Attaul-Haq-Qasmi 26

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

آج بیٹھے بیٹھے ذہن میں خیال آیا کہ اگر آئینہ ایجاد نہ ہوا ہوتا تو کیا ہوتا؟ ہم میں سے کسی کو پتہ ہی نہ چلتا کہ اس کی شکل کیسی ہے؟ ہم ساری عمر صرف اندازے ہی لگاتے رہتے، مثلاً کسی کی ستواں ناک کو چھو کر اس کا سائز نوٹ کرتے اور پھر اپنی ناک کا حدود اربعہ جانچتے اور اس کے بعد بھی شش و پنج میں ہی رہتے کہ آیا ہماری ناک، ستواں ناک کی شرائط پر پوری اترتی ہے کہ نہیں؟ یہی کنفیوژن آنکھ، کان، پیشانی، ٹھوڑی اور چہرے کی لمبائی یا چوڑائی کی بابت بھی محسوس ہوتی۔ ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں چلنا تھا کہ ہم گورے ہیں، کالے ہیں، گندمی ہیں یا سانولے۔ سو اس ضمن میں بھی دوسروں کی ’’معلومات‘‘ پر انحصار کرنا پڑتا بلکہ ہم سب ایک دوسرے کی خوبصورتی اور بدصورتی کے بارے میں بھی ایک دوسرے پر انحصار کر رہے ہوتے، اس صورتحال کا ایک فائدہ بہرحال ہونا تھا اور وہ یہ کہ وہ جو نرگسیت کا شکار ہیں اور ہر وقت آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بلائیں لیتے رہتے ہیں انہیں بھی دوسروں سے اپنا حسن کنفرم کرانا پڑتا۔ اس صورت میں کافی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی تھیں مثلاً کوئی حسینہ کسی نامراد عاشق سے پوچھتی کہ میرا ’’منہ مہاندرا‘‘کیسا ہے تو وہ جل کر کہتا ’’در فٹے منہ‘‘ جیسا ہے اور یوں ان ریمارکس کی وجہ سے وہ راندئہ درگاہ ٹھہرتا، اس کے برعکس یہ سوال اگر رقیب روسیاہ سے کیا جاتا تو وہ جواب میں کان پر ہاتھ رکھ کر تان لگاتا

یہ بھی پڑھیں: -   سیاسی جماعت اور سیاسی فرقہ

چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو

جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو

اور وہ بدبخت اس کے صلے میں من کی مرادیں پاتا!

آئینے کے حوالے سے ایک اور خیال ابھی ابھی ذہن میں آیا ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے اسی دور کے کسی ’’سائنس دان‘‘ نے آئینے کی ابتدائی صورت ایجاد کی ہو اور اس کی صورت کچھ یوں ہو کہ کسی کھلے برتن میں پانی جمع کر کے اس میں اپنی شکل و صورت کا جائزہ لیا جاتا ہو۔ بالوں میں کنگھی کی جاتی ہو، داڑھی میں وسمہ لگایا جاتا ہو، عورتیں اس ’’آئینے‘‘کے سامنے سر نیہوڑا کر کنگھی پٹی کرتی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کچھ تماش بین قسم کے لوگ پانی میں لہریں پیدا کر کے کسی کا رقص بھی دیکھتے ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس’’سائنس دان‘‘کے ذہن میں یہ خیال کسی ندی کے کنارے کھڑے ہو کر چاند کا عکس ندی میں نظر آنے سے پیدا ہوا ہو گا اور چونکہ ہر گھر میں ندی کا اہتمام ممکن نہ تھا لہٰذا اس نے کسی’’ پرات‘‘ سے ندی کا کام لینا شروع کر دیا ہو اور یوں یہ نعمت گھر گھر پہنچانے میں وہ کامیاب ہو گیا ہو۔

تاہم اس نعمت کے گھر گھر پہنچنے میں کچھ زحمتیں بھی سامنے آئی ہوں گی۔ میاں بیوی میں جھگڑے شروع ہو گئے ہوں گے کہ تم نے آج تک مجھے کچھ سمجھا ہی نہیں ہمیشہ میرے ناک نقشے میں کیڑے ہی نکالتے رہے ہو یا رہی ہو، یہ آئینہ سامنے دھرا ہے۔ اس سے پوچھ لو کہ کون’’کوہجا‘‘ ہے اور کون سوہنا ہے؟ تاہم مجھے یقین ہے کہ فیصلہ بالآخر اسی کے حق میں ہوتا ہو گا جو ’’میں نہ مانوں‘‘ کے کامیاب فارمولے پر آخری دم تک اڑا رہتا ہو گااور سچی بات یہ ہے کہ جب سے سچ مچ کا آئینہ ایجاد ہوا ہے، اس ایجاد کی بدولت اردو کو بہت سی خوبصورت تراکیب، محاورے اور اشعار دستیاب ہوئے ہیں۔ تراکیب میں آئینہ خانہ اور آئینہ خیال ایسی تراکیب آئینے ہی کی دین ہیں، محاوروں میں آئینہ دکھانا اور آئینہ بنانا (حیران کرنا) ایسے بیسیوں محاورے موجود ہیں اور شاعری میں تو ہر طرف آئینہ ہی آئینہ نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ہماری ریل پر رحمت خدا کی (آخری قسط)

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

تماشا کہ اے محو آئینہ داری

تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

آئینہ ٹوٹ بھی جائے تو کوئی بات نہیں

دل نہ ٹوٹے کہ یہ بکتا نہیں بازاروں میں

آئینے سے مستفید ہونے والوں میں فلم والے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے چنانچہ

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

ایسے گیت وجود میں آئے!

باقی رہا آئینے کا سیاسی کردار، تو یہ ’’ایجاد‘‘ اس ضمن میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ دنیا بھر کی سیاسی جماعتیں اپنی حریف جماعتوں کو آئینہ دکھاتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ فی الوقت سب سے بڑا آئینہ ہمارا پرنٹ ا ور الیکٹرک میڈیا ہے جو بلا تمیز رنگ ونسل و مذہب و ملت سب کو آئینہ دکھاتا رہتا ہے لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، اس کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے کہ اس آئینے میں جس حکمران، جس سیاسی جماعت یا جس خفیہ ایجنسی کو اپنی مکروہ شکل نظر آتی ہے، وہ آئینہ بردار کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ ابھی تک کئی آئینہ بردار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا زخموں سے چور اپنے گھروں میں پڑے ہیں۔ گزشتہ دور آمریت میں جنرل پرویز مشرف تو ’’جیو‘‘ کا وہ ’’آئینہ ‘‘ہی توڑنے کے درپے تھے جو اس آمر کو اس کی اصل شکل دکھاتا تھا۔ تاہم سمجھدار لوگ آئینہ توڑنے نہیں، آئینہ خریدنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس وقت ہمارے درمیان کتنے ہی آئینہ فروش موجود ہیں جو ٹی وی ٹاک شوز اور کالموں میں حریتِ فکر کے علمبردار کا بہروپ دھار کر ہمارے سامنے آتے ہیں! ان بدنصیبوں کو دیکھ کر کبھی کبھی تو دل میں خیال آتا ہے کہ کاش ’’آئینہ‘‘ ایجاد ہی نہ ہوا ہوتا لیکن کیوں ایجاد نہ ہوتا؟ آخر اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی پہچان تو کرانی ہی تھی!

یہ بھی پڑھیں: -   حکومت اور اپوزیشن اختلافات میں درپیش سیاسی چیلنجز
Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں