adnan-khan-kakar 8

موروثیت کے خاتمے کے لیے چند تجاویز

ہر ذی شعور شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ موروثیت بہت بری چیز ہے۔ اب یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ سیاست دان کا بیٹا سیاست دان بنے اور یوں سیاسی جماعت کی قیادت سنبھال لے جیسے پیروں کا بیٹا اپنی آبائی گدی سنبھالتا ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس پارٹی کے تجربہ کار سیاست دان بھی اس کی قیادت قبول کر لیتے ہیں۔ جو ایسا نہ کریں اور اپنی الگ جماعت بنائیں انہیں عوام قبول نہیں کرتے۔ مناسب ہو گا کہ سیاست دان کی اولاد کے سیاست میں آنے پر پابندی عائد کی جائے۔

موروثیت کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں صدیوں سے علم کو سینہ گزٹ کے ذریعے منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے خاندان اور ذاتیں کسی ایک خاص پیشے سے منسلک ہوا کرتی تھیں۔ کمہار اپنے بچوں کو برتن بنانا سکھاتے، تاجر تجارت کرنا، سپاہی سپہ گیری کرنا اور حکمران حکمرانی کرنا سکھاتے۔ یوں چار پانچ برس کی عمر سے ان کی تربیت شروع ہوتی اور پندرہ سولہ برس کی عمر تک وہ اپنے خاندانی ہنر میں طاق ہو جاتے۔ لیکن اب سکول یونیورسٹیاں یہ ہنر سکھا رہے ہیں تو اس خاندانی سینہ گزٹ کی بھلا کیا ضرورت باقی ہے؟ کیا ایک فریش ایم اے پولیٹیکل سائنس لڑکا، بلاول بھٹو زرداری سے زیادہ سیاست کی سمجھ نہیں رکھتا ہو گا؟

ہم نے بہت غور کیا ہے۔ اگر سیاست میں موروثیت تباہ کن ہے تو ظاہر ہے کہ دوسرے شعبوں میں بھی اس کی وجہ سے تباہی مچ رہی ہو گی۔ اس لیے ان اصلاحات کا دائرہ صرف سیاست تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

خاص طور پر مخدوموں اور پیروں کے بیٹوں کو گدی سنبھالنے سے روکا جائے۔ ہم ابتدائی بڑے صوفی سلسلے دیکھتے ہیں تو وہاں عموماً پیر کا بیٹا پیر نہیں بنتا تھا، بلکہ سب سے زیادہ پہنچا ہوا خلیفہ گدی سنبھالتا تھا۔ پیران چشت پر نظر ڈالیں، سلسلہ کچھ یوں بنتا ہے۔ حضرت معین الدین چشتی، قطب الدین بختیار کاکی، فرید الدین گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیا اور نصیر الدین محمود چراغ دہلوی۔ نوٹ کریں کہ یہ وراثتی سلسلہ نہیں تھا بلکہ سب سے زیادہ قابل خلیفہ گدی سنبھالتا تھا۔ تسلیم کہ قدیم صوفی سلسلوں میں سے پیران ملتان میں چلن اس سے مختلف رہا لیکن پھر شاہ محمود قریشی کی شکل میں ہم وراثتی نظام کے خلاف ایک بڑی دلیل دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   علامہ صاحب سے ایک اور ملاقات!

مناسب ہو گا کہ سرکاری ملازم کی اولاد کے سرکاری ملازم، فوجی کی اولاد کے فوجی اور تاجر کی اولاد کے تاجر بننے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ یہ لوگ اپنے بچوں کو اپنی فیلڈ میں ڈالتے ہیں تو وہ اپنے باپ دادا کے تعلقات اور ان سے حاصل کیا ہوا علم استعمال کر کے عام لوگوں کے بچوں سے آگے نکل جاتے ہیں، جو ظاہر ہے کہ ظلم ہے۔

کسان کے بیٹے کے کسان بننے کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی کرنی چاہیے۔ اس کی بجائے کالج گریجویٹس کو کھیتی باڑی کرنے پر لگایا جائے تاکہ وہ فرسودہ طریقے استعمال کرنے کی بجائے جدید طریقوں کے مطابق پڑھی لکھی کاشت کاری کریں۔

کلاسیکی گلوکاری میں بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ موروثیت کے چکر میں اچھے ٹیلنٹ کو ڈبو دیتے ہیں۔ موسیقار اپنے اپنے گھرانے بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی شام چوراسی ہے تو کوئی صبح سنیاسی۔ موسیقار گھرانوں بھی پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی دوسری فیلڈ میں ڈالیں اور باہر سے بچے پکڑ پکڑ کر انہیں تربیت دیا کریں۔ اس کا انہیں بھی فائدہ ہو گا۔ اپنے بچوں کو تو انہیں مفت میں سکھانا پڑتا ہے، غیروں کے بچوں سے معقول فیس بھی لے سکیں گے۔

بہتر ہو گا کہ ایک آئینی ترمیم کی جائے کہ باپ جس پیشے میں ہو گا اولاد کو اس پیشے میں جانے کی اجازت نہیں۔ فوری طور پر یہ بھی کیا جا سکتا ہے اہم عہدوں پر صرف غیر شادی شدہ یا کم از کم درجے میں بھی بے اولاد افراد کو تعینات کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: -   دائرے کا سفر

طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس سلسلے میں ہم مسلم تاریخ کی طاقتور ترین عثمانی سلطنت سے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ عثمانی سلاطین کا دستور تھا کہ وہ مفتوحہ علاقوں کے غیر مسلم خاندانوں سے خراج میں ایک ایک لڑکا لے لیا کرتے تھے۔ اس لڑکے کو پھر عثمانی سلطنت خود پالتی اور تربیت دیا کرتی تھی۔ ان لڑکوں کے شادی کرنے پر بھی پابندی عائد کی جاتی تھی۔ یہی لڑکے عثمانی سلطنت کے ان ہیبت ناک دستوں کے سپاہی تھے جنہوں نے ویانا کی فصیلوں تک فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ انہیں تاریخ ینی چری کے نام سے جانتی ہے۔

ینی چریوں کا کوئی خاندان نہیں ہوتا تھا۔ نہ ماں باپ کا انہیں علم تھا اور نہ ان کی آل اولاد ہوتی تھی۔ وہ ایک دوسرے کے بھائی ہوتے تھے اور سلطان ان کا باپ قرار پاتا تھا۔ یوں سلطان سے ان کی وفاداری ہر شبے سے بالاتر ہوتی تھی۔

گو دو تین صدیوں بعد ان ینی چریوں نے چریا پن دکھا کر سلطان کو دبانا شروع کر دیا، مگر بہرحال یہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ دو تین سو سال تک وہ سلطان کے کنٹرول میں رہے تھے۔ یعنی پاکستان میں اگر ینی چری بچے رکھے جائیں تو دو تین سو سال تک فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس مدت میں ویسے ہی روبوٹ وہ سارے کام کرنے لگیں گے جو آج کل انسان کرتے ہیں، تو مکمل بے فکری ہو جائے گی۔

اب پاکستانی ریاست بھی موروثیت سے جان چھڑانے کے لیے یہ کر سکتی ہے کہ عثمانی ماڈل پر چلتے ہوئے غیر مسلم شہریوں اور اقلیتی فرقوں سے ایک ایک بچہ لے لیا کرے اور اسے مسنگ کر دے اور جلد ہی ان پر مشتمل افسر شاہی اور سیاسی قیادت کھڑی کر دے۔

یہ بھی پڑھیں: -   پائی جان میں تے مذاک کر رہیا سی

یا پھر دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ریاست ایدھی والوں سے یتیم بچے لے لیا کرے اور ان کی تربیت کر کے ان پر مشتمل انتظامیہ بنا لے۔ بہرحال ہر دو صورتوں میں ان پر پابندی عائد کی جائے گی کہ وہ شادی نہ کریں۔ یوں نہ تو ان پاکستانی ینی چریوں کا کوئی خاندان ہو گا اور نہ ہی انہیں اپنی آئندہ سات نسلیں سنوارنے کی خاطر کرپشن کرنے کی حاجت ہو گی۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہو گا کہ یہ لوگ اپنی زندگی عیش میں گزارنے کی خاطر لمبا مال و دولت نہ بنائیں۔ اس سلسلے میں بھی عثمانی سلطنت سے راہنمائی لی جا سکتی ہے۔ عثمانی سلطنت کا ایک رواج یہ بھی تھا کہ امیر وزیر جب فوت ہوتا تو اس کا تمام اثاثہ سلطان کو منتقل ہو جاتا۔ یعنی وہ چاہے جتنی بھی لوٹ مار کرے، آخر میں اس کی ساری دولت ریاست کو ہی ملا کرتی تھی۔

ہم امید کرتے ہیں کہ موروثیت سے سیاست، افسری اور معاشرے کے دیگر شعبہ جات کو محفوظ رکھنے کی خاطر پیش کردہ ہماری ان نہایت سنجیدہ تجاویز پر نہایت سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور اگلے انتخابات سے پہلے پہلے انہیں دستور کا حصہ بنا دیا جائے گا کیونکہ ہم جانتے ہی ہیں کہ موروثیت بہت بری چیز ہے۔ پاکستان پائندہ باد۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں