adnan-khan-kakar 60

ظالم بادشاہ ضحاک اور کاوہ لوہار کی کہانی

بہت پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک ایران پر ایک بادشاہ حکومت کیا کرتا تھا۔ اس کا نام جمشید تھا۔ اس کی حکومت انسانوں، چرند، پرند، دیووں اور پریوں سمیت تمام مخلوقات پر تھی۔ چھے سو برس تک حکومت کرنے کے بعد اس نے ایک دن دربار میں ڈینگ ماری کہ اس کی شان و شوکت اس کی عقل و حکمت کی وجہ سے ہے۔ دیوتا حسب معمول یہ سن کر ناراض ہو گئے کہ انہیں کریڈٹ نہیں دیا جا رہا۔ اس کی سلطنت میں جابجا بغاوتیں شروع ہو گئیں۔

اس دوران بلاد عرب پر مرداس نامی ایک رعیت پرور بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کے پاس بے شمار گایوں اور بھیڑوں کے ریوڑ تھے اور ہر سوالی کو وہ بے حساب دودھ دیا کرتا تھا۔

اس کا ایک نہایت مفسد و شریر بیٹا ضحاک نامی تھی۔ ایک دن شیطان کے جی میں سمائی کہ کیوں نہ ضحاک کو بادشاہ بنا کر جمشید کا حساب چکتا کیا جائے جس نے نیکی اور انصاف پھیلا کر شیطان کا کام چوپٹ کر رکھا تھا۔ وہ بھیس بدل کر ضحاک کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر تم میری بات راز میں رکھو تو ایک ایسی بات بتاؤں جس سے تمہیں بہت فائدہ پہنچے گا۔ ضحاک مان گیا۔ شیطان نے اسے کہا کہ تم جیسا ذہین اور باکمال شہزادہ موجود ہے، اتنی عمر ہو گئی ہے لیکن تمہارا نکما باپ ابھی تک بادشاہ بنا ہوا ہے، تو تم اسے راستے سے ہٹا کر خود بادشاہ بن جاؤ تاکہ اپنی مرضی کی بادشاہوں والی زندگی جیو۔

شروع میں تو ضحاک نہ مانا مگر شیطان نے اسے پٹا لیا۔ اس نے ہاں کہی تو شیطان نے اس باغ میں ایک گہرا گڑھا کھودا جہاں شاہ مرداس صبح اندھیرے میں ہی سیر کرنے جاتا تھا۔ مرداس گڑھے میں گر کر مر گیا اور ضحاک بادشاہ بن گیا۔

اب ایک دن شیطان ایک خوش گفتار مرد کی صورت ضحاک کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حضور والا میں ایک باکمال باورچی ہوں۔ آپ کی خدمت کا موقع نصیب ہو تو ایسے کھانے پکا پکا کر کھلاؤں کہ آپ جھوم اٹھیں۔

ضحاک نے اسے اپنا ملازم رکھ لیا۔ اس زمانے میں انسانی خوراک پھل پھول اور سبزیوں پر مشتمل تھی۔ شیطان نے پہلے دن ضحاک کو انڈا کھلایا۔ اسے بہت پسند آیا۔ اگلے دن اس نے بٹیرے پکائے۔ اس سے اگلے دن کبوتر۔ پھر تیتر۔ پھر مرغ۔ پھر دنبہ۔ اور پھر گائے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ ضحاک کو خون کی چاٹ لگ جائے۔ ضحاک اور درباریوں کو یہ کھانے بہت پسند آئے۔ انہوں نے باورچی کی بہت تعریف کی۔ باورچی یہ سن کر بولا کہ حضور کل میں آپ کے لیے ایسا خاص کھانا پکاؤں گا کہ آپ کو لطف آ جائے گا۔ اس نے ساری رات لگا کر ضحاک کے لیے قاز بھونی اور دنبے کے کباب بنائے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اکیسویں پارے کا خلاصہ

ضحاک وہ کھا کر بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا مانگ کیا مانگتا ہے؟ شیطان تو موقعے کی تاک میں تھا، کہنے لگا کہ بندے کے پاس آپ کا دیا سب کچھ ہے، بس تمنا یہ ہے کہ اپنی محبت ظاہر کرنے کے لیے آپ کے شانے چوم لوں۔ ضحاک مزید خوش ہوا کہ چلو چار پیسے بچ گئے، اس نے شیطان کو اپنے شانے چومنے کی اجازت دے دی۔

شیطان نے جیسے ہی شانے چومے ساتھ ہی وہ غائب ہو گیا۔ ضحاک کے شانوں پر دو سیاہ ناگ نکل آئے۔ ضحاک نے سلطنت بھر کے طبیب بلائے، ناگوں کو وہ کاٹ کر الگ کرتے تو اگلی صبح وہ مزید توانا ہو کر پھر نکل آتے۔ سب عاجز آ گئے۔ ضحاک کا جسم نوچ نوچ کر ناگوں نے اسے بے حال کر دیا۔

zahhak

اب شیطان ایک طبیب کے روپ میں نمودار ہوا۔ اس نے ضحاک کو کہا کہ ان ناگوں کو مت چھیڑو۔ انہیں ان کی خوراک مہیا کرو تو وہ تمہیں تنگ نہیں کریں گے۔ اگر انہیں انسانی دماغ کھلائے جائیں تو وہ یہ خوراک شوق سے کھائیں گے اور ایک دن کھا کھا کر انسانی دماغ کے زہر سے مر جائیں گے۔

ادھر جمشید سے باغی سرداروں اور بادشاہوں نے جب یہ سنا کہ عرب پر ایک ہیبت ناک بادشاہ حکمران ہوا ہے جس کے شانوں پر موجود ناگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سر پر دیوتاؤں کا ہاتھ ہے، تو وہ ضحاک کے پاس جمع ہونے لگے۔ ایک بڑا لشکر بن گیا۔ ضحاک نے جمشید پر حملہ کیا۔ جمشید فرار ہوا۔ آخر کار ضحاک کی فوجوں نے اسے گرفتار کیا اور ضحاک نے اسے آرے سے چروا دیا۔

اب ضحاک کئی سو سال تک چین سے حکومت کرتا رہا۔ روز دو نوجوان پکڑ کر لائے جاتے اور ان کا مغز نکال کر ضحاک کے ناگوں کو کھلایا جاتا۔

ایک رات ضحاک نے خواب دیکھا کہ تین جوان اس کے محل میں آئے۔ درمیان والا بلند قامت تھا اور شاہی جلال اس کے بشرے سے ہویدا تھا۔ اس نے ضحاک کو اپنا بیل کی شکل والا گرز مارا۔ ضحاک پر لرزہ طاری ہوا۔ اس جوان نے ضحاک کے ہاتھوں کو رسیوں سے باندھا، اس کے کاندھوں پر ہل جوتنے والا جوا رکھا اور گلیوں میں گھسیٹ کر کوہ دماوند پر لے گیا۔

شاہی نجومیوں اور موبدوں نے بتایا کہ جمشید کے جد امجد طہمورث کی نسل سے فریدوں نامی شخص پیدا ہو گا اور وہی کرے گا جو خواب میں دیکھا ہے۔ ضحاک نے پوچھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرے گا تو موبدوں نے بتایا کہ نہ صرف تم اس کے باپ کو مارو گے، بلکہ برمایہ نامی جس گائے کا دودھ پی کر وہ بڑا ہو گا، اسے بھی مار ڈالو گے۔ فریدوں اپنے باپ اور اس رضائی ماں کا بدلہ تم سے لے گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   نظر بٹو ضروری ہے

ضحاک نے طہمورث کی نسل کے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنا شروع کیا۔ آبتین نامی ایک جوان کو اس نے مارا تو اس کی بیوی فرانک اپنے ننھے بچے فریدوں کو لے کر بھاگی۔ ایک چراگاہ میں اس نے ایک چرواہے کو دیکھا جو برمایہ نامی ایک ایسی گائے کو چرا رہا تھا جس کے جسم کا ہر بال مور کے پنکھوں کی مانند الگ رنگ کا تھا۔ فرانک نے فریدوں کو پالنے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

تین برس بعد ضحاک اس علاقے میں بھی آ پہنچا تو فریدوں کی ماں اسے لے کر کوہ البرز کی طرف بھاگی۔ ضحاک نے برمایہ اور چرواہے کو قتل کر دیا۔ فریدوں سولہ برس کا ہوا تو اس نے اپنی ماں سے اپنا نام نسب پوچھا۔ فرانک نے بتایا اور کہا کہ تمہارے باپ کو بادشاہ ضحاک نے قتل کیا ہے۔ فریدوں نے بدلہ لینے کی خواہش ظاہر کی مگر اس کی ماں نے اسے روکا اور کہا کہ جب تمہارے پاس طاقت ہو تو پھر یہ کام کرنا ورنہ مارے جاؤ گے۔

اسی اثنا میں ایسا ہوا کہ ضحاک کے دربار میں ایک دن کاوہ نامی ایک لوہار اپنا ہتھوڑا اور دھونکنی لیے ہوئے غصے میں طنطناتا ہوا داخل ہوا۔ اس کے بیٹے کو سپاہی گرفتار کر کے لے آئے تھے تاکہ اس کا مغز ضحاک کے ناگوں کو کھلایا جائے۔ اس نے ضحاک کو خوب ڈانٹا ڈپٹا کہ تم بادشاہ ہو کر رعایا سے ایسی نا انصافی اور ظلم و ستم کیوں کر سکتے ہو۔

ضحاک نے اسے پیش کش کی کہ اگر تم میری تابعداری کے حلف پر دستخط کرو تو میں تمہارے بیٹے کو چھوڑ دوں گا۔ کاوہ نے حلف کو پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا کہ میں ایسے ظالم بادشاہ کی اطاعت نہیں کر سکتا۔ ضحاک نے اس کے بیٹے کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

درباریوں نے پوچھا کہ اے شہنشاہ، تم نے اس کی گستاخی برداشت کیسے کی؟ تو ضحاک نے کہا کہ جب میں کاوہ پر نظر ڈالتا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ وہ ایک آہنی پہاڑ کے پیچھے محفوظ ہے اور اس کی حفاظت دیوتا کر رہے ہیں۔ میرا حوصلہ نہیں ہوا کہ اس سے ٹکر لے پاؤں۔

یہ بھی پڑھیں: -   کرو جو بات کرنی ہے

darafsh-kaviani

کاوہ باہر نکلا تو لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس نے اپنی آہنگری کی دھونکنی کو نیزے کے اوپر چڑھایا اور اس کا جھنڈا بنا کر علم بغاوت بلند کیا۔ ضحاک کے ظلم سے ستائے بے شمار لوگ کاوہ کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ کاوہ ان کو لے کر فریدوں کے پاس گیا۔ فریدوں اتنی جمعیت دیکھ کر خوش ہوا۔ اس نے کاوہ کو عزت دینے کی خاطر اس کے جھنڈے کا اپنا شاہی جھنڈا قرار دیا، اس پر ریشمی کپڑے اور ہیرے جواہرات ٹانکے، ایسا آہنی گرز بنوایا جس کا سرا بیل کی شکل کا تھا اور ضحاک سے بدلہ لینے چل پڑا۔

خواب کے مطابق اس نے ضحاک کو پکڑا، گلیوں میں گھسیٹا اور شیر کی کھال سے بنے تسموں سے باندھ کر کوہ دماوند پر لے گیا جہاں اسے زنجیروں سے باندھ کر ایک تنگ و تاریک غار میں قید کیا۔ اس کے جسم میں کیلیں ٹھونک کر اسے ایک دیوار پر ٹانگ دیا گیا تاکہ وہ سسک سسک کر مرے۔

کاوہ آہن گر کا جھنڈا ایرانی شہنشاؤں کا نشان بن گیا۔ اسے درفش کاویانی کہا جاتا تھا اور ہر آنے والا بادشاہ اس پر مزید جواہرات لگاتا۔ درفش کاویانی ساسانی بادشاہوں کے زمانے تک ایرانی شاہی پرچم رہا۔

Derafsh_Kaviani

فارسی میں جن الفاظ کے آخر میں ہ آتی ہے، اسے وہ ”ھے“ پڑھتے ہیں۔ فرشتہ، افسانہ اور دیوانہ کو ہم فرشتا، افسانا اور دیوانا پڑھتے ہیں تو ایران میں یہ لفظ فرشتہے، افسانھے اور دیوانھے ہیں۔ اسی طرح کاوہ کو فارسی میں کاوھے پڑھا جاتا ہے۔ اردو میں اس نام کو کاوہ لکھا جاتا ہے اور اس کا تلفظ کاوا کیا جاتا ہے۔

تو یہ تھی کہانی کاوہ لوہار اور ضحاک بادشاہ کی جسے بہت مختصر کر کے یہاں لکھا گیا ہے۔ کاوہ لوہار کو ایرانی تہذیب میں ظلم و زیادتی کے خلاف بلند ہونے والی انصاف کی آواز سمجھا جاتا ہے اور وہ ایک اساطیری ہیرو کا درجہ رکھتا ہے۔ براڈ شیٹ والے کاوہ موسوی کا نام بھی اسی لوہار کے نام پر ہے۔

اس قصے کا ماخذ سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں لکھا گیا فردوسی کے شاہنامہ ہے۔ فردوسی نے قدیم ایرانی روایات سے اس قصے کو نقل کیا تھا۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں