Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 32

پانچویں پارے کا خلاصہ

چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ پانچویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے چُنی جانے والی عورتوں کے اوصاف کا ذکر کیا کہ نہ ان میں بُرائی کی علت ہونی چاہیے اور نہ غیر مردوں سے خفیہ مراسم پیدا کرنے کی بری عادت۔ اسی طرح انسان جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اُسے عورت کے اہلِ خانہ کی اجازت سے یہ کام کرنا چاہیے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ ان کو باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیا کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس پارے میں اپنے بندوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ اس پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے گھریلو سطح پر اختیارات کا تعین بھی فرما دیا کہ مرد‘ عورتوں پر نگران کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے ہمیشہ مرد و زن کے باہمی حقوق کا ذکر کیا ہے لیکن حتمی فیصلے کرنے کے حوالے سے مردوں کو عورتوں پر یک گونہ فوقیت دی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو مردوں کی وہبی فضیلت ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عام طور پر گھروں کے اخراجات مردوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین‘ قریبی اعزہ و اقارب‘ یتیموں‘ مسکینوں‘ قریبی ہمسایوں اور دور کے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔
اس پارے میں اس آیت کا بھی نزول ہوا کہ اے ایمان والو! نماز کے قریب نہ جائو جبکہ تم نشے کی حالت میں ہو‘ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس آیت کے شانِ نزول کے حوالے سے ابوداؤد‘ نسائی اور ترمذی نے الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ہے کہ ”حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شراب حرام ہونے سے پہلے چند مہاجرین اور انصار صحابہ کو دعوت پر مدعو کیا۔ انہوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی‘ جب نماز کا وقت آیا تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نشے میں ہونے کی وجہ سے وہ کوئی لفظ پڑھنا بھول گیا‘ جس سے آیت کے معنی بالکل بدل گئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس پر مذکورہ بالا آیت کا نزول فرمایا۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد سورۃ المائدہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان آیات کا نزول فرما دیا کہ ”اے ایمان والو! بے شک شراب‘ جوا‘ بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس‘ تم ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘۔ اور شراب ہمیشہ کیلئے حرام ہو گئی۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کر سکتا ہے‘ لیکن وہ شرک کو کسی بھی طور پر معاف نہیں کرے گا۔ اس پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حسدکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسدکرنے والے لوگ درحقیقت اللہ کے فضل اور عطا سے حسد کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل کو نبوت اور حکومت سے نوازا تھا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس پارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل (افراد) کے پاس پہنچا دو۔ امانتوں میں ہر قسم کی امانتیں‘ چاہے اللہ کی ہوں یا بندوںکی‘ شامل ہیں۔ رسول کریمﷺ کو اہلِ مکہ دشمنی کے باوجود امین کہتے تھے اور جس دن آپﷺ ہجرت فرما رہے تھے‘ اس دن بھی کفار کی امانتیں آپﷺ کے پاس موجود تھیں‘ جن کو لوٹانے کی ذمہ داری آپﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر کے مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار (یا علم) والوں کی بھی‘ پھر اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو‘‘۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت لازمی ہے اور صاحبِ اختیار کی اطاعت بھی ہونی چاہیے‘ لیکن اگر تنازع کی صورت پیدا ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات کو حرفِ آخر سمجھنا چاہیے۔ امام احمدؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریمﷺ نے ایک انصاری صحابی کی قیادت میں ایک فوجی دستے کو بھیجا‘ دستے کے امیر کسی بات پر لوگوں سے ناراض ہو گئے تو انہوں نے آگ جلائی اور لوگوں کو اس میں کودنے کے لیے کہا۔ دستے کے ایک نوجوان نے لوگوں کو کہا کہ ہم لوگ رسول کریمﷺ پر آگ سے بچنے کے لیے ایمان لائے ہیں‘ اس لیے ہم جلدی نہ کریں‘ یہاں تک کہ رسولﷺ سے پوچھ لیں۔ جب انہوں نے واپس آکر رسول کریمﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے کہا کہ اگر تم لوگ اس میں کود جاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر لیڈر یا حاکم قرآن وسنت کے خلاف یا عوام کے مفادات اور مصالح کے خلاف کوئی اقدامات کر رہا ہو تو اس کے ان ناجائز اقدامات کو قبول کرنا خلافِ دین ہے۔
اس پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اہمیت کا بھی ذکر کیا کہ جو رسول کریمﷺ کی اطاعت کرتا ہے‘ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔ اسی طرح اس پارے میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں‘ وہ قیامت کے دن نبیوں‘ صدیقوں‘ شہیدوں اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے تحفے اور سلام کے جواب دینے کے آداب بھی بتلائے ہیں کہ جب کوئی کسی کو سلام کہے یا تحفہ دے تو ایسی صورت میں بہتر جواب اور بہتر تحفہ پلٹانا چاہیے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم اتنا جواب اور اتنا تحفہ ضرور دینا چاہیے‘ جتنا وصول کیا گیا ہو۔ اس پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دارالکفر میں رہنے والے مسلمانوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور واجبات کو احسن انداز میں ادا کریں‘ اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو ان کو اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ اگر وہ ہمت اور استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیںکرتے تو ان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا پڑے گا؛ تاہم ایسے لوگ اور عورتیں‘ جو معذوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت سے قاصر ہوں گے‘ اللہ تعالیٰ ان سے مواخذہ نہیں کریں گے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز حالتِ جہاد میں بھی معاف نہیں؛ تاہم جہاد اور سفر کے دوران نمازکو قصر کیا جا سکتا ہے۔ خوف اور جنگ کی حالت میں فوج کے ایک حصہ کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے جبکہ ایک حصے کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز ادا کرنا چاہیے اور جونہی امن حاصل ہو جائے‘ نماز کو بروقت اور احسن انداز سے ادا کرنا چاہیے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کی مخالفت کرنے والوں کی بھی مذمت کی ہے اور ارشاد فرمایا کہ جو کوئی ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہﷺ کی مخالفت کرے گا‘ اللہ تعالیٰ اس کا رخ اس کی مرضی کے راستے کی طرف موڑ دیں گے اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے‘ جو بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔ اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتلاتے ہیں کہ اگر لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر ایمان لے آئیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں تو اللہ تعالیٰ کو انہیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایمان اور شکر گزاری کے راستے کو اختیار کرنا ہو گا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کو پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   چودھویں پارے کا خلاصہ
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں