Columns of Saadullah jaan barq 123

برف کے باٹ اور دھوپ میں بیٹھا سوداگر

یہ شعر غالباً انور مسعود کا ہے کہ

یہی معیار دیانت ہے تو کل کا تاجر

برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

ہم سب سے پہلے تو ان کو مبارکباد پیش کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی ’’کل‘‘کی پیش گوئی ’’آج‘‘ ثابت ہوچکی ہے بلکہ وہ تاجر جس کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ نہ صرف ’’برف کے باٹ‘‘لیے دھوپ میں بیٹھا ہے بلکہ اس نے باٹوں کو پنکھا بھی لگا دیا ہے اور یہ پنکھا اور اس کی بجلی اس کے اس ساجھے دار کی طرف سے ہے جسے حکومت کہتے ہیں۔اس قسم کے دکاندار اور تجارت کے ویسے تو ہم نے بہت سارے نمونے دیکھ لیے ہیں جو رائج الوقت یا رائج بازار ہیں لیکن ان میں سب سے بڑی کچھ کمپنیاں ہیں، ان کا ذکر خیر یا شر ہم پہلے بھی کرتے رہے ہیں جو ’’بمہ ٹیکس‘‘کے کلہاڑے سے اپنے صارفوں یا خداماروں کا تیاپانچہ کرتے رہتی ہیں، ان کی تو بسمہ اللہ ہی برف کے باٹوں سے ہوتی ہے کہ جب سو روپے لوڈکیے جاتے ہیں تو وہ حیران کن تیزی سے پگھل کرتقریباً آدھے  ہوچکے ہوتے ہیں۔

ہمیں پکا پکا یقین ہے کہ آج کل یہ جو کورونا کے بارے میں ’’کارخیر‘‘کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی ٹیکس ہی ہوگا لیکن ان کے بارے میں ہم کچھ زیادہ اس لیے نہیں کہیں گے کہ ان کا ’’سیاں بئھے کوتوال‘‘تو پھر ان کا کوئی کیا بگاڑ سکتاہے؟

اے آہ دل میں وہ جو پردہ رہے تیرا

جاتی ہے دوڑ دوڑ کے تو پھر اثر کہاں

اپنے ہاں پہلے بھی کچھ کم برف کے باٹوں اور دھوپ میں بیٹھے تاجروں کی کمی نہیں تھی۔لیکن افغان مہاجرین نے آکر وہ طریقے تجارت متعارف کرائے کہ دل ہوا بو کاٹا۔ہمارا توان کے ساتھ روز کا واسطہ تھا کیونکہ ’’انصار‘‘  اسلام آباد والے بنے تھے اور مہمان ہمارے سر کے اوپر بٹھا گئے تھے، ہمارے کھیتوں میں ،گلیوں میں، کوچوں میں، شہروں اور بازاروں میں انھوں نے وہ وہ پینترے متعارف کرائے کہ شاید شیطان بھی ان سے آشنا نہیں ہوگا۔سب کے سب غازی تھے۔داڑھیوں اور تسبیح والے اور حاجی تھے، ساتھ ہی غازی اور مجاہد بھی۔ اس لیے جو بھی کچھ وہ کرتے تھے ان کا حق تھا۔ ان ہی دنوں یہ بات متاثرین اور زدگان میں عام ہوگئی تھی کہ مہاجروں کے لیے ایک نیکی کے بدلے ایک’’بدی‘‘الاوڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   صاحبِ رفعت شاعر

ہم اکثر مباحث میں ان سے کہتے تھے کہ کم بختو خود تو اپنے ’’نیک اعمال‘‘کی وجہ سے ڈوبے تھے، ہمیں بھی ساتھ غرق کردیا۔دراصل ہم نے جب ان کا تجزیہ کیا تو بات قطعی سائنسی نکلی۔تقریباً دنیا کے ہر ملک سے ان کے لیے امدادی چیزیں آتی تھیں اور آتی ہیں جن میں اس ملک کی ساری’’خوبیاں‘‘بھی ہوتی ہیں چنانچہ جس جس ملک کا انھوں نے کھایا ان سے کچھ نہ کچھ ’’ٹیکنالوجی‘‘ بھی سیکھی یا حاصل کی، اس طرح دنیا بھر میں ہونے والی تجارتی چالاکیاں اور اخلاقی اثرات بھی ان کے اندر سرایت کرگئی تھیں۔

یوں سمجھیے کہ جس طرح دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے، اسی طرح’’خوراک‘‘بھی جب اندر ہوتی ہے تو ’’اثر‘‘رکھتی ہے اور اس کا مشاہدہ ہم نے افغان مہاجرین میں اچھی طرح کرلیاہے۔ان کے آنے اور تشریف لانے سے پہلے ہمارا روپیہ ’’کلدار‘‘کہلاتا تھا اوراس کی بازار میں ایک شان تھی، آن تھی اور بان تھی لیکن کم بخت ’’افغانی‘‘کی ’’صحبت بد‘‘میں رہ کر یا افغانیوں کے ہاتھوں سے چھوکر افغانی سے گیا گزرا، بے قیمت، بے وقعت اور بے عزت ہوگیا ہے۔پہلے جب ’’کلدار روپیہ‘‘ بازار میں نکلتا، دکانیں، دکاندار اور اشیاء ایک دم کھڑے ہوکر اپنے ہاتھ سینے یا پیشانی پررکھ کر اہلاً وسہلاً ومرحبا کا ورد کرنے لگتے تھے۔

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

جب راجا بھوج پاکستان میں، مودی ہندوستان میں اور امریکیوںکے ہاں ٹرمپ آگیا اور اب؟ دیکھ کر جی دکھنے لگتاہے۔ دکاندار تو دکاندار، بچے اور فقیر بھی اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں اور پشاوری دکاندار کی طرح  ’’مخکے لاڑ شہ‘‘(پرے ہٹ) کہہ رہے ہیں۔ خیر یہ تو ہونا تھا ’’اتنے امراض‘‘اگر پتھر کو بھی لاحق ہوجائیں تو وہ ریزہ ریزہ ہوکر ریت بن جائے۔بات ہم تجارتی ہوشیاری کی کررہے ہیں، اسے پشتو زبان میں ’’لسبولا‘‘اپنی طرف مارنا یا چھٹ بھی میری اور پٹ بھی میری کہاجاتا ہے۔ افغانیوں نے ایک غضب تو یہ کیا کہ وہ وہ چیزیں بھی تولنے اور ناپنے لگے جو اس سے پہلے ہمارے ہاں تولی یا ناپی نہیں جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   چلو چلو کابل چلو

جیسے گوبھی،تربوز اور لکڑیاں وغیرہ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ کم از کم ہمارے ایریا سے جلدی نکل گئے ورنہ شاید کیلے اور مالٹے بھی تولنا شروع کر دیتے۔ (افغانستان میں تولے جاتے ہیں)۔لکڑیوں میں ہمارے ہاں صرف دیودار یا شیشم کی لکڑی ناپی جاتی تھی لیکن افغانیوں نے توت،انجیر اور پاپولر کو بھی تولنا اور ناپنا شروع کر دیا۔ یہاں تک بھی ٹھیک ہے ، ناپ تول کوئی برُی بات نہیں ہے۔ لیکن اس میں جو کمال انھوں نے ڈالا، وہ کمال کا ہے۔ ہمارے علاقے میں دو بہت بڑے بڑے مہاجرکیمپ تھے جن کی آبادی پشاور شہر سے بھی زیادہ تھی۔ ان کیمپوں کے مہاجر اکثر لکڑی کی تجارت کرتے تھے۔

علاقے میں ایک خاص درخت کی بہتات ہے جسے ’’غز‘‘ کہا جاتا ہے۔ پنجابی میں شاید کھگل کہاجاتا ہے۔ ڈی آئی خان میں اس لکڑی سے آرائشی چیزیں بنانے کی صنعت زیادہ ہے۔اس کے تنکوں سے ٹوکریاں وغیرہ بھی بنائی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر دکانوں کی کڑیاں اور شہتیر اور ستون اسی لکڑی کے ہوتے ہیں، دروازے کھڑکیاں بھی اس سے بنائی جاتی ہیں۔ بے پناہ سخت اور پائیدار لکڑی ہوتی ہے۔ہم نے پرکھوں کے مکانات کی لکڑیاں دوبارہ بلکہ کئی کئی بار استعمال ہوتے دیکھی ہیں، کچھ عرصہ پہلے تک ہم جس مکان میں ساٹھ سال سے رہ رہے تھے، اس میں ہمارے دادا اور والد بھی رہ چکے تھے اورا ب بھی اس کی لکڑی ویسی کی ویسی تھی۔

افغانی لوگ یہاں وہاں کھڑے درخت خرید لیتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر سکھا لیتے تھے، پھر گراں قیمت پر بیچا کرتے تھے۔لیکن اس میں ایک کمال کا حسن تجارت ان لوگوں نے پیدا کیا تھا، ایک مرتبہ ہمارے ایک دوست کسی اور علاقے سے لکڑیاں  خریدنے آیا۔تو ہم بھی ساتھ ہوکر کیمپ کے گوداموں میں پہنچے۔ایک شخص سے بات بن گئی، فٹ واری کے حساب سے۔چنانچہ اس نے لکڑی کی گولائی اور لمبائی ناپ کر حساب لگایا اور رقم وصول کرلی۔رقم کو اپنی جیب میں اچھی طرح محفوظ کرنے کے بعد اس نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور فروخت شدہ لکڑی کا چھلکا یا کھال اتارنے لگا۔غز کی لکڑی کا چھلکا نصف انچ سے بھی زیادہ موٹا ہوتا ہے۔اور وہ اس چھلکے کو لکڑی کے ساتھ ناپ میں شامل کر چکا تھا۔ ہمیں حیرت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: -   ہماری ریل پر رحمت خدا کی (حصہ دوم)

پوچھا، بحث کی کہ آخر جو چیز تم نے رکھنا تھی تو اسے ہمارے لیے ناپی کیوں۔لیکن اس نے کہا کہ یہی اصول ہے مارکیٹ کا،کہ لکڑی چھلکے سمیت ناپی جاتی ہے اور چونکہ چھلکا کسی کام کا نہیں ہوتا تو ہم ایندھن کے لیے رکھ لیتے ہیں۔غالباً مچھلی، مرغی، گوبھی اور کئی چیزوں میں بھی یہی ’’اصول دیانت‘‘ کار فرما ہے۔برف کے باٹ اور دھوپ اور کس کو کہتے ہیں؟

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں