Columns of Saadullah jaan barq 19

سیلاب کا دوسرا پہلو

آپریشن کے بعد مریض کو ہوش آیا تو سرہانے کھڑے ہوئے ڈاکٹر نے کہا، ہمارے پاس تمہارے لیے دو خبریں ہیں، ایک اچھی اوردوسری بری۔ پہلے کونسی سناؤں؟ مریض نے کہا، پہلے بری خبر سنادو، تو ڈاکٹر نے کہا، تمہاری دونوں ٹانگیں کاٹ لی گئی ہیں۔ مریض نے پوچھا اور وہ اچھی والی خبر کیا ہے، تو ڈاکٹر نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ پاس کے وارڈ میں ایک مریض تمہارے جوتے خریدنے کے لیے آمادہ ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ واقعے، ہر خبر اور چیزکے دو پہلو ہوتے ہیں، اچھا اور برا۔ اس لیے ہمیں اس کا دھیان رکھنا چاہیے مثلاً اب جو سیلاب ہے، اس کا برا پہلو تو سب کو معلوم ہے کہ گھر برباد ہوئے، انسان مرگئے، جانور بہہ گئے، فصلیں تباہ ہوگئیں لیکن اس کا ایک اچھا پہلو بھی ہے لیکن ’’اچھے پہلو‘‘ کا ذکر کرنے سے پہلے ہم رحمان بابا کا ایک شعر سناناچاہتے ہیں کہ

کہ قسمت دے دہ زمری پہ خولہ کے ورکا
دہ زمری پہ خولہ کے خیر غواڑہ لہ خدایہ

ترجمہ: اگر قسمت تجھے شیر کے منہ میں بھی ڈال دے تو شیر کے منہ میں بھی خدا سے خیر مانگو ’’اللہ خیر، اللہ خیر‘‘

سیلاب کے ساتھ ساتھ آپ ان امدادوں کی خبریں بھی پڑھ رہے ہو ں گے کہ یہاں وہاں سے امدادی پیکیج دھڑادھڑ چلے آرہے ہیں اور اب ان امدادوں کو تقسیم کرنے ’’دیانت دارخادم اور مخیر بھی انٹری دیں گے‘‘ یعنی بلیوں کے ذریعے گوشت کی تقسیم بھی ہوگی۔

گزشتہ سیلابوں کو کافی عرصہ ہو چکا ہے، اس لیے کہانی میں نئے ٹوسٹ کی ضرورت تھی اور وہ آگیا ہے، گزشتہ سیلاب کے بعد جب نقصانات کا اندازہ لگایا جانے لگا تو اپنے گاؤں میں یہ کام جس کمیٹی کے سپرد ہوا، اس میں ایک پٹواری، ایک یونین کونسل کے ممبرکے ساتھ ہم بھی تھے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا، صرف ایک دیوارکے بارے میں پتہ چلا کہ بارش کی وجہ سے گری، سو ہم نے بھی اس شخص کا اندراج کیا لیکن جب کچھ عرصہ بعد ’’وطن کارڈ‘‘ کی فہرست آئی تو تین سو اسی ’’متاثرین‘‘ کا اندراج ہوا تھا اور یہ قصہ تو شاید ہم سنا چکے ہیں کہ متعلقہ ادارے کا ایک کارکن ہمارا شناسا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   اللہ ہی رحم کرے

اس نے بتایا کہ ہم جب فہرستیں بنا رہے تھے، تو اس گاؤں کا ایک شخص کسی اور کام سے آیا اس نے دیکھا تو پوچھا، ہمارے گاؤں کا اندراج کیوں نہیں، سیدھی سی بات تھی ہم نے اسے بتایا کہ یہ سیلاب زدگان کی فہرست ہے اور تمہارے پہاڑی گاؤں کو سیلاب چھو کر بھی نہیں گزرا، لیکن وہ مصر تھا کہ ہمارا گاؤں بھی شامل کیا جائے، پھر دوسرے تیسرے دن اس گاؤں کے ایم این اے کا فون آگیا کہ میرے گاؤں کا بھی ’’حق‘‘ ہے، پھر اس نے اسی (80) لوگوں کے نام بھیجے اور وہ بھی سیلاب زدگان میں شامل ہوگئے۔

مطلب یہ کہ سیلاب کے ساتھ اگر ’’سیلاب زدگان‘‘ پیدا ہو جاتے ہیں تو سیلاب زدگان یا سیلاب یافتہ گان بھی ہو جاتے ہیں۔

یہاں پر ایک اور کہانی یاد آتی ہے، ایک گاؤں کے قریب حادثہ ہو گیا، ایک بس اور ٹرک کے اس تصادم میں کئی لوگ مر گئے اور بے شمار زخمی ہوئے، پاس کے گاؤں کے لوگ ’’امداد‘‘ کو پہنچے تو سب سے پہلے مرے ہوؤں اور زخمیوں کی تلاشی ضروری سمجھی، زیورات، نقدیات اور جو کچھ بھی ہاتھ لگا، یہاں تک کہ گھڑیاں اور پن بھی لوٹ لیے گئے۔

یہ بات پھیل گئی تو اس گاؤں کے لوگوں کے بارے میں طرح طرح کے لطیفے بھی پھیل گئے مثلاً بھئی میں تمہاری پائی پائی ادا کردوں گا، ذرا ڈھنگ کا کوئی ایکسیڈنٹ تو ہو جانے دو۔ یا یہ کہ بیٹا مجھے تمہاری شادی کی فکر ہے، دعا کروکوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔ پھردھوم دھام سے تمہاری شادی ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: -   یومِ شہدا اور دفاعِ وطن

چنانچہ سیلاب کا صرف ایک پہلو مت دیکھیے، دوسرا خیرکا پہلو بھی دیکھیے۔کتنے بیچارے ہوں گے جو اب تک صرف تنخواہ یا کرپشن پرگزارا کر رہے ہوں گے۔

قصے پر قصہ یاد آرہا ہے، سابق ایم این اے کے بیٹوں، بھتیجوں کی شادی کی تقریب تھی، ہم مدعو تھے، پہنچے تو ایک بہت بڑے پنڈال میں انتظامات تھے، جگہ جگہ بڑے بڑے پنکھے نصب تھے، بیس پچیس تو ہوں گے اور سب پر لکھا تھا سیلاب زدگان کے لیے، موصوف کو اپنے اوپر اتنا بھروسہ تھا اور حکومت پر بھی کہ یہ الفاظ مٹانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ بہرحال وہ تو سب کو معلوم ہے کہ کس طرح سے ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

امور مصلحت ملک خسرواں دانند

گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروس

ویسے اگر کوئی ہم جیسا ’’گدائے گوشہ نشین‘‘ چاہے بھی تو کیا کرسکتا ہے کہ جو چل رہا ہے، وہ چلتا رہے گا۔

ایک اور ایم این اے کی جب ممبری ختم ہوئی، ہم نے بچشم خود وہ گودام دیکھا تھا جس میں قریباً دو سو سائیکلیں اور ڈھائی سو سلائی مشینیں موجود تھیں۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں