Columns of Saadullah jaan barq 20

سفارش اورسپارس

آپ میں سے کچھ لوگ یہ سن کر گلاب ہوجائیں گے، ویسے زیادہ تر کے جل بھن کرچپلی کباب بن جانے کا بھی خدشہ ہے کہ آخر کار، آخرکار ہم بھی ’’کچھ‘‘ بننے والے ہیں۔ اول تو امکان یہ ہے کہ ہم خود ہی ’’کچھ‘‘بن جائیں ورنہ ’’کسی کچھ‘‘ کاکچھ ضروربن جائیں گے۔

کوشش توہم ایک زمانے سے کررہے تھے لیکن ہماری کوششوں کا قبلہ درست نہیں تھااورغلط سمتوں میں درخواستوں کے گھوڑے دوڑایاکرتے تھے حالانکہ درخواستوں کے گھوڑے دوڑانے میں ہم دشت تودشت ہیں، دریاؤں سے لے کر گٹروں کو بھی نہیں چھوڑا، لیکن پرانے زمانے کے ہیں، اس لیے سفارشوں کے پر لگایاکرتے تھے۔

پھر ایک دانائے راز ہمارے رہنمابن گئے، انھوں نے سمجھایاکہ یہ وہ زمانہ نہیں جب سفارش علی خان بڑی بے شرمی سے بیگم سفارش علی خان بن جاتی تھی، سفارش علی خان کا شمار اب ’’ہیوں ‘‘میں ہوتاہے نہ شیوں میں بلکہ تیسری جنس کے لیے بھی ڈیٹ ایکسپائر ہوچکی ہے اورجب سفارش علی خان ہی نہیں رہا تو بیگم سفارش توگئی کھوہ کھاتے میں۔ پوچھنے پر ہمارے دانائے رازنے بتایاکہ اب سفارش علی خان کی جگہ سفارش علی خان نے لے لی ہے جس میں سپر اورسپاری دونوں کاکمبی نیشن ہے۔
سپر توانگریزی کا سپرہوتاہے جو ہرسر کے اوپرہوتاہے اورکبھی کبھی ڈوپربھی ہوجاتاہے یعنی معاون سے معاون خصوصی اورمعاون خصوصی یاوزیر بننے کے بھی چانس،کیوں کہ رفتہ رفتہ وہ کسی ہستی کا سامان ہوجاتے ہیں اور’’خان ساماں‘‘بھی، اور سپاری توآپ جانتے ہیں کہ وہ پان والی سپاری نہیں بلکہ وہ سپاری ہوتی ہے جو انڈر ورلڈ میں مروج ہواکرتی تھی لیکن جب سے انڈر ورلڈ گینگز نے سیاسی پارٹیوںکی شکل اختیارکی ہوئی ہے اور ممتازرہنما’’بھائی‘‘ بن چکے ہیں، تب سے سفاری نے سپاری کا جون بدلہ ہے اورملک بھر کے گینگ اب الیکشن کوبھی گینگ وار سمجھتے ہیں اوراس ماحول میں اگر ’’کچھ‘‘ پانا چاہتے ہوتو سپر سپر اور اس بھی اوپر ’’سپارش‘‘ سے کام لینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: -   چند احتیاطی تدابیر !

باقی رہی صلاحیت تو وہ تو ہمارے اندر بے پناہ ہے اورکچھ دینے والوں یاکچھ بنانے والوں پرہم نے اپنے سی وی کے ذریعے ثابت بھی کیا ہواہے، ہمارے اندر وہ تمام صلاحیتیں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہیں، یہی کہ اگرہمیں ’’اپنا کچھ‘‘ بنانے والاکہے کہ دورپہاڑکی چوٹی پردوچیونٹیاں لڑ رہی ہیں، ہم باوجود بہراہونے کے فوراً ثابت کر دیں گے کہ ایک دوسرے کوگالیاں بھی دے رہی ہیں، اگرہمارا’’کچھ‘‘ کہے کہ سامنے کھیت میں شیر ہے، اوروہاں کچھ نہ ہو تو فوراً ثابت کردیں گے کہ ’’شیر‘‘ابھی ابھی کھیت چر کر لندن چلاگیا،اگر ہمارا ممدوح کچھ بیان دے کہ نیولے اورسانپ کی لڑائی میں نیولے نے سانپ اورسانپ نے نیولے کونگل لیاہے اورمیدان میں ’’صرف وژن‘‘ رہ گیاتوہم اسی وقت میدان کوصفاچٹ ثابت کردیں گے۔

اگرہماراکچھ بنانے والاکچھ پانی کولسی بناکربلوائے توہم اس کے اوپر ’’مکھن‘‘ کے گولے تیرادیں گے۔نمونے کے طورپر ہم نے اپنے سی وی یعنی سپارش کے ساتھ ایک سیمپل بیان بھی نتھی کیاہے جس میں ہم نے سرکاری اعداد وشمار کی بنیاد پر ثابت کیاہے کہ ہمارے پاس اتنی زیادہ پہلی ترجیحات ہیں کہ ملک کی پوری آبادی کے حصے میں ایک نہیں دو دو پہلی ترجیحات آرہی ہے اورتقریباً اتنی پہلی ترجیحات انڈرپورڈکشن ہیں جسے لکشمی دیوی عرف آئی ایم ایف فنانس کررہی ہے چنانچہ ہرپیداہونے والے بچے پرحکومت کی طرف چارچار پہلی ’’ترجیحات‘‘ رہتی جائیں گی۔ اورسب سے بڑی صلاحیت جوہم نے اپنی بیان کی ہے۔

یہ ہے کہ ریاست مدینہ کوتولانچ کرچکے اور اس میں صادق اورامین بھی بھردیے گئے لیکن عوام کویہ سن کر بے حد مسرت حاصل ہوگی کہ ریاست مدینہ میں فردوس گمشدہ بازیاب کرنے کے انتظامات بھی مکمل ہوچکے ہیں اورہمارے دواعلیٰ پائے کے ماہرین ، حضرت باباجی ڈیموں والی سرکار اورجناب ڈاکٹر، پروفیسر، علامہ اور مولانا طاہر القادری ’’نرسری‘‘ سے پنیری لینے گئے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے کنٹیینر بھی بھجوائے دیے گئے ہیں اور ۔کام کومزید تسلی بخش بنانے کے لیے مہنگائی کو ٹاسک دیاگیاہے کہ عوام کی تربیت جاری رکھی ۔

یہ بھی پڑھیں: -   خوشگوار گھریلو زندگی

امید ہے کہ ہماری درخواست جس کے ساتھ سپارش لف ہذابھی قبول کرلی جائے اور بہت جلد شاید آٹھ دس سالوں میں آپ یہ خوشخبری سن لیں گے کہ ہم بھی کسی نہ کسی کچھ کے۔کچھ بن جائیں گے۔ہماری پہلی ترجیح تو ’’کچھ نہ کچھ‘‘ برائے اطلاعات ہے کیوں کہ اطلاعات میں ہمارا بہت طویل تجربہ ہے اور ہماری اطلاعات اتنی مصدقہ ہوتی ہیں کہ خود اطلاع بھی حیران ہوکرہمارا منہ تکنے لگتی۔

یہ تو نے آج کن نظروں سے دیکھا

کہ تیرا دیکھنا، دیکھا نہ جائے

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں