Columns of Saadullah jaan barq 51

بیچارا سچ

یہ اس زمانے کی بات ہے جو اب خود ’’زمانے‘‘کو بھی یاد نہیں ہے، البتہ ’’مکانے‘‘ کو یاد ہے کیوں کہ اس مکانے میں ایک مملکت ناپرسان عالی شان رسوائے جہاں ومشہورجہاں ہواکرتی تھی جہاں شیر اوربکری ایک ہی گلاس میں اسٹرا ڈال کر کافی پیتے تھے اوربکری شیر سے ہراساں نہیں ہوا کرتی تھی۔

سنا ہے ان سب کو کوئی کام نہیں ہوتاتھا اس لیے سب مل کرچین کی بانسریاں بجاتے تھے جو ’’چین‘‘سے درآمد کی جاتی تھیں، ساتھ ہی امریکا کے ڈرم، عربوں کے دف اورآئی ایم ایف کی دی ہوئی شہنائیاں بجاتے تھے، لوگ خون کا سونا اور پسینے کی چاندی اچھال اچھال کرآیا جایا کرتے تھے۔

ایک گاؤں میں دوچچازاد،خالہ زاد اور پھوپھی زاد بھائی یعنی تربور رہا کرتے تھے، وہ دونوںجب جوان ہوئے توانھوں نے مملکت ناپرسان عالیشان کی راج دہانی انعام آباد، اکرام آباد کے بارے میں سنا کہ وہاں ’’مواقعے‘‘ اتنے زیادہ ہیں کہ لوگ وہاں سے ’’مواقع‘‘ کے گٹھڑ باندھ کردوردور تک لے جاتے ہیں چنانچہ ان تربوروں نے بھی راجدھانی انعام آباد اکرام آباد کا قصد کیا تا کہ کچھ ’’مواقع‘‘پکڑ کرلاسکیں۔ان کے نام توکچھ اورتھے جنھیں ہم یاد کرنے کی کوشش کررہے ہیں، فی الحال ایک کوگورا اوردوسرے کوکالیا سمجھیں۔

گورابہت ہی خوبصورت اور صاف ستھرا نوجوان تھا،بولتا توباتوں سے پھول جھڑتے تھے لیکن کالیابہت بدصورت، بداطوار،بدسلیقہ اور بدمعاش تھا ہروقت گندہ غلیظ رہتا تھا، لباس بھی بہت میلا اوربدبودارتھا جب کہ گورا صفائی پسند اورسلیقے کالباس پہنے ہوئے تھا۔چلتے چلتے کالیا اور بھی غلیظ ہوگیا تو شہرسے تھوڑے فاصلے پراس نے ایک تالاب دیکھ کرکہاکہ کیوں نہ نہالیا جائے۔ گورا تو ویسے بھی نہانے دھونے کارسیا تھااس لیے دونوں نے سائے میں کپڑے اتارے اورتالاب میں نہانے لگے ،گوراتو سلیقے سے اپنے جسم کی صفائی کر رہا تھا.

یہ بھی پڑھیں: -   کیا یہ ہمارا کلچر ہے ؟

اس نے خیال نہیں کیا اورجب دیکھا توکالیا نہیں تھا اس نے ادھر ادھردیکھا فکر ہوئی کہ کالیا کہیں ڈوب تونہیں گیا لیکن پھر خود ہی اپنے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے سوچاکہ کالیا اتنا مردار ہڈی تھا کہ پانی بھی اسے ڈبوناپسند نہ کرے، کافی دیرگزری لیکن کالیے کاپتہ نہیں تھا اس نے آوازیں بھی دیں لیکن کالیا عدم پتہ تھا۔پھر اسے خیال آیاکہ کہیں کالیے نے خودکشی کرتے ہوئے خودکو ڈبویا نہ ہوکیوں کہ اسے یاد تھا کہ ’’کالیے‘‘کو اکثر لوگ کہاکرتے تھے کہ تیراکیا بنے گا کالیا۔تو تو نہ کام کے ہو نہ کاج کے صرف دشمن ہو اناج کے ،خود اس کاباپ گبرسنگھ بھی اکثر اسے کہاکرتاتھاکہ تیراکیابنے گاکالیا؟اورماں تو اسے چابک سے پیٹ پیٹ کر کوستی رہتی تھی،یقیناً اس نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ کرخود کشی کی ہوگی چلوخس کم جہاں پاک۔

جو ڈوبنا ہو تواتنے سکون سے ڈوبو

کہ آس پاس کی لہرں کو بھی پتہ نہ لگے

چنانچہ وہ دھیرے دھیرے پانی سے نکل آیا اوریہ دیکھ کردھک سے رہ گیاکہ کنارے پر کپڑے نہیں ہیں، سمجھ گیا کہ کالیا چوٹ دے گیا ،ابھی وہ یہ سوچ رہاتھا کہ ایک طرف سے کچھ لوگ آتے دکھائی دیے،وہ الف ننگا کھڑا تھا اس لیے پانی میں چھلانگ لگادی، بڑی گھمیر صورت حال ہوگئی وہ لوگ توچلے گئے لیکن گورے کو حالات کی سنگینی کاپتہ چل گیا ،اب توعافیت اس میں تھی کہ پانی ہی میں ڈوبارہے، باہرنکلے گا توتماشہ بنے گا۔

کیوں نہ ڈوبے رہیں یہ دیدہ ترپانی میں

ہے بنا مثل حباب اپنا توگھر پانی میں

یہ بھی پڑھیں: -   قومی فلاح کی گریٹ گیم

بیچارے گورے کوتوچھوڑئیے کہ تالاب کا قیدی بن گیا،ایک مرتبہ نکلنے کاسوچا بھی لیکن ڈرگیا کہ لوگ اسے پتھرماریں گے یاتماشہ سمجھ کر ٹھٹھے اڑائیں گے لیکن کالیا اپنا کام کرچکاتھا اس نے گورے کی بے خبری میں اپنے کپڑے توکہیں دبادیے تھے اورگورے کالباس پہن کرراجدھانی انعام آباد اکرام آباد پہنچ گیا،لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا، گرم جوشی سے پذیرائی کی اوراس کے وارے نیارے ہوگئے، لوگ اسے گورا سمجھ کر گلے لگانے لگے۔

ہاں ابھی ابھی ان کے اصل نام بھی ہمیں یاد آگئے،گورے کانام ’’سچ‘‘تھا اورکالیے کانام ’’جھوٹ‘‘، لیکن اب وہ سچ کالباس پہنے انعام آباد اکرام آبادمیں جلوہ گرتھا، خاص طورپربڑے لوگوں نے توجان و جگر سمجھ لیا،جدھردیکھو اس کا زندہ باد ہو رہا تھا، بڑی بڑی تقریبات میں بلایاجانے لگا، یہاں تک کہ شہرکے مقتدرحاکموں نے بھی اسے اپنا لیا اوراس پرانعامات واکرامات کی بارش ہوگئی۔ پھر راجدھانی سے اس کی شہرت پوری مملکت ناپرسان عالی شان میں پھیل گئی اورایک دن وہ بھی آیا کہ لوگوں نے سر آنکھوں کے ساتھ ساتھ تخت پر بٹھا دیا۔

پھر اس نے شہرکی معروف طوائف سیاست بائی سے شادی کی اورجلوہ کثرت اولاد دکھانے لگا۔ اس کے بعدکہانی معلوم نہیں ہوپائی کیوں کہ کتاب کے باقی اوراق نہیں ہیں،لیکن اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ کوئی خاص بات نہیں ہوئی ہوگی۔ جھوٹ عرف کالیا بدستورسچ کالباس پہنے سرپرائز سلطنت رہاہوگااوربیچارا سچ تالاب میں غوطے لگا رہا ہوگا، ایسا توہونہیں سکتاکہ کوئی آئے اورسچ کو لباس دے کرباہرنکالے اوراگر ہو بھی گیاتوباہرنکل کربھی لوگ اسے قبول نہیں کریں گے کیوں کہ اس کے تن کالباس توجھوٹ پہن چکاہے اور ہرطرف اس کی جے جے کارہے بلکہ خطرہ ہے کہ کہیں اسے پکڑکرجلاد کے حوالے نہ کردیاجائے۔

یہ بھی پڑھیں: -   شاید ہمیں غیرت آ جائے
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں