Columns of Saadullah jaan barq 38

چادراورمیلے ٹھیلے

وہ ایک شخص جس کی ’’چادر‘‘میلے میں چرائی گئی تھی، اسے پھربھی اتنا پتہ توچل گیا تھا کہ میلہ ٹھیلہ کچھ نہیں تھا، کچھ لوگوں نے صرف اس کی چادر اڑانے کے لیے ڈھونگ رچایاتھا لیکن جن ’’چادروالوں‘‘ کا ذکرہم اب کرنے والے ہیں اورجو بمقام پاکستان میں رہتے ہیں اوراسلام آباد کے میلوں ٹھیلوں میں ہر بار اپنی چادر سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان کوابھی تک یہ پتہ نہیں چلا ہے کہ یہ میلے ٹھیلے صرف ان کی چادرچرانے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں ۔

بہترہوگا کہ واقعہ تفصیل سے سنایاجائے۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص کسی گاؤں میں مہمان بناتھا، وہ جب رخصت ہونے جارہا تھا تو اسے کہا گیا کہ کل یہاں ایک بڑا مشہورمیلہ منعقد ہونے والاہے، دیکھنے کی چیز ہے لہٰذا میلہ دیکھ کر ہی جانا چنانچہ وہ ٹھہرگیا، دوسرے دن وہ میلہ دیکھنے کے لیے گیا لیکن میلے میں اس کی چادر چوری ہوگئی کیو نکہ خیبر پختونخوا میں لگنے والے میلوں میں اکثر ’لغمانی‘‘بھی شریک ہوجاتے ہیں۔

لغمان افغانستان میںجلال آباد سے متصل ایک صوبہ یا ولایت ہے اورافغانستان میں یہ بات مشہورہے کہ لغمانی سوار کے نیچے سے بھی اس کا گدھاچراکرلے جاتے ہیں۔ وہ شخص بھی ایک گدھے پرسوار ہوکرمیلہ دیکھنے آیاتھا، جب وہ بازار سے گزر رہا تھا تو لغمانی ٹھگوں نے یہ کارنامہ کردکھایا۔ چارلغمانیوں نے گدھے کی کمر پر رکھی کاٹھی کواس توازن سے پکڑ کر تھوڑا اوپر اٹھایا کہ گدھے پر سوارمہمان کوذرابھی عدم توازن کااحساس نہیں ہوا، چاروں لغمانی ٹھگ کاٹھی اور اس پر سوار مہمان کو اٹھائے دو چار قدم چلے جب کہ پانچواں لغمانی انتہائی چابکدستی سے اس کے نیچے سے گدھا نکال کر لے گیا، ان چاروں کوجب اطمینان ہواکہ گدھا اپنے سینگوں کے پیچھے غائب ہوچکاہے توبھیڑمیں ان چاروں نے کاٹھی کے کونے چھوڑ دیے اورخرسوار مہمان نے خودکو زمین پر لوگوں کے پیروں میں گرا پایا۔
ہمارے اس طرف کے پشتو نخوا میں ایک محاورہ ہے،جاگتی ماں کے پہلوسے بچہ چرانا اوراردومیں اسے کھلی آنکھوں سے کاجل چراناکہتے ہیں،اس شخص کی چادر بھی جب چوری ہوگئی تواپنے گاؤں پہنچنے پر لوگوں نے اس سے پوچھا کہ میلہ کیسا تھا ۔ اس نے کہا، میلہ ویلہ کہاں تھا، وہ تو ان لوگوں نے میرا گدھا اور چادرچرانے کے لیے ڈھونگ رچایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   سیاست کی یہ ’’خوبصورتی‘‘ !

لیکن بمقام اسلام آباد جو میلہ منعقد ہوتاہے یااس میں ہربارجن لوگوں کی چادرچوری ہوتی ہے، ان لوگوں کوابھی تک پتہ نہیں چلاہے کہ میلہ ویلہ کچھ نہیں ہے، صرف ان کی چادرچرانے کاہلاگلہ ہوتاہے۔

اب اتنا قصہ سنایاہے تویہ بھی بتادیں کہ پرانے زمانوں میں جب شہردورہواکرتے تھے اوردیہاتیوں کے پاس مواصلات کے ذرایع نہیں تھے تو ہرعلاقے میں کسی نہ کسی بزرگ کے مزارپرعیدکے میلے لگتے تھے جن میں تاجر اورفنکار لوگ پرانا اورسڑاہوامال بیچ کر اورنوسربازاپنا فن دکھاکرعوام کی چادر چوری کرتے تھے۔

اب آپ پوچھیں گے کہ اسلام آباد میںجومیلے منعقد ہوتے ہیں، وہ کس مزارپر منعقد ہوتے ہیں، ویسے ہمیں شک ہے کہ آپ نہیں پوچھیں گے کیوں کہ آپ کوپوچھنا آتاتو باربار اپنی چادر سے ہاتھ کیوں دھوتے لیکن ہم بغیرپوچھے بتادیتے ہیں کہ یہاں بہت بڑا اورمرجع خلائق مزار موجود ہے لیکن عام لوگوں کواس کاپتہ نہیں صرف ان لوگوں کو معلوم ہے جنھوں نے اس ’’صاحب مزار‘‘ کوطرح طرح کے ہتھیارماکرشہید کیا ہے۔

اس صاحب مزار شہید کانام جمہوریت ہے جو نہ جانے کہاں سے وارد ہواتھا لیکن یہاں کے خاص لوگوں کواس کی ایک بات بھی پسند نہیں آتی چنانچہ پل پڑے۔کسی نے بنیادی جمہوریت اس کے سرپر ماری، کسی نے روٹی کپڑامکان مارا،کسی نے اسلام اور مدینہ کی ریاست کا نعرہ مارااورآخر میں توجس کے ہاتھ جولگا ماردیا۔اینٹ، پتھر، لکڑی، لوہا ،چاقو ،کدال، کھرپا یہاں تک سناہے کہ خواتین نے بھی کپڑے دھونے کے ڈنڈے جھاڑوڈوئی ،کڑچھے مارے جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ،انھوں نے لاتوں ٹھڈوں سے کام چلایا بلکہ یہاں تک کہ پورے پورے خاندان بھی باری باری اس پر پل پڑے تھے۔بہرحال اس مشق سے ایک اچھا خاصا مزار بھی مل گیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   کیا اس کے بعد بھی

مجاورخاندان بھی بن گئے اورلنگرکاانتظام بھی ہوگیا، اب جب بھی ضرورت ہوتی ہے یاکسی کوموقع ملتاہے یاشغل کوجی چاہتاہے،کوئی نہ کوئی میلہ اس مزار پر منعقد کردیتاہے،زبردست قوالیاں ہوتی ہیں، بھنگڑے، دھمالیں ڈالی جاتی ہیں، دھرنے ورنے، بھرنے اور ٹھہرنے ہوتے ہیں اورنتیجہ سب کاایک ہی نکلتاہے، اس بدبخت کی چادر۔ ہر بار بیچارہ شہری کسی نہ کسی طرح جگاڑ لگا کرکہیں سے کوئی چادر خریدتا ہے اور پھر اسے کندھے پرڈال کر میلے میں آتاہے اورپھر کندھے ہلکے کرکے گھر واپس چلا جاتاہے، مطلب اس کایہ ہواکہ یہ اس دیہاتی سے بھی زیادہ نالائق ہیں جوایک ہی بارچادر چوری ہونے پرسمجھ گیا کہ میلہ ویلہ کچھ نہیں تھا، صرف میری چادرچرانے کاانتظام تھا۔

اب اگر اس معاملے پرکوئی انصاف کاترازولے کر فیصلہ کرنے بیٹھ جائے کہ اس واردات بلکہ وارداتوں میں زیادہ قصوروارکون ہیں، جمہوریت کوشہید کرکے اس کے مزارکے مجاوربننے والے یاچادر والے۔ ہم تو اول الذکرکو صاف بری کرکے چادروالوں ہی کومجرم ٹھہرائیں گے ، بار بار اپنی ہی چادر چوری کروانے کے جرم میں… دلیل وہی منیرنیازی والی ہوگی ۔

کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن

کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی

آخراتنے عرصے میں توکسی گدھے کوبھی معلوم ہوجاتاہے کہ کہاں جانے میں اس کونقصان ہوتاہے لیکن اس چادروالے کی عقل پرایسے پتھر پڑے ہیں کہ اسے آج تک یہ معلوم نہیں ہواکہ یہ میلے ٹھیلے محض ڈھونگ ہیں، اصل کام چادرچرانے کاہے ۔

کتنے پروانے جلے راز یہ پانے کے لیے

شمع جلنے کے لیے ہے کہ ’’جلانے‘‘ کے

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں