adnan-khan-kakar 54

میر جعفر کو برا بھلا کہنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لیں

ایک طویل مدت سے رواج ہے کہ کسی سیاسی یا تاریخی شخصیت کو برا بھلا کہنے کا موڈ ہو تو سیدھا میر جعفر پر تبرے بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے اور پھر اپنے مخالف کی اس سے نسبت ملائی جاتی ہے۔ اقبال تک اس رسم سے خود کو بچا نہ پائے، کہہ دیا ”جعفر از بنگال و صادق از دکن/ ننگ آدم، ننگ دین، ننگ وطن“ ۔ چلیں کم پڑھے لکھے افراد ایسا کہیں تو بات سمجھ میں آتی بھی ہے، لیکن اگر حکیم الامت بھی ایسا کہہ گزریں تو تعجب ہوتا ہے۔ یعنی میر جعفر کا معاملہ کچھ گڑبڑ ہی لگتا ہے۔

وطن عزیز میں رواج ہے کہ سادات کو نبی ﷺ کی اولاد ہونے کی وجہ سے خاص عزت دی جاتی ہے۔ ان کی توہین کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ عام محفلوں کا تو ذکر ہی کیا، بعض علاقوں میں تو خلوت میں بھی ان کی جانب پیٹھ کرنے سے انکار کرنے کی روایت ہے کہ نہ شاہ جی، ایسی گستاخی کرنے جرات نہیں کی جا سکتی۔ ایسے میں میر جعفر کو یوں برا کہنا ریت رواج کے خلاف لگتا ہے۔ آخر میر جعفر کا شجرہ کچھ کم مقدس تو نہیں۔

ہماری رائے میں تو بہتر ہے کہ میر جعفر کو برا بھلا کہنے سے پہلے لوگ سوچ لیں کہ سیدوں کو یوں برا بھلا کہنے کے بعد کہیں ان کی دنیا و عاقبت خراب نہ ہو جائے۔ لوگ جب ایک نجیب الطرفین سید بنام سید میر جعفر علی خان کے نام کو گالی کی طرح استعمال کریں تو کیا آسمان سے عذاب نازل نہیں ہو گا؟

یہ بھی پڑھیں: -   فلسفہ ٔ مغرب

اب آپ حیران ہوں گے کہ ایک آدمی جس کے نام میں میر آتا ہے وہ سید کیسے ہوا؟ وسطی ہند میں سادات کو ازراہ احترام میر کہنے کا رواج ہے۔ آپ کو سادات کے مشہور مرثیہ گو میر ببر علی انیس یاد ہی ہوں گے۔

سید میر جعفر علی خان کے خاندان کا کچھ تذکرہ ہو جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ غازی حضرت اورنگ زیب عالمگیر نے نجف اشرف کے مجتہد سید حسین طباطبائی نجفی کا شہرہ سنا تو انہیں ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی اور پھر وہ اور ان کی آل اولاد دہلی اور بنگال میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

میر جعفر کی اولاد میں سے صدر پاکستان بننے والے اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا اپنی کتاب ”پلاسی سے پاکستان تک“ میں کہتے ہیں کہ سید حسین طباطبائی نجف کے گورنر تھے۔ وہ امام حسنؓ کے بیٹے حسن مثنیٰ کی اولاد سے تھے اور حضرت علیؓ کے روضہ مبارک کے کلید بردار تھے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دربار میں وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بیٹے سید احمد نجفی گوالیار اور اڑیسہ کے گورنر رہے۔ ان کے پوتے سید میر جعفر علی خان نے نواب علی وردی خان کے زمانے میں بنگال کا رخ کیا اور رفتہ رفتہ نواب کی فوج میں سپہ سالار بن گئے۔

میر جعفر کو برا بھلا کہنا درست ہے یا غلط؟ کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ ”منصور الملک، سراج الدولہ، میرزا محمد شاہ قلی خان، ہیبت جنگ“ ایک قابل حکمران تھے اور میر جعفر اور دیگر امرا نے اس سے غداری کی۔ دوسرے کہتے ہیں کہ ان امرا کی جان خطرے میں تھی، انہوں اقتدار اور پیسے کے لیے متلون مزاج نواب سراج الدولہ سے غداری نہیں کی بلکہ اپنی جان بچانے کی خاطر انگریزوں کو پیسہ دے کر خریدا تاکہ سراج الدولہ کو تخت سے اتار کر اپنی جان بچائیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   پلکوں سے کرچیاں چننے کا وقت

اور ہاں، پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کے لشکر کا سپہ سالار میر جعفر نہیں تھا، میر مدن تھا۔ اس جنگ میں کئی جرنیل تھے جو مختلف دستوں کی کمان کر رہے تھے، ان میں میر مدن، راجہ موہن لال، خواجہ عبدالہادی، فرانسیسی ڈی سینٹ فریس، یار لطف خان، میر جعفر، اور رائے دلب رام شامل تھے۔ نواب کی فوج کی تعداد پچاس سے ساٹھ ہزار تھی اور انگریز فوج کی تین ہزار۔

اگلے مضمون میں ہم نہایت سنجیدگی سے مختلف تاریخ دانوں کے بیانات آپ کے سامنے رکھیں گے، فیصلہ آپ خود کریں کہ میر جعفر غدار تھا یا ایک خوفزدہ شخص جو اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں