Columns of Saadullah jaan barq 11

ہیں گے، کا ایک اور’’ہیں گے‘‘

اب کے ہمارے خوش قسمت صوبے خیرپخیر عرف کے پی کے کو جو ’’ہیں گے‘‘ ملاہے، وہ کمال کا ’’ہیں گا‘‘ ہے۔ بہت کم عرصے میں اس نے صوبے کے تمام مسائل کو، چاہے وہ زمین پر ہوں یاآسمان میں یا پاتال میں یاکسی ستارے میں سب کو ’’ہیں گے‘‘ کردیا ہے۔

ہیں گے، ایک انڈین ڈرامے کاکردارتھا، پیشے سے وکیل بلکہ سرکاری وکیل تھا لیکن ٹاپ کلاس نالائق ہونے کے باوجود شورشرابا ڈالنے میں یدطولیٰ رکھتا تھا، اس کاتکیہ کلام ’’ہیں گے‘‘ ہیںگا،ہیں گی، تھا۔ اس لیے یہی اس کی عرفیت پڑگئی۔جس ’’ہیں گے‘‘کا ہم ذکر کررہے ہیں، اب تک ان مسائل کو تو ’’ہیں گے‘‘ کر چکا ہے جو پیداہوئے ہیں لیکن اس سے بھی آگے ، ان مسائل کو بھی ’’ہیں گے‘‘ کرچکاہے جو ابھی پیدانھیں ہوئے ہیں چنانچہ اس وقت صوبے کی حکومت اورعوام ساتھ مل کرڈھونڈ رہے ہیں کہ کہیں کوئی مسلہ یہاں وہاں مل جائے اوروہ اسے ’’ہیں گے‘‘ کردیں۔

اورخوش قسمی سے وہ مسلہ مل گیا،یہ مسلہ قبرستانوں، پلوں کے نیچے فٹ پاتھوں پر، پارکوں میں، سڑکوں کے کنارے درختوں اورکھنڈرات میں پڑا ہوا مل گیا چنانچہ ’’ ہیں گے‘‘ نے کہہ دیاکہ ،صوبے کو نشے کے عادی افراد سے پاک کرکے ’’ہیں گے‘‘ اوریہ ایک ایسا مسلہ ہے کہ خلق خدا میں سے کسی بھی مخلوق کے بس کانہیں ہے، چاہے وہ جنات یا دیو یاکوئی اورمخلوق کیوں نہ ہو یعنی صرف وہ ایک خالق ہی اسے اگر چاہے تو حل کرسکتاہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جتنے ذرایع اس مسلے کو حل کرنے کے ہیں، وہی اسے دن دگنی رات چوگتی ترقی بھی دے رہے ہیں، تقریباً ہرتھانے، چوکی یاایسے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک غیررسمی شاخ کسی ہوٹل، دکان یااورجگہ چل رہی ہے۔
جہاں ’’قانون‘‘کی اپنی نگرانی میں ہرقسم کا ’’مال‘‘ دستیاب ہوتاہے۔کافی عرصہ پہلے پشاورکی ایک آبادی میں ایک کریانے کا دکاندارتھانے کی نگرانی میںمنشیات بیچتاتھا، پھر اس نے حج کیااورتوبہ تائب ہوگیا لیکن منشیات پھر بیچنے لگا۔ ہم نے اس سے کہا ،کم بخت آدمی، جب نیکی کے راستے پر چل پڑے ہو تو یہ دھندہ بھی چھوڑدو۔ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا، نہیں چھوڑ سکتا۔کچھ عرصے کے لیے چھوڑچکاتھا لیکن تھانے والوں نے کہا، اب نہیں چھوڑسکتے، اگر چھوڑوگے تو ایک تو تمہیں ہمیں اتنی رقم ہر ماہ دینا پڑے گی،چاہے بیچو یانہ بیچو۔میں اس پر بھی تیارہوگیا تھاکہ چلو بھتہ دیے دیاکروں گا لیکن یہ دھندہ نہیں کروں گالیکن دھمکی نمبردو پر مجبور ہوگیا۔ ہم نے پوچھا، دھمکی نمبردو کیا تھی؟ بولا، دس بارہ جرائم اوردفعات میں گرفتاری بلکہ ان دھمکیوں کے پیچھے ایک اوردھمکی بھی تھی جو الفاظ کے بغیر میری سمجھ میں آگئی کہ اتنے رازوں سے واقف شخص کو غائب بھی کیاجاسکتاتھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   اصغر ندیم سید کا دشتِ امکاں !

اس نے انکشاف کیا کہ وہ صرف منشیات نہیں بیچتاتھا بلکہ تھانے کی کچھ اور’’خدمتییں‘‘ بھی کرتاتھا، کوئی قیمیتی چیزجیسے کلاشنکوف یاکوئی اصل ہتھیارتو اس کے نقلی متبادل مہیاکرنا بھی اس کاکام تھا اوراصلی کو بازارمیں اصلی قیمت بیچنابھی،چنانچہ اس کے پاس نقلی ہتھیاروں اوردوسرے قیمتی سامان کاسٹاک بھی موجود رہتا تھا، ادھراصل کلاشنکوف پکڑی گئی اورادھرراتوں رات اس نے نقلی کلاشنکوفوں پر وہی نمبرڈال کرپیش کردیا۔اس طرح گاڑیوں کے ٹائر،انجن ،ٹیپ ریکارڈ رزیاٹی وی، فریج وغیرہ کے خالی کوکھے مہیاکرنا یہاں تک کہ نقلی زیور بھی۔خیریہ ایک الگ بڑی دنیاہے جس میں منشیات کو جلانے کاڈرامہ بھی شامل ہے اورچھوٹے چھوٹے اسمگلروں کی گرفتاریاں بھی،جب کہ اصلی اوربڑے مگرمچھوں کو بچانے اور کارکردگی دکھانے کاایک ڈرامہ ہے ۔

ہماراگاؤں ٹرکوں کاگاؤں ہے اورٹرک والوں کے پاس اس سلسلے میں بہت زیادہ معلومات ہیں اوریہ معلومات ان کو اب حاصل ہوئی ہیں جب کوئی پندرہ بیس ٹرک والے منشیات میں برباد ہوچکے ہیں ،کچھ میلوںمیں، کچھ نے اپنی زمینں اورگھرتک بیچ ڈالے ہیں۔

ہوتا یوں ہے کہ کوئی ایک ٹرک والاچند پھیرے لگاکرمالدارہوجاتاہے بلکہ ’’ہونے‘‘دیاجاتاہے جس سے دوسروں کو بھی ترغیب ہوتی ہے یادلائی جاتی ہے چنانچہ لالچ میں آکر وہ بھی ’’پھیرا‘‘لگاتاہے لیکن وہ یہ نہیں جانتاکہ بڑے ڈیلراورقانون نافذکرنے والوں کی آپس میں ساجھے داری ہوتی ہے، وہ مافیا تو محفوظ رہتا ہے لیکن یہ نئے پھیرے باز بڑی آسانی سے پکڑے جاتے ہیں یاپکڑوادیے جاتے ہیں۔ یوں یہ چھوٹی چھوٹی مچھلیاںدکھاوے کی کارگزاری میں خرچ ہوجاتے ہیں تاکہ قانون نافذکرنے والوں کے اپنے پالے ہوئے مگرمچھ آرام سے اپنا کام کرتے رہیں ،منشیات پکڑی بھی جاتی ہیں اورنہیں بھی پکڑی جاتی کیوں کہ پکڑے جانے والامال اس دوسرے راستے سے حق داروں اورساجھے داروں تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   باور آیا ہمیں خاکی کا ہوا ہو جانا

یہاں ایک اوربڑے نکتے کی بات ہوتی ہے۔ وہ جس منشیات فروش دکاندارکاابتدامیں ہم نے ذکر کیاہے جو ’’چھوڑنا‘‘ چاہتاتھا لیکن نہیں چھوڑنے دیا جارہاتھا، وہ پولیس کے دوسرے کام بھی کرتارہتاتھا چنانچہ اس نے بتایاکہ میرے پاس پہلے سے ’’آرڈر‘‘ موجود ہوتے ہیں ،کسی کو کسی بھی چیزکی ضرورت ہوتی ہے تووہ مجھے بتادیتاہے بلکہ سائی بھی دے دیتاہے، میں اپنے دوستوں کو وہ آرڈرنوٹ کرادیتاہوں اورجیسے ہی وہ چیزپکڑی جاتی ہے، سارالین دین ایک رات میں مکمل ہوجاتاہے ۔

وہ ایک فلم کامنظریادآتاہے ،ایک ایسے ہی دکاندار کو منشیات بیچتے دیکھ کر ایک شریف آدمی کہتاہے، میں یہ بات پولیس والوںکو بتادوں گا۔ دکاندارکہتاہے، یہ جو آدمی تمہارے سامنے میرے ہاتھ ’’مال‘‘بیچ کر گیاہے، پولیس کاآدمی ہی تھا۔ اورہمارا’’ہیں گے‘‘ کہتا ہے کہ صوبے کو منشیات کے عادی افراد سے ’’پاک‘‘ کرکے ’’ہیں گے‘‘ ضرور ’’ہیں گے‘‘لیکن اس کتے کاکیا کرکے ہیںگے جو کنوئیں کی تہہ میں پڑا ہیں گا۔

ہمیں اپنی مسجدکا وہ ’’خادم‘‘اکثریادآتا ہے جوکسی کی گھڑی گم ہونے پر ’’اعلان گمشدگی‘‘کررہا ہوتا تھا لیکن وہ گھڑی خود اس نے اپنی ڈب میں چھپائی ہوتی تھی۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں