FATF and SM-1 181

سوشل میڈیا کا شہرِطلسم اور ایف اے ٹی ایف (حصہ دوم)

گرے لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک کی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے مانیٹرنگ ہوتی ہے جبکہ بلیک لسٹ میں نام شامل ہونے پر اُس ملک کو بدترین عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بھارت اسی لئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرانا چاہتا ہے جبکہ بھارت خود اقوامِ متحدہ کی قومی سلامتی کا ممبر بننے کے لئے اورپر زور سفارتکاری کر رہا ہے۔ اس معاملے میں امریکہ اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ایسے ملک کو کس طرح سلامتی کونسل کا ممبر بنایا جا سکتا ہے جس کے اندر اقلیتوں کے حقوق بُری طرح پامال کئے جاتے ہوں۔ دو درجن علیحدگی کی تحریکیں بھارت کے اقلیت کُش رویوں کے باعث چل رہی ہوں۔ جس کا ایٹمی پروگرام اس حد تک غیر محفوظ ہو کہ اس میں چوری ہو چکی ہو، دھماکے ہوتے رہتے ہوں اور ایٹمی سائنسدان اغوا اور قتل کر دئیے گئے ہیں۔ بھارت کو کس طرح سلامتی کونسل کا ممبر بنایا جا سکتا ہے جس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ نہ صرف بہتر تعلقات نہ ہوں بلکہ ہر پڑوسی اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی زد میں ہو اور کئی کے ساتھ پاکستان اور چین سمیت حالت جنگ میں ہو اور بھارت وہ ملک ہے جس نے پاکستان کو عالمی پابندیوں کی زد میں لانے کے لئے کئی بار حملوں کی ڈرامہ بازی کی اور ہر بار حقائق سامنے آنے پر اُس کے گلے میں پڑ گئی۔

 ان میں سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی ، ممبئی حملے ، پٹھان کوٹ میں دہشتگردی اور حالیہ برسوں اڑی اور پلوامہ حملے شامل ہیں۔جہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت پڑوسی ہیں۔ ہمسایوں کے ساتھ تو مثالی تعلقات ہونے چاہئیں۔ کہا جاتا ہے آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں ممالک کی سطح پر پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ آج پاکستان اور بھارت کشیدگی کی انتہا پر ہیں۔ بھارت حقائق کاادراک کر لے، انسانیت سے کام لے اور تقسیم ہند کے فارمولے کو کھلے دل سے تسلیم کرے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین دشمنی کی وجہ کشمیر ایشو ہے جو بھارت کا پیدا کردہ ہے جس میں ہر گزرتے دن اور ماہ و سال کے ساتھ بگاڑ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا مخالف انڈیا ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں بیٹھا ہوتا ہے یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کا دشمن آپ کا امتحانی پرچہ چیک کر رہا ہو اور وہ آپ کے بات بات پر نمبر کاٹنے کے بہانے ڈھونڈے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھارت ہی کی طرف سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے جانے پراستصواب کی صورت میں تجویز کیا گیا ہے۔ بھارت اس پر عمل کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔ اب ان قراردادوں سے راہ فرار اختیار کرکے آزادکشمیر پر مکمل اپنا حق جتا رہا ہے۔

 حقیقت یہی ہے جس کا اظہار ایک بار پھر اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے یہ کہہ کر واضح کی کہ کشمیر بھارت کا حصہ تھا نہ ہوگا۔ نوآبادیاتی جابروں کی طرح بھارت کو بھی ناکامی ہوگی۔  بھارت بطور ریاست منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا ہے اور اس کی تردید بھی ناممکن ہے۔ اس کا یہ بھیانک جرم اسے براہ راست بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا مستوجب ہے۔ گرے لسٹ میں صرف مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ بھارت کی منی لانڈرنگ کی مانیٹرنگ کی ضرورت تو کسی شک کی بنیاد پر کی جانی تھی جب فنانشل کرائمز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں واضح کر دیا گیا ہے تو بھارت کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔یہاں کچھ اپنوں بےوقوف دوستوں کا بھی ذکر کرتا چلوں ۔ اکیسیویں صدی میں ہم سوشل ویب سائٹس کے شہرِ طلسم میں جی رہے ہیں۔ ہم روز بروز سماجی ویب سائٹس کے سحر میں جکڑے چلے جارہے ہیں اور غیرمحسوس طور پر ان کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ سوشل ویب سائٹس جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائی ہیں، وہیں یہ ایسی زمینیوں کی صورت اختیار کرگئی ہیں جن پر نفرتوں کے بیج بوئے اور تعصب کی فصلیں اگائی جارہی ہیں۔ ظاہر ہے اس بوائی اور کاشت سے زہر کی فصل ہی حاصل ہونی ہے۔ ایسا نہیں ہوا کہ ہمارے معاشرے سے ’ خیر‘بالکل ہی ختم ہو گیا ہو ، بظاہردن رات جن خبروںمیں ہم گھرے رہتے   ہیں اُن سے تو ہمیں ہر گزرتے دن اپنے اطراف شر، بدی، جرائم ، بے حسی ہی پھیلی محسوس ہوتی ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ وہ صرف چندہی خبریں ہوتی ہیں جنہیں ایک پالیسی کے تحت یا سوشل میڈیا پر نادانی میں نمایاں کیا جاتا ہے۔ چاہے وہ موٹر وے والا معاملہ ہو، زینب کیس یا مروہ ۔ ایسی خبروں اور واقعات کا برا اثر پڑتا ہے ۔ دشمن ریاست پاکستان کی بنیاد کو ہدف بنانے کے لئے بے دریغ وسائل خرچ کررہی ہے اور جعلی خبریں دشمن کی سازشوں کا حصہ ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے جعلی میڈیا ہاؤسز اور جعلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ پاکستانی ایسے واقعات سوشل میڈیا پر شئیر کر کے ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ معلومات معمولی جنگ کا حصہ ہیں لہذا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح شیطانی عناصر اپنے مقاصد کے لئے سوشل  میڈیا بیانیہ کو غلط انداز میں استعمال کرسکتے ہیں۔ مودی کے ہندوستان نے اسٹریٹجک اور سیاسی مقاصد کے لئے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ استعمال کیا ہے۔معلومات کے زمانے میں ریاستی عمل نے معلومات کو اسٹریٹجک اور ہائبرڈ جنگ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔یہ معلوماتی جنگ ریاست کے بیانیہ کی تعمیر کے لئے ایک جدید وسیلہ ہے۔ یورپی یونین کی ڈس انفو لیب کی رپورٹ نے بھارتی جھوٹ اور فریب کو بے نقاب کیا ہے کیسے ہندوستانی میڈیا اور این جی اوز بھارتی پروپیگنڈے کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں کیونکہ بھارت ، پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے جعلی میڈیا ہاؤسز اور جعلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کررہا ہے۔ دوسری طرف اپنی عوام چھوٹے چھوٹے واقعات کو سوشل میڈیا پر شئیر کر کے پاکستان کا امیج خراب کر رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف اپنی ہائبرڈ جنگ کا حصہ بن کر کیسے پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں یہ عام عوام سوچ بھی نہیں سکتی ۔ جیسے بھارت نے میڈیا کےناجائز استعمال کے ذریعے خطے میں ہنگامہ آرائی کے لئے پاکستانی ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور دنیا کو راضی کرنے کے لئے بھی اپنی مہم کا استعمال کررہاہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ملکی معیشت اور مہنگائی کی لہر

ہندوستانی ریاست اور اس کے میڈیا نے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کے لئے کام کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہندوستان کی قابض فوج کے خلاف جائز ہے۔ بھارتی غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج نہتے کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہیں جنھیں بھارت کی حملہ آور فوج کے خلاف لڑنے کا جائز حق حاصل ہے۔ پاکستان کے خلاف سب سے مہلک اور زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ کیونکہ اول تو اس کی پہنچ اور دسترس ہر عمر کے افراد بالخصوص نوجوانوں تک بذریعہ سمارٹ فون ہو چکی ہے۔ دوسرا یہ آزادانہ ذریعہ اطلاعات و نشریات ہے کہ جس پر کوئی سنسر شپ نہیں کوئی پابندی نہیں اوراس کے ذریعے چوبیس گھنٹے مسلسل پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔ اور ماضی میں کیا گیا تمام پروپیگنڈا محفوظ بھی رہتا ہے نیز اس وجہ سے بار بار اور ہمیشہ ہر وقت اس پروپیگنڈا کی اثرانگیزی رہتی ہے۔ بلوچ قومیت کے نام پر ہمیں سوشل میڈیا پر ایسے ہزاروں اکاؤنٹس اور آئی ڈی ملتی ہیں جو کہ درحقیقت فیک ہیں۔ ان کے ذریعے دراصل انڈین فنڈز پر پلنے والے عناصر پاکستان کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔ پاکستان کی ان مختلف قومیتوں کے حقوق اور ترقی کی جنگ لڑنے والے یہ کوئی حقیقی بلوچ، پشتون، سندھی یا مہاجر افراد نہیں ہیں بلکہ را اور این ڈی ایس کے گماشتے ہیں جو پاکستان سے باہر بیٹھ کر مذموم پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انڈین تخریبی پروپیگنڈا حکمتِ عملی کو بروقت اور جارحانہ طور پر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک بہترین‘ جامع‘ کل وقتی‘ اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی کے ساتھ کاؤنٹر کیا جائے۔ بلاشبہ زمانے کی چال اور ترقی کی رفتار سے لاتعلق رہنا ممکن نہیں ہے۔ گویا سوشل میڈیا کے پھیلنے سے اب اس سے کٹ کر زندگی گزارنا مشکل ہے۔ صبح شام سوشل میڈیا پر جھوٹ سچ کی خطرناک آمیزش کے باعث معاشرتی بگاڑ اور انتشار کی جانب جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   سوشل میڈیا پر شہرت کے لیے نوجوان خوبصورت لڑکی بن گیا

آج کل جس طرح سوشل میڈیا عملی طور پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں مبالغہ آرائی کر کے انتشار پھیلانا ہوتا ہے۔ ہم ترقی یافتہ معاشروں کے ہمقدم بن کر تیز رفتاری سے دنیا،جوکہ اب گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ اکثر یہ سمجھنا عام آدمی کے لیے مشکل ہوجا تا ہے کہ یہ پروپیگنڈا بھارت یا کسی دوسرے شرپسند عناصر کی جانب سے پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے۔ جیسے ابھی حال ہی میں بھارت لاپتہ افراد کے نام سے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے پاکستان کو دنیا کی نظر میں بدنام کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔یہی چھوٹے چھوٹے پروپیگنڈے اکثر ملکی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں۔ہمیں ان سے بچ کر  حکومت کے ساتھ ملکر بحثیت قوم پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی لسٹ سے نہ صرف باہر نکلنا ہے بلکہ دوبارہ ایسا نہ ہو اس کے لیے بھی اقدامات کرنے ہیں۔ پاکستان سنہ 2000 کی دہائی سے دہشت گردوں کی معاشی معاونت اور پُشت پناہی کے الزامات کا عالمی سطح پر سامنا کرتا آ رہا ہے۔اس بارے میں جہاں انڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز آنے والے دنوں میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے، وہیں امریکہ بھی اس تمام تر صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کوتسلی بخش کارکردگی کی بنا پر اس لسٹ سے نکلے کے بعدپاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈوں سے بچنے کے لیے بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔ یاد رہے کہ ’جب ہمیں 27 نکاتی ایکشن پلان ملا تو اس وقت صرف ایک پر عملدرآمد کیا تھا۔ آج پاکستان نے 27 میں26 ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا ہے۔  جس کے بعد گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ کورونا کے دوران کئی ملکوں نے رپورٹنگ نہیں کی لیکن پاکستان نے اپنی رپورٹنگ جاری رکھی۔ اس ساری مشق سے ملک کو فائدہ بھی ہوا کہ ہمارا سسٹم دنیا کے کئی ممالک سے بہتر ہو گیا اور اس سے معیشت کو بھی فائدہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   توبہ اور یقین محکم

راجہ منیب مخلتف اخبارات میں کالم ، آرٹیکل اور بلاگ تحریر کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ وہ ایک تجزیہ کار ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں