیں راستے سے ہٹانے کی ناپاک کوششیں شروع ہیں۔ جموں و کشمیر کے حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں، کشمیر اور کشمیریت دونوں خطرے میں ہیں۔جس کی اصل وجہ اگست 2019 میں بھارت کی حکومت نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرتے ہوئے ریاست کی خودمختار حیثیت ختم کر دی تھی اور اسے جموں کشمیر اور لداخ ٹریٹریز میں بدل تقسیم کر کے براہ راست دہلی کے تحت کر دیا تھا۔اورمقبوضہ جموںوکشمیر میں اب کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ یہاں کوئی منتخب حکومت نہیں ہے بلکہ براہ راست نئی دہلی کی قابض حکومت ہے۔ براہ راست قاعدہ ان قوانین کے استعمال جو کشمیر کے لیے مخصوص ہیں ، جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ اس قانون کے تحت فرد کو بغیر کسی جرم کے حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں کشمیر میں زمین خریدنے والوں کی کل تعداد صرف دو ہے ، آرٹیکل 35 کو ہٹانا ، جو کشمیر کے مستقل باشندوں کی وضاحت کرتا ہے ۔جب کہ زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں۔کشمیری پنڈت وادی میں واپس نہیں آئے۔ کیوں ایک شہری اور تعلیم یافتہ کمیونٹی ایسی جگہوں پر واپس نہیں جانا چاہتی ہے جہاں کچھ نوکریاں ہوں اور اکثر انٹرنیٹ سروس نہ ہو۔یہاں تک کہ لداخ کی حیثیت میں تبدیلی اور یونین ٹریٹری کے نئے نقشوں کا اجراء وہاں چین کی جارحیت کا قریب ترین سبب معلوم ہوتا ہے۔بھارت کی مودی سرکار سرکار کی حکومت کی کشمیر میں دہشت گردی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ سالانہ شہادتوں میں دو گناہ اضافہ ہوا ہے یعنی شرع اموات 150 سے بڑھ کر 250 ہوگئی ہے۔جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں پچھلے دو سالوں سے کوئی ترقی نہیں ہوئی۔اس370 اور 35 آرٹیکل کے اقدام نے مسئلہ کشمیر میں عالمی دلچسپی کو دوبارہ متحرک کیا۔دیگر عالمی ادارے ، بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق ایسے امریکی کمیشن نے بھی بھارت پر تنقید کرنا شروع کر دی ہے کہ 2019 کے بعد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں: -   سیف علی خان نے کرینہ سے کامیاب شادی شدہ زندگی کا راز بتادیا

راجہ منیب مخلتف اخبارات میں کالم ، آرٹیکل اور بلاگ تحریر کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ وہ ایک تجزیہ کار ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں