Columns of Saadullah jaan barq 31

کنٹی نیوٹی

بہت سے لوگوں کو ’’کنٹی نیوٹی‘‘کے بارے میں پتہ نہیں ہوگاکیوںکہ یہ خالص ٹی وی اورفلموں کی اصطلاح ہے۔ فلم یا ڈرامے کے کرداروں کے لباس، داڑھی،مونچھوں اورچہرے مہرے کاخاص خیال رکھا جاتا ہے کہ پہلے جیسا ہو۔ ریکارڈنگ ایک دن میں توختم نہیں ہوتی چنانچہ آنے والے دنوں میں فلم یا ڈرامے کی وہ پہلے دن والی وضع قطع آخر تک برقراررکھنا لازم ہوتا ہے اوراسے کنٹی نیوٹی کہتے ہیں۔

داڑھی ،مونچھوں میں کمی بیشی ہوجائے، لباس اوپر نیچے ہوجائے یا تکیہ کلام اورحرکات وسکنات میںفرق آجائے تواسے کنٹی نیوٹی ڈسٹرب ہوناکہتے ہیں، اور شوبزکی دنیا میں یہ بہت بڑی غلطی شمارہوتی ہے اوراس مرتبہ رمضان میں ہم نے دیکھا کہ دینی اور رمضان سے متعلق پروگراموں میں کنٹی نیوٹی کابالکل بھی خیال نہیں رکھا گیا۔

ایک رمضانی اداکار کی داڑھی کو ہم نے کنٹی نیوٹی کومجروح کرتے ہوئے دیکھا،انتہائی ناپ تول بلکہ کمپیوٹر سے تراشی گئی داڑھی بھی کنٹی نیوٹی سے باہرہو جاتی تھی، اوپری ہونٹ کی چکناہٹ اورہمواری میں بھی فرق آجاتاتھا یہاں تک کہ ہونٹوں پرمردانہ لپ سٹک کی بھی کمی بیشی پائی گئی اورانتہائی متقیانہ اوردینی والہانہ متبرک اورمقدس سی مسکراہٹ میں بھی وہ چمک نہ تھی اوریہ بہت غلط رجحان ہے۔
دوسرے ڈراموں اورپروگراموں میں توناظرین زیادہ نوٹ نہیں کرتے لیکن دینی پروگراموں میں کنٹی نیوٹی کاخصوصی خیال رکھنا ضروری ہے۔ جس طرح رمضان المبارک کو رمضان کریم کہنے سے بہت فرق پڑجاتاہے، اسی طرح داڑھی مونچھوں لباس ہاتھوں کی انگوٹھیوں اورلپ سٹک سے بھی کنٹی نیوٹی تباہ ہوجاتی ہے، اب توکافی عرصہ گزرگیا اوردینی پروگرام کرنے والے بھی کافی منجھ گئے ہیں اس لیے ایسی غلطیاں نہیں ہونی چاہیں خاص طورپر ان اداکاروں کا تجربہ توکافی ہوگیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   جو ڈر گیا وہ مرگیا

ایک محترمہ کودیکھا جو سرتاپاتقدس اوررمضان کریم اوڑھے ہوئے تھیں اور لگتاتھا جسے ابھی ابھی عالم غیب سے ظہورمیں آئی ہیں اس بات کابالکل خیال نہیں رہاکہ ’’ابرؤوں‘‘ کی تراش خراش کاخیال کرتے ہوئے انھیں ایک لکیر کے بجائے دولکیروں کے برابرچھوڑدیتیں اورمصنوعی پلکوں کو بھی اس دن آرام کرنے دیتیں۔

ایک مرتبہ ہم انڈیاکے کسی چینل پر ان کاکوئی دھارمک پروگرام دیکھ رہے تھے جس میں ایک دیوی اپنا جلوہ دکھارہی تھی، ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک دوست نے کہا انڈیاوالے بہت پہلے سے ترقی یافتہ تھے جوفیشن اورکپڑے یورپ اورامریکا والے اب استعمال کرتے ہیں، ان کا استعمال ان کی دیویاں بہت پہلے کیاکرتی تھیں جن میں یہی تراشے ہوئے ابروبھی شامل تھے۔

پرانے زمانے کے سادہ دل لوگ سب کچھ مان لیتے تھے مثلاً ہم نے ایک فلم میں رام چندرکاکردار اداکرنے والے اداکارکے ہاتھ پر گھڑی بندھی ہوئی دیکھی تھی۔ہمارے ساتھ بانگ حرم میں ایک کاتب تھا جسے لوگ حافظ کہتے تھے عام طورپرتواس کی داڑھی خشخشی ہی رہتی تھی جیسے شیو بڑھ گیا ہو لیکن رمضان سے مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے اس کی داڑھی حیرت انگیز طورپربڑھنا شروع ہوجاتی تھی اوررمضان کے مہینے میں وہ کسی دیہاتی مسجدکوختم القرآن کے لیے پکڑلیتا تھا، اب یہ کہنا توہمارے لیے ممکن نہیں کہ تراویح کے دوران جوتلاوت کی جاتی ہے اسے سن کرکیسا لگتا ہوگا، نہایت مصدقہ ذرایع سے معلوم ہواہے کہ پندرہ دنوں کی تراویح کے درمیان ختم القرآن میں پوری سورتیں تک چھوڑدی جاتی ہیں یاچھوٹ جاتی ہیں۔

وہ حافظ بھی رمضان کے دوران دوختم القرآن دو مختلف مساجد میں کرلیتا تھا۔ آخری دنوں میں اس کی داڑھی اچھی خاصی بالغ ہوجاتی تھی لیکن عید کے بعد جب وہ دفترآنے لگتا توداڑھی اسی مقام پرہوتی جہاں دومہینے پہلے ہوتی تھی۔وہ توسادہ لوح دیہاتیوں کا عقیدت بھرا زمانہ تھا لیکن آج کے ٹی وی ناظرین انتہائی نکتہ رس، نکتہ سنج اورنکتہ چیں واقع ہوئے ہیں ،اس لیے ٹی وی اداکاروں خاص طور پر جو دینی یا رمضانی اداکار ہیں ان کو توکنٹی نیوٹی کا نہایت باریکی سے خیال رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایک ملک کی سسکتی موت

ایک بہت ہی چینل میں مشہوردینی اداکار پلس رمضان اداکار جسے اس فن اداکاری کا دلیپ کمارکہنا چاہیے، اسے داد نہ دینا بے انصافی ہوگی، اپنے چہرے کے ہرہرحصے اورداڑھی کے ہرہربال کواتنی کنٹی نیوٹی میں رکھتے ہیں کہ عش عش کیے بغیر نہیں رہاجاسکتا لیکن اتنی لیاقت اورصلاحیت توہرکسی میں نہیں ہوتی اس لیے اس رمضان میں ہم نے جابجاکنٹی نیوٹی کومجروح اور اداکاری کوبے جان ہوتے دیکھا،خاص طورپراوپری ہونٹ کا صفایا کرنے والے بہت لاپروا پائے گئے صرف اوپری ہونٹ کاصفایاہی توکنٹی نیوٹی نہیں ہے، نیچے والے ہونٹ کی مسکراہٹ اورلپ سٹک کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتاہے۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں