adnan-khan-kakar 28

میر جعفر: نمک حرام غدار یا اقتدار کی جنگ کا ایک مجبور کردار؟

اب ہم میر جعفر کی اولاد میں سے ہمایوں مرزا کی کتاب ”پلاسی سے پاکستان تک“ میں ان کے خاندان کے نقطہ نظر سے بیان کردہ تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ دیکھیں کہ ان کے مطابق میر جعفر نے اپنے آقائے ولی نعمت نواب سراج الدولہ سے غداری کی یا مجبوری میں نواب کے خلاف یہ قدم اٹھایا، اور میر جعفر کا پلاسی کی جنگ میں کیا کردار تھا۔ کیا نواب سراج الدولہ کے خلاف انگریز نے سازش کی تھی یا نواب کے درباری اس سازش کے بانی تھے اور اسے تخت سے ہٹانا چاہتے تھے؟

وہ کہتے ہیں کہ سید میر جعفر علی خان نے نواب علی وردی خان کے زمانے میں بنگال کا رخ کیا۔ میر جعفر کی شادی نواب علی وردی خان کی سوتیلی بہن سے ہوئی۔ سنہ 1740 میں نواب علی وردی خان نے نواب سرفراز کا تختہ الٹ کر بنگال، بہار اور اڑیسہ کی حکومت پر قبضہ کیا اور اس کام میں میر جعفر نے ان کی مدد کی۔ ولندیزیوں اور مرہٹوں کے خلاف جنگوں میں میر جعفر نے بہت نام کمایا۔ سنہ 1746 میں مرہٹوں کے بھاری لشکر کے ساتھ جنگ میں میر جعفر نے پسپائی اختیار کی تو نواب علی وردی خان نے اپنے رشتے کے بھتیجے عطا اللہ خان کو کمک دے کر بھیجا۔ عطا اللہ خان نے میر جعفر کو آفر کی کہ ہم دونوں مل کر نواب کا تختہ الٹ دیتے ہیں اور بنگال پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ میر جعفر نے انکار کر دیا۔

چوکس و چالاک علی وردی خان کو سازش کی اطلاع مل گئی۔ اس نے عطا اللہ خان کو جلاوطن کر دیا اور میر جعفر کی بھرے دربار میں سرزنش کی۔ میر جعفر نے اس کا برا منایا، نواب نے دل جوئی کی کوشش کی جو میر جعفر نے ٹھکرا دی، اس پر نواب نے ناراض ہو کر میر جعفر کو معزول کر دیا اور اس کے اثاثوں کی چھان بین کا حکم دیا۔ لیکن محض دو برس بعد ملک میں بغاوت کے آثار پیدا ہوئے تو نواب نے میر جعفر کو دوبارہ عہدے پر فائز کر دیا اور نواب علی وردی خان کے عہد میں میر جعفر سپہ سالار کے عہدے پر برقرار رہا۔

موت سے پہلے نواب علی وردی خان نے میر جعفر سے عہد لیا کہ وہ اس کے نوجوان نواسے سراج الدولہ کو تخت پر بٹھانے میں مدد کرے گا۔ میر جعفر نے اپنا عہد پورا کیا۔ سراج الدولہ نے اقتدار پر قبضہ مستحکم ہوتے ہیں میر جعفر کو عہدے سے معزول کر دیا اور اسے سرعام بے عزت کیا۔ انگریزوں سے لڑائی ہوئی تو نواب سراج الدولہ نے میر جعفر کو دوبارہ سپہ سالار بنا دیا۔ میر جعفر نے کئی بڑی بغاوتیں بھی کچلیں۔ خاص طور پر انگریزوں کے خلاف کلکتہ کی فتح اور پورنیہ کے حاکم شوکت جنگ کے خلاف فتوحات اہم تھیں۔

ہمایوں مرزا نے سراج الدولہ کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کا مزاج پل میں تولہ پل میں ماشہ ہوتا تھا۔ وہ نواب علی وردی خان کے اہم سرداروں کی توہین کرنے کا عادی تھا۔ اس کی بڑی غلطی نواب علی وردی خان کے ایک اہم درباری جگت سیٹھ کی تنزلی کر کے اسے موہن لال کا ماتحت بنانا تھی۔ موہن لال کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک بدمزاج اور بدتمیز انسان تھا۔

کلکتہ کی دوسری جنگ میں شکست کے بعد نواب سراج الدولہ کو انگریزوں کی شرائط پر ان سے معاہدہ صلح کرنا پڑا۔ انگریزوں نے اس وقفے کو فرانسیسیوں کو بنگال سے نکالنے کے لیے استعمال کیا۔ سراج الدولہ نے کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ نہ دیا اور ڈھلمل رہا۔ فرانسیسیوں کے معاملے پر بالآخر نواب کی انگریزوں سے اس وقت پلاسی کے میدان میں جنگ ہوئی جب فرانسیسی اس کی مدد کرنے کے اہل یا قائل نہ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ڈاکٹر عبدالقدیر خان

اس جنگ سے پہلے درباری امرا بغاوت کی تیاری کر رہے تھے۔ بنگال کے بڑے ساہوکاروں نے جگت سیٹھ کی سربراہی میں یار لطف خان کا بطور نواب تقرر کرنے کے لیے لارڈ کلائیو سے بات چیت شروع کی مگر انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ بنگال کا تخت نہیں سنبھال پائے گا۔ اس دوران میر جعفر کو سراج الدولہ کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان تھا۔ باغیوں نے اس سے رابطہ کیا اور وہ ان کا ساتھ دینے کو آمادہ ہو گیا۔ اس نے انگریزی نمائندے کو لکھا کہ وہ جب نواب کے پاس جاتا ہے تو اسے قتل ہونے کا خوف رہتا ہے، وہ نواب کی جگہ کسی دوسرے کا تقرر کیے جانے کے منصوبے میں ساتھ دے گا۔

ہمایوں مرزا اس بات پر زور دیتا ہے کہ انصاف سے کام لیا جائے تو بغاوت میں شامل ہونے کے سوا میر جعفر کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اس کی ہر وقت توہین کی جاتی تھی اور وہ کسی بھی وقت سراج الدولہ کے حکم پر قتل کیا جا سکتا تھا۔

میر جعفر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک بڑی رقم ادا کرنے کے علاوہ اس کے کلکتہ کمیٹی ممبران کو بھی ایک بڑی رقم بطور رشوت ادا کرنے کی حامی بھری۔ رقم کے معاملات میر جعفر کے اعتباری سردار رائے دلب رام (اردو تاریخوں میں اس سردار کا نام دلب رام اور انگریزی میں درلبھ لکھا گیا ہے) کے مشورے سے طے ہوئے تھے جسے کمپنی بہادر نے پہلے ہی خرید لیا تھا۔

اس دوران نواب سراج الدولہ کو بھی سازش کی سن گن مل گئی۔ اس نے رائے دلب رام اور میر جعفر کو مرشد آباد بلایا اور معزول کر کے گھروں میں قید کر دیا۔ میر جعفر کے سامنے اب لڑنے یا مرنے کا مرحلہ تھا۔ نواب نے اپنے فوجی اسے گرفتار کرنے کو بھیجے مگر میر جعفر کے محافظوں نے انہیں شکست دے دی۔ لاچار نواب چپ کر کے بیٹھ گیا۔

مرشد آباد میں کلائیو کے نمائندے واٹس نے اسے رپورٹ کیا کہ جنگ کی صورت میں ہمیں اس سے زیادہ مدد نہیں ملے گی کہ میر جعفر اور ساتھی نیوٹرل ہو جائیں، اگر کمپنی جیت جائے تو وہ فیض اٹھائیں گے، اور اگر ہار جائے تو وہ ہم سے لاتعلق ہو کر ویسے ہی کام کرتے رہیں گے جیسے پہلے کر رہے ہیں۔

بارہ جون کو انگریز اہلکار اچانک مرشد آباد سے غائب ہو گئے۔ نواب کو اندازہ ہو گیا کہ جنگ سر پر ہے۔ نائب سپہ سالار میر مدن نے اسے مشورہ دیا کہ جنگ سے پہلے غداروں کو ٹھکانے لگا دیں تاکہ انگریز گھبرا جائیں، ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غدار اپنا کام دکھائیں گے۔ نواب نے مشورے پر عمل کرنے کی بجائے میر جعفر کے پاس خود جا کر اس سے صلح کی کوشش کی۔ میر جعفر نے نواب کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، لیکن اس نے ساتھ دینے کی ہامی نہیں بھری۔

میر جعفر نے پلاسی کی جنگ سے محض تین دن پہلے واٹس کو خط لکھا کہ وہ نیوٹرل رہے گا اور اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرے گا۔ یوں خواہ انگریز جیتتے یا نواب، اس کا خاندان محفوظ رہتا۔ اس کے باوجود لارڈ کلائیو آخری وقت تک اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ میر جعفر اس کا ساتھ دے گا۔

جنگ سامنے تھی۔ سراج الدولہ نے فرانسیسی سردار جین لا کو رقم کے بدلے اپنا ساتھ دینے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ اسے وہ پہلے اپنے دربار سے توہین کر کے نکال چکا تھا۔ جین لا نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا لیکن نواب چالیس سے پچاس فرانسیسی توپچیوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایں گل دیگر شگفت

نواب نے اپنی فوج کو پلاسی کی طرف مارچ کرنے کا حکم دیا۔ فوج نے انکار کر دیا کیونکہ اسے تنخواہیں نہیں دی جا رہی تھیں۔ نواب نے فوجیوں کو فوراً رقم ادا کی اور یوں فوج پلاسی کی طرف چلی۔ میدان جنگ میں نواب کی فوج کی کمان سپہ سالار یوں تو بخشی خواجہ عبدالہادی تھا لیکن حقیقی کمان میر مدن کے ہاتھ میں تھی۔ الگ دستوں کے کماندار رائے دلب رام، لطف یار خان اور میر جعفر تھے۔

جنگ شروع ہوئی۔ بیس سالہ نواب سراج الدولہ میدان جنگ سے پیچھے اپنے کیمپ میں موجود رہا اور جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ فرانسیسی توپخانے نے لارڈ کلائیو کو پسپا ہو کر دریا کے کنارے موجود آم کے باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ شکست سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک پہلو سے میر جعفر کی فوج نے انگریز فوج کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ میدان جنگ سے فرار کا راستہ بند ہوتا دیکھ کر انگریزوں نے اس پر گولہ باری شروع کر دی۔

اسی اثنا میں تیز بارش شروع ہو گئی۔ انگریزوں کو بنگال کی بارش کی عادت تھی۔ انہوں نے فوراً اپنی توپوں اور بارود پر ترپالیں ڈال کر انہیں محفوظ کر لیا۔ فرانسیسی اور بنگالی توپ خانہ بھیگ کر ناکارہ ہو گیا۔ سراج الدولہ کے سرداروں نے سوچا کہ انگریزوں کی توپیں بھی ناکارہ ہو گئی ہوں گی۔ انہوں نے میر مدن کی سربراہی میں یلغار شروع کر دی تو انگریز توپخانے نے ان پر گولہ باری شروع کر دی۔ میر مدن مارا گیا۔ ہاتھی اپنی فوج پر ہی پلٹ گئے۔ خواجہ عبدالہادی اور موہن لال نے عام یلغار کا مشورہ دیا جس سے جنگ جیتی جا سکتی تھی۔ سراج الدولہ نے مشورہ نظرانداز کیا اور اپنے سرداروں کو میدان جنگ سے پیچھے اپنے کیمپ میں بار بار مشورے کے لیے بلاتا رہا۔ سراج الدولہ نے پسپائی کا حکم دے دیا۔

انگریز فوج نے یلغار کی۔ سراج الدولہ ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار ہو کر میدان جنگ سے فرار ہو گیا۔ نواب کی فوج بھی فرار ہو گئی۔ میر جعفر، یار لطف خان اور رائے دلب رام کی فوجیں جنگ میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے بڑی حد تک محفوظ رہیں۔

یہ تھی میر سید ہمایوں مرزا کی بیان کردہ تاریخ۔ اب ہم آگے ولیم ڈالرمپل اور محمد عمر کی بیان کردہ تاریخ پر ایک مختصر نظر ڈالیں گے۔

تاریخ دان ولیم ڈالرمپل اپنی کتاب انارکی میں میر جعفر کو ایک قابل سپہ سالار اور نا اہل حکمران قرار دیتا ہے۔ سراج الدولہ کے بارے میں وہ نواب کے حلیف فرانسیسی سردار جین لا اور سراج الدولہ کے رشتے دار اور سردار غلام حسین خان کے بیان پر زیادہ انحصار کرتا ہے اور اسے ایک نا اہل اور عیاش حکمران قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق میر جعفر صرف ایک چہرہ تھا ورنہ اس بغاوت کے پیچھے نواب کے دربار کے بہت سے اہم سردار موجود تھے۔ اس کے مطابق بھی انگریزوں نے درباریوں کو نہیں خریدا تھا بلکہ درباریوں نے سراج الدولہ سے جان چھڑانے کے لیے بھاری رقم دے کر انگریزوں کو خریدا تھا۔ ڈالرمپل کے مطابق میر جعفر نے پلاسی میں لارڈ کلائیو کو ساتھ شامل ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ اپنے اقتدار کے شروع میں پورنیہ کی بغاوت کچلنے کے لیے سراج الدولہ نے بنگال کے سب سے بڑے ساہوکار جگت سیٹھ سے تین کروڑ روپے مانگے تھے، اور اس کے انکار پر اسے تھپڑ رسید کیا تھا۔ جگت سیٹھ کے اثر رسوخ کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علی وردی خان کو نواب بنانے میں اس کا ہاتھ تھا۔ جگت سیٹھ کو سراج الدولہ تضحیک کا نشانہ بناتا رہتا تھا اور اس کے ختنہ کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ سراج الدولہ کے خلاف سازش میں جگت سیٹھ کا کلیدی کردار تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   طالبان کی آمد ِ ثانی

ڈالرمپل کے مطابق جنگ میں میر مدن کے مارے جانے اور انگریزوں کے حملے کے بعد میر جعفر نے اپنی فوجیں میدان جنگ سے ہٹا لی تھیں اور دیکھا دیکھی باقی فوج بھی راہ فرار اختیار کر گئی۔

انجمن ترقی ہند کی 1942 میں شائع کردہ کتاب ”سراج الدولہ“ میں مصنف محمد عمر کا بیان کچھ مختلف ہے۔ اس کے مطابق سراج الدولہ درباریوں کی توہین نہیں کرتا تھا۔ میر جعفر ایک ریاکار اور نا اہل شخص تھا۔ پلاسی کی جنگ میں میر مدن کی موت کے بعد سراج الدولہ نے میر جعفر کو اپنے پاس بلایا۔ سراج الدولہ نے نہایت عاجزی کے ساتھ، ”بلکہ بعض تو یہ افواہ بیان کرتے ہیں کہ پگڑی اس کے پاؤں پر رکھ کر کہا، ’جو کچھ میں نے کیا اس کا افسوس ہے، آپ میرے رشتے دار ہیں، علی وردی خان نے آپ پر بے انتہا نوازشیں کی ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میری غلط کاریوں کو معاف کر کے ایسا طرز عمل اختیار کریں گے جو ایک سید کو زیب دیتا ہے۔ میں اپنے آپ کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، میری عزت اور زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے‘ ۔“

میر جعفر کچھ متاثر ہوا۔ اس نے کہا کہ سورج غروب ہونے کو ہے، حملے کا وقت نہیں، اب فوجیں واپس بلا لیں۔ نواب نے شب خون کا خدشہ ظاہر کیا تو میر جعفر نے کہا کہ وہ اس کا ذمہ لیتا ہے۔ نواب نے موہن لال کو میدان جنگ سے واپس آنے کا حکم دیا جس کا توپ خانہ دشمنوں پر قہر برسا رہا تھا۔ وہ جنگ کو انجام تک پہنچانا چاہتا تھا مگر نواب کے اصرار پر وہ میدان جنگ سے ہٹ گیا۔ اسے ہٹتے دیکھ کر نواب کی فوج میدان سے فرار ہو گئی۔ نواب سراج الدولہ بھی یہ دیکھ کر فرار ہو گیا۔

پھر سراج الدولہ کی موت کا ذکر کرتے ہوئے محمد عمر لکھتے ہیں کہ ”وہ ایسی بری حالت میں تھا کہ جس نے اس کی یہ گت دیکھی کانپ اٹھا اور سب اس کا جاہ و حشم یاد کر کے سر پیٹنے لگے اور ان کے دلی جذبات ترحم اور ہمدردی سے معمور ہو گئے اور اس کی بدمزاجی اور بے رحمی کو بھول گئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب اسے چند فوجی سپاہیوں کے ڈیرے کے سامنے لے گئے تو وہ اس دل خراش منظر کو برداشت نہ کر سکتے اور سراج الدولہ کو بچانے پر کمربستہ ہو گئے مگر ان کے افسروں نے انہیں باتوں میں لگا کر باز رکھا“ ۔

مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تین ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے سپہ سالار لارڈ کلائیو کو پلاسی میں اپنی شکست کا یقین تھا۔ وہ ابتدائی نقصان اٹھا کر آموں کے باغ میں پناہ لے چکا تھا۔ رات کی تاریکی میں وہ فرار ہونے کے منصوبے بنا رہا تھا کہ شام ہی کو پچاس ساٹھ ہزار فوج کا سربراہ نواب سراج الدولہ فرار ہو گیا اور پھر میر جعفر کے بیٹے میرن کے ہاتھوں اذیت ناک موت مارا گیا۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں