adnan-khan-kakar 9

شیطان کی عبادت کرنے والے کالے جادوگر

زیادہ کتابیں پڑھ کر دیوانے ہونے والے سائنس زدہ لوگ چاہے جو بھی کہیں لیکن ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ چند علوم سائنس سے بھی بالاتر ہوتے ہیں جنہیں پیرا سائنس یا پیرا نارمل علوم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اب بعض سائنس پرست کہیں گے کہ لفظ پیرا قدیم یونانی سے آیا ہے، جس کا مطلب کسی چیز کے ساتھ یا اس کی ضد ہونا ہے۔ اسی لفظ کا ایک دوسرا ماخذ لاطینی لفظ پارو بھی بتایا جاتا ہے، جس کا مطلب کسی چیز سے تحفظ دینا یا اس کے خلاف ہونا ہوتا ہے۔ تو پیرا سائنس کا مطلب ہوا سائنس کے خلاف یا سائنس سے بچانے والی چیز۔

ذی شعور افراد ایسی کسی علمی الجھن میں مبتلا ہوں تو فوراً اچھے علمی ماخذ سے رجوع کرتے ہیں۔ کولنز انگلش ڈکشنری میں لفظ پیرا سائنس کا مندرجہ ذیل مطلب موجود ہے : ایسے موضوعات کا مطالعہ جو روایتی سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہیں کیونکہ ان کی وضاحت قبول شدہ سائنسی تھیوری یا روایتی سائنسی طریقوں سے نہیں کی جا سکتی۔

یعنی یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پیرا سائنس واقعی سائنس سے بالاتر ہے اور وہ اس کی تفہیم کرنے یا اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔

پیرا سائنس میں سب سے زیادہ اہم جادو ہے، اور جادو میں اہم ترین کالا جادو۔ بعض خدا پرست لوگ سفید علم کے بھی ماہر ہوتے ہیں، لیکن ایسے اللہ والے دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہنا بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے آپ انہیں کبھی ڈھونڈ نہیں پاتے۔

یہ بھی پڑھیں: -   چھبیسویں پارے کا خلاصہ

ہمارے ہاں کالا علم کرنے والوں میں بنگال کے جادوگر زیادہ مشہور ہیں۔ بہرحال جادوگر خواہ بنگال کا ہو یا کراچی کا، لاہور کا ہو یا اسلام آباد پنڈی کا، جادو کا بنیادی طریقہ کار ایک ہی ہوتا ہے۔ جادوگر کے لیے لازم ہے کہ وہ نہ صرف خود بہت زیادہ گندا ہو بلکہ گندی چیزیں بھی پسند کرے۔ سیاہ رنگ جادو ٹونے میں اہم ہے۔ جادوگر کالے کپڑے پہنتے ہیں، زیادہ سے زیادہ وقت شیطان کی عبادت کرنے میں بسر کرتے ہیں، اور وہ کالے مرغے اور کالے بکرے جیسے جانوروں کو شیطان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے کالے اعمال میں تاثیر پیدا کرتے ہیں۔ وہ عمل کے دوران موکلوں کے ضرر سے خود کو بچانے کے لیے اپنی ذات کے ارد گرد مختلف حصار قائم کر لیتے ہیں جنہیں توڑنے کی کوشش کرنے والا موکل سزا پاتا ہے اور خوب پچھتاتا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ کالا جادو کرنے والا شخص ننگ دھڑنگ ہوتا ہے اور قبرستانوں میں رہتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہری علاقوں میں ان کالے جادوگروں کا حلیہ عام افراد جیسا ہی ہوتا ہے۔ وہ پینٹ کوٹ پہنتے ہیں۔ بسا اوقات اوپر کالا دو شالہ بھی اوڑھ لیتے ہیں۔ ان کی کنگھی پٹی عام لوگوں جیسی ہوتی ہے۔ محض انہیں دیکھ کر ان کے کالے اعمال کا علم نہیں ہو سکتا۔

ضروری نہیں کہ کوئی شخص خود سے شیطان کی راہ پر چلے اور اسے اپنا معبود بنا لے۔ ڈائجسٹوں میں لکھی جانے والی داستانیں پڑھ کر ہم یہ بات جان چکے ہیں کہ کئی مرتبہ بظاہر ایک عام سے شخص کو بھی اس کی کسی روحانی صفت یا دنیاوی مقام کی وجہ سے شیطان خود منتخب کر لیتا ہے۔ اس شخص کی کوئی کمزوری شیطان کے ہاتھ آ جاتی ہے اور پھر وہ بے بس ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   استاد نالائق نکلے اور بچے لائق

بسا اوقات شیطان اس شخص کو مال دولت اور بے پناہ طاقت کا لالچ دے کر اسے اپنا پیروکار بنا لیتا ہے۔ کئی مرتبہ شیطان حسین لڑکیاں بھیج کر ان کے ذریعے نیک افراد کو سر تا پا ٹریپ کرتا ہے اور پھر وہ گندگی میں اس حد تک لتھڑ جاتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں شیطان کے اشاروں پر ناچنا پڑے گا ورنہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ وہ مجبوری کی حالت میں شیطان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے بھینٹ دیتے ہیں، اس کے ہر حکم کو بجا لاتے ہیں اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہوتے ہیں۔

شیطان ان اعمال سے خوش ہوتا ہے جن سے لوگ مصیبت میں مبتلا ہوں۔ مثلاً وہ محبت کرنے والوں کے دل ایک دوسرے سے پھیر دیتا ہے۔ خوش خرم گھرانے توڑ دیتا ہے۔ جلنے والوں سے پیسے لے کر ان کے اقارب اور دیگر دشمنوں کو تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ لوگوں کو فحاشی اور بے حیائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ کسی اچھے حکمران کو اپنے کالے عمل کے ذریعے اقتدار سے محروم کر دیتا ہے اور اس کی جگہ کسی نا اہل شخص کو حکمران بنا کر ملک کو تباہ کر دیتا ہے۔ شیطان کو خوش کرنے کے لیے کالا عمل کرنے والے جادوگر ایسا سب کچھ کرتے پائے جاتے ہیں۔ بدلے میں شیطان انہیں مزید طاقت ور بنا دیتا ہے۔

لوگ انہیں دل ہی دل میں برا سمجھتے ہیں اور بہت گالیاں دیتے ہیں لیکن ان کی بدی سے بچنے کی خاطر انہیں برا کہنے سے احتراز برتتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   نشئیوں کا ملک

ہمارے ہاں کالے جادو کا استعمال عام معاشرتی اور سیاسی زندگی میں عام ہے۔ خدا کالے جادوگروں اور شیطان کی عبادت کرنے والے کالے پجاریوں کے شر سے سب کو بچائے۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں