Columns of Amjad Islam Amjad 172

خیر بانٹو …خیر ملے گی

ٹی وی پر ظہور پذیر ہونے والے ہر نئے سکینڈل یا واقعے کی اوسط عمر عمومی طورپر تین دن سے ایک ہفتے کے درمیان ہوتی ہے کہ پھر اس کی جگہ کوئی نیا سکینڈل یا واقعہ لے لیتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد یہ یاد کرنا بھی مشکل ہوجاتاہے کہ جس بات کا اتنا شور تھا وہ بات تھی کیا؟

آٹھ دس دن پہلے تک ، جب تک صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہِل پر ہلہ نہیں بولا تھا، تیسری دنیا کی مخصوس معذرت خوانہ سوچ کے حوالے سے میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ صنعتی اور علمی انقلابات کی اُن دو صدیوں میں ، جن میں ہم لوگ غلامی اور غفلت کے شکار تھے اور مغرب والے اپنے معاشروں اور افراد کو ہر اعتبار سے بنا سنوار رہے تھے، دونوں تہذیبوں میں اس قدر فرق پیدا ہوچکا ہے کہ اب ہمیں اُن جیسا بننے میں دو نہیں تو کم از کم ایک صدی تو انتظار ضرور کرنا پڑے گا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جہالت ، بدتہذیبی، سائنس سے دُوری اور معاشرتی پسماندگی کے جتنے الزامات ہم پر لگائے جاتے ہیں، اُن پر پورا اُترنے میں پہلی دنیا کے ان مہذب اور متمدن لوگوں نے چند گھنٹوں سے زیادہ کا وقت نہیں لیا۔

نیویارک میں بجلی فیل ہوتی ہے تو یکدم پورا معاشرہ جنگل کا سا معاشرہ بن جاتاہے جب کہ تیسری دنیا کے ’’ گھٹیا لوگ‘‘اپنے آپ کو فرسٹریشن اور حکومتِ وقت کو مزیدبُرابھلا کہنے سے آگے نہیں جاتے ۔ اس موازنے سے مراد کسی کو اُونچا یا نیچادکھانا نہیں صرف اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ مجموعی طور پر کُرہ ارض پر موجود ہر شخص اور معاشرے کو بہتر انسان بننے کے لیے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک وطنِ عزیز کا تعلق ہے میں سمجھتاہوں کہ ہم میں سے ہر فرد کو اسی بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ میڈیا پر ہونے والی اس مسلسل تُو تُو میں میں کا عوام کی زندگی اور ان کے اصل مسائل سے کیا تعلق ہے؟ اپوزیشن کے اتحاد سے اُن کے معیارِ زندگی پر کیا فرق پڑتا ہے اور حکومت کے مختلف شعبوں میں ترقی کے دعووں نے اُن کے لیے کیا آسانی مہیا یا پید اکی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: -   کلوپیٹرا کون تھی؟

جمہوریت کا تصور یا اُسے نافذ کرنے کا کوئی بھی نظام ہو اس کی بنیاد عوام کی بہبود اُن کے حقوق کی حفاظت اور بنیادی ضروریات کے تحفظ کی فراہمی ہوتی ہے۔ حکومت ماضی اور اپوزیشن حال اور مستقبل کے حوالے سے ایک دوسرے پر بم باری کرتے رہتے ہیں کہ یہ اُن کے کام کا ایک حصہ ہے ۔ لیکن ا س جزوٗ کو جس طرح ہم نے کُل کی شکل دے دی ہے، وہ یقینا جمہوریت کا مطمع اور مقصد نہیں ہے، دونوں طرف سے ایک دوسرے پر تنقید برحق لیکن جس تنقیدسے عوام کی زندگی میںکوئی مثبت تبدیلی نہ آسکے، وہ سوائے ایک طرح کی دھوکا منڈی کے اور کچھ نہیں ہوتی۔ سو اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اُن باتوں کو اہمیت اور اوّلیت دی جائے جو بامعنی اور بامقصدہونے کے ساتھ ساتھ نتیجہ خیز بھی ہوں۔

مثال کے طور پر معاشی ترقی کے انڈیکس میں تاریخ ساز بڑھوتی سے اگر لوگوں کی آمدنی ، قوّتِ خرید، مہنگائی، اشیاء کی آسان دستیابی، روزگاراور کاروبار کے مسائل حل نہیں ہوتے یا اُن میں ایسی تبدیلیاں رُونما نہیں ہوتیں جن کا صرف رُخ ہی بہتری کی طرف نہ ہو بلکہ یہ بہتری کسی نہ کسی شکل میں دکھائی بھی دے تو اُن کے ا علان یا تکرار کاحقیقی معنوں میں کوئی مطلب نہیں، اسی طرح اگر اپوزیشن کے نمایندہ لوگ حکومت کے نام نہاد غلط کاموں سے پاکستانی عوام کو آگاہ اور خبردار کرتے ہیں اور اُن کا کوئی متبادل حل بھی سوائے حکومت کی تبدیلی کے پیش نہیں کرتے کہ جس سے عام آدمی کے مسائل کم یا حل ہوسکیں تو اس ساری چیخم دھاڑ کو وقت کی بربادی کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: -   سیاسی جماعت اور سیاسی فرقہ

ایک ایسی اجتماعی دانش جس میں عوام اور اُنکے نام پر سیاست کرنیوالے ایک پیج پر ہوں معاشرے کے لیے مثبت اور بامقصد ترقی کی بنیاد ہے، سو ایک بار پھر میں نے چند دانائی کی باتیں دنیا بھر کے اہلِ فکر و نظر کے بیانات سے اخذ اور مرتب کی ہیں جن کا مطالعہ اور معانی پر غور اور عمل یقینا ہم سب کو ایک بہتر سوچ کا حامل انسان بنا سکتا ہے، اگر چہ میرے پاس ان باتوں کے لکھنے یا کہنے والوں کے نام اور حوالے بھی موجود ہیں مگر میں جناب علی مرتضیٰؓ کے اس قول پرعمل کرتے ہوئے کہ ’’یہ نہ دیکھو کون کہتاہے یہ دیکھو کیا کہتا ہے‘‘انھیں درج کرنے سے احتراز کرتا ہوں اور براہ راست آپ کو ان جواہر پاروں کی فضا میں لیے چلتا ہوں، آپ اسے میری طرف سے نئے سال کا تحفہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔

’’زندگی اس طرح سے گزارو جیسے کہیں کوئی تمہیں نہیں دیکھ رہا ہواور اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش اس طرح سے کرو جیسے ہر کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘۔

’’درخت مجھے صبر کا درس دیتے ہیں اور گھاس استقلال کا‘‘

’’ہر روز اپنے آپ کو بہتر بننے اور بہتر کرنے کا چیلنج دو یاد رکھو کہ ترقی شروع ہی اُس وقت ہوتی ہے، جب تم اپنے موجودہ حالات سے باہر نکلنے کا فیصلہ کرتے ہو ‘‘’’قرض ہمیشہ کسی قنوطیت پسند انسان سے لو کیونکہ اُسے واپسی کی اُمید پہلے ہی کم ہوگی‘‘۔’’کسی کام کا نقطہ آغاز اور سفر کا پہلا قدم ہی سب سے مشکل ہوتا ہے۔‘‘’’خدا کے چُنے ہوئے لوگ ہی دوسروں کادرد چنتے ہیں یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں‘‘۔’’تجسس، تخلیق، ایجاد اور حیرت صرف جوانی ہی سے متعلق نہیں ہوتے کہ ان کا تعلق علم حاصل کرنے اور سیکھنے سے ہے اگر تم جوان رہنا اور جوانی کی کیفیات کو زندہ رکھنا چاہتے ہو تو اُن دوستوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھو۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   پہلے پارے کا خلاصہ

’’اپنی پسندیدہ زندگی کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ اُس زندگی کو ترک کرو جس کو تم پسند نہیں کرتے۔ یہ پہلا قدم سب سے مشکل ہوتاہے لیکن اس کے بعد سفر خود بخود آسان ہوتا چلاجاتا ہے اور ہر قدم آپ کو آپ کی منزل کے قریب تر لاتاہے، یہاں تک کہ جو چیزایک وقت میں محض ایک خواب اور تصور تھی، نظر آنا شروع ہوجاتی ہے اور جو ایک وقت میں ناممکن لگتا تھا، وہ سراسر ممکن ہوجاتا ہے۔ ‘‘

’’ہمیں ایک دوسرے کو اپنی اپنی ترقی کے لیے جگہ دینے کی ضرورت ہے، اپنے لیے ’’وسعت‘‘ کا راز دوسروں کو جگہ دینے میں ہے کہ اس کی معرفت ہمیں خوب صورت چیزیں ملتی چلی جاتی ہیں جیسے نظریات، کشادہ قلبی، عزتِ نفس، خوشی ، باطنی صحت اور اشتراک۔‘‘

’’جب کبھی ہم کسی خوف کا سامنا کرتے ہیں ،ہمیں وہ ہمت، طاقت اور اعتماد ملتا ہے جو ہمیں آگے کی طرف لے کر جاتاہے ، چیزوں کو بدلنا لوگوں کے بدلنے سے کہیں آسان ہوتاہے، اصلی فاتح وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ذہن اُس وقت بھی مستحکم رہتا ہے جب جسم شکست پر آمادہ ہوچاہے آپ’’پہلے‘‘ نمبر پر نہ بھی آئیں لیکن آپ کو اُس وقت تک مقابلے میں شریک رہنا ہے جب تک دوڑ ختم نہیں ہوجاتی‘‘۔’’ذکرِ الٰہی سے آپ کا سارا بدن خود بخود اصلاح کی طرف چل پڑے گا اور تمہاری زبان تمہارے دل کی کھیتی ہے، اس میں اچھی فصل بوئو گے تو اچھائی ہی اُگے گی۔‘‘

بشکریہ: ایکسپریس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں