FATF and SM-1 198

سوشل میڈیا کا شہرِطلسم اور ایف اے ٹی ایف (حصہ اول)

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اسلحہ کی نقل و حمل کے کاروبارپر کہیں کوئی پابندی نہیں کیونکہ دُنیا بھر کو چلانے و الوں کے پیچھے اسلحہ ساز ادارے ہی بیٹھے ہیں۔کرنسی، ہیرے، سونے یہاں تک کہ منشیات کے بدلے بھی یہ کاروبار چمکایا گیا ، اب جدید دور میں’ ڈارک ویب ‘میں’ کرپٹو کرنسی‘ پر یہ کام چلتا ہے۔جان لیں کہ دُنیا بھر میں اس وقت ناجائز اسلحہ کے ڈیلر موجود ہیں جو دنیا بھر میں جاری علاقائی جنگوں کے لیے اسلحہ آپ کی مطلوبہ جگہ پر فراہم کرتے ہیں چاہے وہ افریقہ کے جنگلات ہی کیوںنہ ہوں۔اسلیے پاکستان کو قابو کرنے کے لیے باوجود پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی حصہ لینے کے باوجود اُسے دوبارہ2018میں امریکہ، فرانس و انڈیا کی سفارش پر گرے لسٹ ( مشکوک ملک) میں ڈال دیا گیاجس کو ختم نہ کیا گیا توپاکستان کی حکومت کو ملک میں مہنگائی ، بے روزگاری و معاشی بدحالی کا شدید خطرہ ہے۔
2008ءسے 2021ء تک FATF کیوجہ سے پاکستان کو 38 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا امید واثق ہے کہ آئندہ ہونے والے اجلاس میں پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے صرف ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس( ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پرعمل درآمد باقی رہ گیا ہے اور اب پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں، گزشتہ اجلاس تک پاکستان نے 24 نکات پر عملدرآمد کیا تھا۔حالیہ ہفتوں میں پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اپنا کیس تیار کرنے میں مصروف ہے۔ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام سنہ 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنے والا عالمی ادارہ ہے جس نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے جس سے نکلنے کے لیے پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے ساتھ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ سفارتی سطح پر بھی اپنا مقدمہ لڑے۔پاکستان کو افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں اپنے کردار کی وجہ سے بھی یہ امید ہے کہ اگلے اجلاس میں امریکہ پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔پاکستان افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ طالبان اور امریکہ کے مذاکرات امریکہ کے لیے بہت اہم ہیں جس کے تحت وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ کچھ عناصر اب بھی پاکستان کی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان میں خاص طور پر انڈیا کی یہ شکایات شامل ہیں کہ پاکستان نے اب بھی اِن شدت پسند تنظیموں کی حمایت ترک نہیں کی ہے جو پاکستان میں بیٹھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی زیادہ تر شرائط پوری کر دی ہیں اور اب معاملہ زیادہ تر سیاسی رہ گیا ،بھارت اپنا سیاسی اثر ورسوخ استعمال کر رہا ہے ۔پاکستان نے ٹیررازم فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور بہت سی خامیاں بھی دور کی ہیں، فیٹف نے ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کے سیاسی عزم کو بھی سراہا ہے۔
اس وقت پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ایف اے ٹی ایف کے دو منصوبوں پر عمل کررہا ہے جن میں سے ایک 40 جبکہ دوسرا 27 نکاتی ہے۔ پاکستان نے بہت سنجیدگی سے انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی امداد سے نمٹنے (سی ایف ٹی) کے سلسلے میں قوانین میں ترامیم بھی کیں اور ان پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہونے سے پہلے بھی پاکستان بد عنوانی اور دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے کے لیے ایسے قوانین ترتیب دے رہا تھا جو ان برائیوں کا سد باب کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی کے لیے راستہ بھی ہموار کریں لیکن اس کی مخالف قوتوں نے بین الاقوامی سطح پر ریشہ دوانیاں کرکے اسے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرا دیا۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرانے کے لیے امریکہ نے بھرپور کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں کچھ ایسے ممالک نے بھی اس کا ساتھ دیا جن پر پاکستان اعتماد کرتا تھا تاہم چین اور ترکی اس کڑے وقت میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس وقت بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور افغانستان سے اپنے فوجیوں کے بحفاظت انخلا کے لیے امریکہ کو ہماری ضرورت بھی ہے، لہٰذاپاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے۔
فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کی رپورٹ میں بھارت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی ممکنہ مالی معاونت کا انکشاف ہوا ہے۔ 44 بھارتی بنک منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے، جن میں پنجاب نیشنل بنک، کوٹک مہاندرا، ایچ ڈی ایف سی، کنارہ بنک، انڈس لینڈ بنک، بنک آف بروڈا شامل ہیں۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی بنکوں نے 3201 غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے ذریعے ایک ارب 53 کروڑ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں کیرالہ اور آسام میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جاچکی ہے، فنانشل کرائمز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ منی لانڈرنگ میں بھارتی نوادرات کے سمگلر بھی ملوث ہیں اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں بھی منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2017 تک بھارتی بنکوں نے 5 اعشاریہ 3 ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی جس کے لیے بھارتی بنکوں کی ڈومیسٹک برانچز نے فنڈز وصول کیے یا آگے بھجوائے اور ان بنکوں کی بیرون ملک برانچز کو استعمال کیا گیا۔ منی لانڈرنگ کا یہ پیسہ دہشت گردی اور مالی فراڈ میں استعمال کیا گیا۔ فنانشل کرائمز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سونے اور ہیرے کے ذریعے بھی منی لانڈرنگ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں کی رپورٹ امریکی بنکوں نے فنانشل کرائمز انفورسمنٹ میں جمع کرائی۔بھارت پاکستان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد پراپیگنڈے سے رائے عامہ اور عالمی برادری تک کو گمراہ کرنے کے لئے سرگرداں رہا ہے۔ بڑے عالمی اداروں تک بھارت کی لغویات میں آ جاتے ہیں۔ آج پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے کوشاں ہے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں بھارت کی یاوہ گوئیوں کے باعث ہی شامل کیا گیا۔ اِدھر پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے ہرممکن قدم اُٹھا رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کی روشنی میں قانون سازی سمیت اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ اُدھر بھارت گرے لسٹ سے بھی آگے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   امریکہ کا چکر: لوگ اور زندگی

(جاری ہے…….)

راجہ منیب مخلتف اخبارات میں کالم ، آرٹیکل اور بلاگ تحریر کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ وہ ایک تجزیہ کار ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں