Khursheed Nadeem 29

سیاسی دیوتا

انسانی معاشروں میں دیوتا نہیں ہوتے۔ عجیب بات ہے کہ لوگ سیاست میں دیوتا تلاش کرتے اور پھر مان بھی لیتے ہیں۔
سیاست اقتدار کے لیے ہوتی ہے اور یہ جذبات کے زیرِ اثر آگے نہیں بڑھتی۔ بے رحم زمینی حقائق قدم قدم پر آپ کے سامنے آ کھڑے ہوتے اور اپنے اعتراف پر مجبور کرتے ہیں۔ تاریخ یہ ہے کہ عزیز ترین رشتے اور تعلقات اس کی نذر ہوجاتے ہیں۔ کیا عمران خان صاحب نے خوشی سے عثمان بزدار سے استعفیٰ لیا ہوگا؟ کیا نواز شریف بطیبِ خاطر، پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوئے ہوں گے؟ کیا آصف زرداری دلی آمادگی کے ساتھ شہباز شریف صاحب کو وزیراعظم بنانے کیلئے سرگرم ہیں؟
جب دنیا میں جمہوریت کا چلن نہیں تھا تو سیاست کہیں زیادہ سنگدل تھی۔ بھائی بھائی کو قتل کرواتا تھا اور بیٹا باپ کو۔ یہ جرائم ان لوگوں کے نامۂ اعمال میں بھی درج ہیں جو خدا کے حضور میں جھکتے اور اس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ اللہ کی اس کتاب کی کتابت بھی کرتے تھے جس میں لکھا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے یہ آیت، بارہا پڑھی اور لکھی ہوگی۔ اس کے باوجود وہ اقتدار کیلئے عزیز ترین رشتوں کی جان لینے پرکیسے آمادہ ہوئے ہوں گے؟ آج کے جمہوری دور میں یہ سوالات عوام کیلئے ہیں۔ انہیں ان کے جواب تلاش کرنے چاہئیں اور ان کی روشنی میں اہلِ سیاست کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرنا چاہیے۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سیاست میں دیوتا نہیں ہوتے۔ سیاستدان عام انسان ہوتے ہیں اور ان کا پہلا مقصد اقتدار ہوتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس میں استثنا بھی ہوتا ہے لیکن ان مستثنیٰ شخصیات پر اقتدار کی دیوی کم ہی مہربان ہوتی ہے۔ اگر ہو جائے تو ان کے اقتدار کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے۔ بادشاہت میں تسلسل اور استحکام زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے ماضی میں اگر خوش بختی کسی سلطنت کے دروازے پر دستک دیتی اور کوئی نیک آدمی بادشاہ بن جاتا تو تادمِ مرگ اقتدار پر رہ سکتا تھا۔ جمہوری دور میں تو اقتدار کا دورانیہ متعین ہوتا ہے اورصرف اپنی صلاحیت پر ہی اسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔
اس صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ اقتدار تک پہنچنے اور وہاں قیام کے آداب سے واقف ہو جائیں۔ اب عوام کو یہ جاننا ہے کہ کوئی دیوتا موجود نظام میں اقتدار تک نہیں پہنچ سکتا۔ اقتدار جن اقدار کی قربانی مانگتا ہے، ان کو قربان کر دینے کے بعد کوئی دیوتا نہیں رہ سکتا۔ یہ قربانی عام طور اخلاقی روایات کی ہے۔ جو زہر کا پیالہ نہیں پیتا، وہ ممکن ہے کہ برسوں اقتدار پر رہے لیکن پھر وہ دیوتا نہیں ہوتا۔
عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اہلِ سیاست انسان ہیں اور ان میں کوئی دیوتا نہیں۔ تازہ ترین صورتحال پر ایک نظر پھر ڈال لیں۔ چوہدری پرویز الٰہی ہوں یا ایم کیو ایم۔ دو بڑی جماعتیں انہیں اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہیں۔ چوہدری صاحب نے توبہت واضح الفاظ میں یہ بتا دیاکہ ہمیں پیشکش آئی توہم نے قبول کرلی۔ اقتدار کے کاروبار میں صرف پیسے کی قدر نہیں ہوتی، منصب بھی اتنا ہی قیمتی ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات نقدی سے زیادہ۔ یہاں کوئی روپے کی پیشکش کرے یا منصب کی، دونوں کی اخلاقی حیثیت ایک جیسی ہیں۔ ایسی پیشکش کے بعد کوئی دوسرے کو کرپشن کا الزام نہیں دے سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیوتا کسی طرف بھی نہیں۔ سب انسان ہیں اور یہ اقتدارکی سیاست ہے۔
دوسری بات جو ہمارے عوام کو سمجھنی چاہیے یہ ہے کہ سیاست سماجی اصلاح کیلئے نہیں ہوتی۔ یہ دراصل امورِ مملکت کو چلانے کے لیے آپ کی مہارت کا امتحان ہے۔ ریاست یا سیاسی نظم جن مقاصد کیلئے قائم ہوتا ہے، آپ ان کے حصول کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں، سیاست اسی کا نام ہے۔ کیا آپ ایسا نظام وضع کر سکتے ہیں جو عوام کے جان و مال کی حفاظت کر سکے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کا اقتدار قائم رہ سکتا ہے۔ اقتدار وعظ و نصیحت کا منبر نہیں، کچھ پالیسیوں کی تشکیل سے عبارت ہے۔
تیسری بات جو عوام کو درست فیصلے تک پہنچاتی ہے، اس بات کا ادراک ہے کہ سیاسی راہنماکا انتخاب جذبات کی بنیاد پر نہیں، عقل کے استعمال سے کرنا چاہیے۔ سیاست میں یہ دیکھنا چاہیے کہ کون ان مقاصد کے حصول کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے جن کیلئے ریاست قائم ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر ہے کہ جذبات کی بنیاد پرنہیں ہو سکتا۔ اس کی اساس یہ بھی نہیں ہو سکتی کہ کس کی شکل و صورت بہتر ہے یا اس کی جنس کیا ہے؟ سیاست میں یہ باتیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاست میں رومان نہیں ہوتا۔ اس میں عوام ایک جماعت یا فرد کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ ان کو ایک اچھی حکومت دے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہے تو انہیں اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ اگر نہیں تو پھر انہیں کسی بہتر آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ اسی وقت ممکن ہے جب عوام عقل کی بنیاد پرفیصلہ کریں گے۔
گاندھی جی کا شمار تاریخ کے بڑے سیاسی رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔ ان میں کوئی ایسی خوبی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان سے کوئی رومانوی تعلق قائم کیا جا سکتا‘ لیکن ان میں وہ خوبیاں موجود تھیں جو کسی فرد کو ایک بڑا سیاسی رہنما بناتی ہیں۔ یہ خوبیاں اسی وقت دیکھی جا سکتی ہیں جب کوئی عقل کی آنکھ سے ان کی شخصیت کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں شبہ نہیںکہ سیاستدانوں سے جذباتی لگاؤ ہو جاتا ہے لیکن اس تعلق کو بہرحال عقلی بنیادوں پر ہی استوار ہونا چاہیے۔
ہم عام طور پر تاریخی واقعات کو عقلی بنیاد پر سمجھتے ہیں۔ علمِ تاریخ اسی کا نام ہے۔ یہ اس لیے آسان ہوتا ہے کہ ہم ان واقعات کا حصہ نہیں ہوتے اور ان کے غیرجذباتی جائزے پر قادر ہوتے ہیں۔ ہم جن واقعات کا حصہ ہوتے ہیں، ان میں غیر جذباتی ہونا مشکل ہوتا ہے۔ ہمارے فیصلوں میں غلطی کا امکان زیادہ ہوتا ہے‘ اس لیے آج ہونے والے فیصلوں کے بارے میں زیادہ متنبہ رہنا ضروری ہے۔
اگر عوام ان باتوں کا لحاظ رکھیں تو سیاست انتہا پسندی سے بچ سکتی ہے اور قوم تقسیم سے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی ایک جماعت یا لیڈر کو بہتر قرار دے اورکوئی دوسرے کو۔ جب یہ فیصلہ عقل کی بنیاد پر ہوگا توپھر معاشرے میں مکالمہ ہوگا۔ مکالمہ ہی بہتر فیصلے تک پہنچاتا ہے۔ اس سے سماجی ارتقا ہوتا ہے اور اس سے سیاست بھی نکھرتی چلی جاتی ہے۔ اہلِ سیاست بھی پھر زیادہ محتاط ہوجاتے ہیں کہ عوام عقلی بنیاد پران کا جائزہ لے رہے ہیں نہ کہ کسی عصبیت یا جذبات کی بنیاد پر۔
آج ملک ایک سیاسی بحران کے دھانے پر کھڑا ہے۔ اس میں سب سے اہم چیلنج قوم کوتقسیم سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ عوام اپنے اپنے پسندیدہ رہنماؤں کو ایک جیسا انسان سمجھیں۔ یہ مان لیں کہ ان میں کوئی دیوتا نہیں ہے۔ یہ اقتدارکا کھیل ہے۔ اس میں ممکن ہے کوئی ہماری نظر میں زیادہ بہترہو لیکن یہ خیال کرناکہ یہ حق وباطل کا کوئی معرکہ ہے، سیاست کی درست تفہیم نہیں ہوگی۔
بحرانوں میں قومی وحدت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ہم کسی قیمت پر اسے گنوا نہیں سکتے۔ انتشار جہاں غیرجمہوری قوتوں کی مداخلت کا دروازہ کھولتا ہے وہاں غیرملکی دشمنوں کو بھی تقویت پہنچاتا ہے۔ اس وقت قومی وحدت کا زیادہ انحصار لیڈروں پرنہیں، عوام پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   پانچویں پوزیشن پر جشن
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں