sanajaved 46

سوشل میڈیا پر اداکارہ ثنا جاوید پر پابندی کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟

کراچی: سوشل میڈیا صارفین ڈراما سیریل ’’خانی‘‘ سے مشہور ہونے والی اداکارہ ثنا جاوید پر پابندی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

کچھ روز قبل ماڈل منال سلیم نے پاکستان شوبز انڈسٹری کی مشہور اداکارہ کا نام لیے بغیر ان کی جانب سے برتے جانے والے نامناسب اور ناقابل برداشت رویے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاتھا کہ وہ اب مزید کسی اداکارہ کے ساتھ کام نہیں کریں گی۔ اور انہوں نے اپنے تمام کلائنٹ سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ ان سے کسی اداکارہ کے ساتھ شوٹنگ کرنے کا نہ کہیں کیونکہ یہ اداکارائیں ہمیں ’’دو ٹکے کی ماڈلز‘‘ سمجھتی ہیں۔ ہم بھی کام کرنے آتے ہیں مفت میں ذلیل ہونے نہیں آتے۔

ماڈل منال سلیم کی یہ پوسٹ منظر عام پر آنے کے بعد کئی میک اپ آرٹسٹ ان کی حمایت میں سامنے آئے اور کہا کہ منال سلیم اداکارہ ثنا جاوید کی بات کررہی ہیں اور پھر کئی میک اپ آرٹسٹ نے اداکارہ ثنا جاوید کے ساتھ کام کرنے کے اپنے خوفناک تجربے کو شیئر کیا اور انہیں انتہائی غیر پیشہ ورانہ اداکارہ قرار دیا۔

اسکرین گریب

میک اپ آرٹسٹوں نے ایسی کئی مثالیں شیئر کیں جہاں انہیں ثنا جاوید کے بدترین سلوک کو برداشت کرنا پڑا تھا۔ معروف میک اپ آرٹسٹ اکرام گوہر، ریان تھامس اور دیگر نے سوشل میڈیا پر ثنا جاوید کی ان کے ساتھ بدسلوکی کی کہانیاں شیئر کیں۔

سوشل میڈیا پر ثنا جاوید کی جانب سے ماڈلز اور میک اپ آرٹسٹوں کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی کے بارے میں لوگ باتیں کررہے ہیں اور اداکارہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   مذہب اور حب الوطنی کارڈ کا غلط استعمال

سوشل میڈیا صارفین کا موقف ہے کہ انڈسٹری اورعوام دونوں کو ثنا جاوید پر پابندی لگانی چاہئے اور ثنا جاوید کو ان تمام لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے جن کے ساتھ انہوں نے برا سلوک کیا۔

لوگوں نے ثنا جاوید کو کام دینے والے اداروں پر بھی غصے کا اظہار کیا کہ آپ لوگ اتنی مغرور اور بدتمیزی لڑکی کو کام کیوں دے رہے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ثنا جاوید کی شکل خوبصورت ہے لیکن وہ اندر سے بہت بدتمیز اور بدلحاظ ہیں۔

واضح رہے کہ ماڈل منال سلیم اور دیگر میک اپ آرٹسٹوں کے الزامات پر فی الحال تو ثنا جاوید کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا، تاہم انہوں نے لوگوں کی بے تحاشہ تنقید کے بعد اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تبصروں کا سیکشن بند کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں