adnan-khan-kakar 42

کیا سفارتی خط عوام کو دکھانے سے پاکستان کا سائفر نظام دشمنوں کو مل جائے گا؟

کپتان نے خط لہراتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک نے بھیجا ہے۔ بعد میں بتایا گیا کہ پاکستانی سفارت کار نے بھیجا تھا۔ اسے پبلک کرنے کے معاملے میں یہ بتایا گیا کہ اگر اسے پبلک کر دیا تو وہ سائفر نظام جو پاکستانی سفارت کار اپنی خفیہ خط کتابت کے لیے استعمال کرتے ہیں، دوسرے ممالک کے ہاتھ لگ جائے گا اور یوں پاکستان کے تمام خفیہ راز غیر ممالک جان لیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟ اور کوشش کرتے ہیں کہ سائفر کو سمجھیں۔

سائفر یعنی ایک عام تحریر کو ایسے خفیہ طریقے سے بھیجنا کہ راستے میں کسی دشمن کو وہ خط مل بھی جائے تو وہ اسے سمجھ نہ پائے، ایک پرانی تکنیک ہے۔ ڈھائی ہزار برس قبل کا یونانی مورخ ہیروڈوٹس بتاتا ہے کہ اس کے زمانے میں تحریر کو لکڑی کی تختی پر لکھ کر اوپر روغن کر کے چھپایا جاتا تھا۔ یا پھر کسی غلام کی ٹنڈ پر تحریر کو ٹیٹو کر دیا جاتا تھا۔ اس کے بال اگ آتے تو تحریر چھپ جاتی اور مکتوب الیہ اس کی دوبارہ ٹنڈ کر کے تحریر پڑھ لیتا۔ غالباً آج کی زبان میں اسے ون ٹائم سائفر کہا جائے گا کیونکہ اس غلام کا ایک مرتبہ استعمال کرنا ہی ممکن تھا۔

زمانے نے ترقی کی تو سائفر کی بھی نئی تکنیکیں ایجاد ہوئیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کی ایک وجہ اتحادیوں کی جانب سے اس کی سائفر مشین اینگما کو بریک کرنا بھی تھی۔ اینگما کے پاسورڈ روز تبدیل ہوتے اور ایک ہی پاسورڈ سے پیغام کو سائفر اور ڈی سائفر کیا جاتا تھا۔ ان پاسورڈز تک اتحادیوں کی رسائی نے ان کا کام آسان کر دیا۔ یوں جرمن خفیہ منصوبوں اور پیغامات تک اتحادیوں کی رسائی نے جنگ کا دورانیہ مختصر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   لفظ وزیر کا مطلب

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ڈیجٹل کمپیوٹر عام ہوئے تو سائفر کی تکنیک بھی بدل گئی۔ بہرحال اس زمانے میں بھی عام طور پر کسی تحریر کو پاسورڈ لگا کر سائفر کیا جاتا۔ اسے کھولنے والے کے پاس بھی وہی پاسورڈ ہونا لازم تھا۔ یہ تکنیک ہم آج بھی زپ فائل، مائکرو سافٹ ورڈ اور پی ڈی ایف فائل کو پاسورڈ لگا کر استعمال کرتے ہیں۔ اس میں مسئلہ یہ تھا کہ پاسورڈ کی مکتوب الیہ تک محفوظ انداز میں ترسیل کیسے کی جائے اور اگر دشمن پاسورڈ کی لسٹ چرا لے تو پھر کیا ہو گا؟

سنہ 1976 میں وٹفیلڈ ڈفی اور مارٹن ہلمین نے پبلک پرائیویٹ کی (الجھن سے بچنے کے لیے اسے ہم آگے پاسورڈ لکھیں گے، آپ چاہیں تو اسے کلید یا چابی پڑھ لیں) کے ذریعے پیغامات کی محفوظ ترسیل کا کا بنیادی خاکہ پیش کیا۔ رالف مرکل نے اس پر مزید کام کر کے عملی شکل دی۔ 1977 میں سائفر کا آر ایس اے طریقہ بنا جس میں پبلک اور پرائیویٹ پاسورڈ کا استعمال کیا گیا جو بہت جلد عام استعمال ہونے لگا۔

اس طریقے میں کسی بھی تحریر یا فائل کو سائفر کرنے کے لیے دو پاسورڈ استعمال کیے جاتے ہیں جسے سائفر کا پاسورڈ پیئر (جوڑا) کہتے ہیں۔ ایک پبلک پاسورڈ ہوتا ہے، جو عام مواصلاتی چینل پر کسی شخص کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس پبلک پاسورڈ سے بھیجنے والا شخص تحریر کو سائفر کرتا ہے۔ یہ سائفر صرف وہی شخص دوبارہ ڈی سائفر کر کے عام تحریر میں تبدیل کر سکتا ہے جس کے پاس اس پبلک پاسورڈ جوڑے کا پرائیویٹ پاسورڈ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: -   مفتی تقی عثمانی صاحب کی ’آسان تفسیرِ قرآن‘

حکومت پاکستان نے بھی اسی طرح کے پبلک پرائیویٹ پاسورڈ کے جوڑے بنا رکھے ہیں۔ پرائیویٹ پاسورڈ اس کے اپنے پاس محفوظ ہوتا ہے اور وہ کسی دوسرے کو نہیں دیا جاتا۔ سفارت کار کو اس جوڑے کا پبلک پاسورڈ مہیا کیا جاتا ہے۔ وہ اس پبلک پاسورڈ کے ذریعے کسی بھی تحریر کو سائفر کرتا ہے اور حکومت پاکستان کے مجاز افسر کو بھیج دیتا ہے۔ راستے میں وہ سائفر پیغام کسی کو بھی مل جائے، وہ اس کے لیے بیکار ہوتا ہے کیونکہ اس میں اسے صرف سائفر شدہ لایعنی حروف ہی دکھائی دیں گے۔ جب مجاز افسر کو وہ پیغام ملتا ہے تو وہ اس پبلک پرائیویٹ پاسورڈ کے جوڑے کے پرائیویٹ پاسورڈ کے ذریعے اس سائفر شدہ پیغام کو اصل حالت میں واپس لے آتا ہے اور سائفر عام تحریر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

یعنی سائفر کو ایک ایسا مقفل لفافہ سمجھیں جسے صرف وہ شخص کھول سکتا ہے جس کے پاس اس کا پرائیویٹ پاسورڈ ہو۔ اور اس لفافے میں کسی بھی تحریر کو ہر وہ شخص بند کر سکتا ہے جس کے پاس اس کا پبلک پاسورڈ ہو۔

جب سفارت کار اپنے پیغام کو سائفر کے لفافے میں بند کر کے پاکستان بھیجتا ہے، تو پاکستان میں موجود افسر اسے اپنے پرائیویٹ پاسورڈ کے ذریعے لفافے سے نکال کر دوبارہ عام تحریر کی شکل میں لے آتا ہے۔ سائفر کے محفوظ لفافے سے نکالی جا چکی اس عام تحریر کو اگر کسی کو بھی دے دیا جائے تو اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو گی کہ اس کا پرائیویٹ پاسورڈ کیا ہے جس کے ذریعے اسے واپس عام تحریر کی شکل دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: -   حیرت کیسی؟

اگر حکومت پاکستان اپنے سفارت کار کے بھیجے گئے خط کو پبلک کرنا چاہیے، تو وہ سائفر کے لفافے سے نکالی جا چکی عام تحریر ہی پبلک کرے گی۔ اس کے پبلک ہونے سے پاکستان کے سفارتی سائفر نظام کو ہرگز کوئی خطرہ درپیش نہیں کیونکہ حکومت صرف لفافے سے نکلا ہوا خط دے گی، لفافہ کھولنے کی کنجی نہیں۔ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ سابقہ وزیراعظم پاکستان کو کسی نے غلط معلومات فراہم کی تھیں، اور ان کا یہ گمان درست نہیں ہو گا کہ سائفر کو وہ کسی بھی دوسرے شخص سے بہتر جانتے ہیں۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں