Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 22

چھبیسویں پارے کا خلاصہ

سورۃ الاحقاف : قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں‘ ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں۔ مزید ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا‘ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارتا ہے‘ جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کے پکارنے سے غافل ہیں۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارارب اللہ ہے‘ پھر اس پر استقامت کو اختیار کیا تو نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ غم اور یہی لوگ جنتی ہیں‘ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ان کو ان کے نیک اعمال کی جزا ملے گی۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھے برتاؤ کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو اٹھائے رکھا اور تکلیف کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ پینے کی مدت تیس ماہ ہے‘ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کی انتہا کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا تو اس نے کہا: اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو دی اور مجھے توفیق دے کہ میں ایسے نیک اعمال کروں‘ جنہیں تو پسند کرتا ہے اور تو میری اولاد کی اصلاح کر دے‘ میں تیری بارگاہ میں آکر توبہ کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں؛ یہی وہ لوگ ہیں‘ جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں کو معاف کرتے ہیں اور یہی لوگ جنتی ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو‘ ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آپ ویسے صبر فرمائیں‘ جس طرح آپ سے قبل اولو العزم انبیاء کرام‘ یعنی نوح‘ ابراہیم‘موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام اجمعین صبر فرماتے رہے۔ جب رسول اللہ حضرت محمدﷺ نے دعوتِ دین پر صبر کیا تو آپﷺ کا صبر تمام انبیائے سابقہ کے صبر پر سبقت لے گیا۔ ایک حدیث شریف میں خود آپﷺ نے فرمایا کہ جس قدر تکالیف مجھ پر نازل ہوئیں‘ مجھ سے پہلے کسی نبی پر اتنی مصیبتیں نہیں آئیں۔
سورہ محمد: سورۃ الاحقاف کے بعد سورہ محمد ہے۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ان کے اعمال گمراہ کن ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے‘ جس کو اللہ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی خطائوں کو معاف کر دیا اور ان کے معاملات کو سنوار دیا ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے منکروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل کفر کا رہن سہن اور کھانا جانوروں کے کھانے کی مانند ہے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے۔ جس طرح جانور حلال وحرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں‘ اسی طرح کافر بھی حلال و حرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جہنم کے دھکتے ہوئے انگاروں کو تیار کر دیا ہے‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ قرآنِ مجید پر کیوں غور نہیں کرتے؟ کیا ان کے دل پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکتے رہے اور ہدایت واضح ہو جانے کے باوجود رسول کریمﷺ کی مخالفت کی‘ وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے اعمال برباد ہو چکے ہیں۔
سورہ فتح : اس کے بعد سورہ فتح ہے۔ سورہ فتح میں رسول کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فتحِ مبین کی بشارت دی تھی۔ اس فتح مبین کا پس منظر یہ ہے کہ رسول کریمﷺ اپنے 1400 رفقاء کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ جب منزل قریب آئی تو مشرکین مکہ نے نبی کریمﷺ اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ آپﷺ نے مذاکرات کے لیے جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر روانہ فرمایا۔ جب آپؓ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ سے قصاصِ عثمان کیلئے بیعت کا تقاضا کیا تو صحابہ کرام ؓنے فوراً سے پہلے نبی رحمتﷺ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ ان فدا کار مومنوں سے راضی ہوئے اور قرآنِ مجید میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ ان مومنوں سے راضی ہے‘ جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کچھ دیر بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بخیر و عافیت واپس آ گئے، البتہ اس بیعت کی خبر مکہ والوں کو ہو گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو جنگ کیلئے تیار پایا تو صلح پر آمادہ ہو گئے۔ اس موقع پر رسول کریمﷺ نے مکہ والوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی کچھ شرائط ایسی تھیں جو بظاہر مسلمانوں کے خلاف محسوس ہوتی تھیں جس کی وجہ سے کچھ لوگوں میں غصہ بھی پایا جاتا تھا کہ اگر ہم کفارِ مکہ کے مقابلے میں کمزور نہیں ہیں تو ایسا معاہدہ کیوں قبول کر رہے ہیں جس کی تمام شرائط کا بظاہر فائدہ اہلِ مکہ کو جاتا ہے۔ اس مو قع پر اللہ تعالیٰ نے سورہ فتح نازل فرما کر رسول کریمﷺ کو فتحِ مبین کی بشارت دی اور ان آیات کے نزول کے بعد رسول کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ کے دل خوشی سے معمور ہو گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ جن شرائط کو تم اپنے خلاف سمجھ رہے ہو درحقیقت یہ مسلمانوں کی کھلی فتح کے مترادف ہیں۔ اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا کہ صرف دو برس کے قلیل عرصے میں مسلمانوں کو فتح مکہ جیسی عظیم کامیابی حاصل ہو گئی۔
سورۃ الحجرات: اس کے بعد سورۃ الحجرات ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہلِ ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کریمﷺ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے ایمان والو! نبیﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کرو‘ جس طرح تم میں سے بعض‘ بعض کے سامنے اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ ورنہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہیں اس کا پتا بھی نہیں چلے گا۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرما یا کہ جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم بغیر سبب کے کسی قوم کے خلاف ہو جائو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر مومنوں کے دو گروہوں کی آپس میں جنگ ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کروا دینی چاہیے‘ اگر ایک گروہ سرکشی پر تلا رہے تو ایسی صورت میں باغی گروہ کے خلاف جنگ کرنی چاہیے‘ یہاں تک کہ وہ صلح پر آمادہ ہو جائے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں‘ ان کی صلح صفائی کروا دیا کرو۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تجسس کی بھی شدت سے مذمت کی ہے اور بدگمانی کو گناہ قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیںاس سورہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قبائل‘ قومیں اور گروہ تمہارے تعارف کے لیے بنائے گئے ہیں جبکہ فضیلت کا سبب تقویٰ ہے۔ جو پر ہیزگارہے‘ وہی اللہ کی نظروں میں عزت دار ہے۔
سورہ ق: اس کے بعد سورہ ق ہے۔ سورہ ق میں اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ ارض و سماوات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا اور چھ دن میں کائنات کی تخلیق کے بعد اس کو تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا احسا س تک بھی نہیں ہوا۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ جہنم میں جب جہنمی ڈال دیے جائیں گے تو جہنم کہے گی کہ میرے اندر اور لوگوں کو ڈالا جائے۔ جہنم سے بچ نکل کرجنت میں داخل ہوجانے والے خوش نصیب وہی ہوں گے جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کیا ہو گا۔ اس سورہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ قرآنِ مجید کے ذریعے ان کو نصیحت کر یں جن کے دلوں میں خوف ہے۔
سورۃ الذاریات : اس کے بعد سورۃ الذاریات ہے۔ اس سورت میںاللہ تعالیٰ نے بہت سی قسمیں اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   نوازشریف اور شہباز شریف
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں