Columns of Saadullah jaan barq 43

لٹکے۔دو مونہے سانپ

مسئلہ وہی ’’سبزہ وگل‘‘کا ہے کہ یہ آتا کہاں سے ہے اور جاتا کہاں ہے۔ پرانے زمانے کے سادہ لوح لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ

سبزہ و گل کہاں سے آتا ہے
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

کیونکہ اس زمانے یہ ’’بینک‘‘نام کے گلستان اور آئی ایم ایف نامی باغبان نہیں ہواکرتے تھے اور نہ ہی ایسے کالانعام جو دودھ بھی دیتے تھے اور انڈے بھی۔نہ ہی ایسے کہ اون بھی دیتے اور کھالیں بھی۔اور نہ ہی کسی نے یہ دریافت کیا تھا کہ یہی کالانعام تیل کے کنوئیں بھی ہیں لیکن اب تو ہمیں پتہ چل چکا ہے کہ’’سبزہ و گل‘‘کہاں سے آتے ہیں مگر یہ پتہ نہیں لگ پایا کہ پھر یہ ’’سبزہ وگل‘‘ جاتا کہاں ہے؟ یہ بالکل ویسا ہی معاملہ ہے کہ ایک شخص نے حیران ہوکر دوسرے سے پوچھا کہ میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ یہ ’’چوزہ‘‘ اتنے سخت انڈے سے نکلتا کیسے ہے۔

دوسرے نے کہا، وہ تو بعد کی بات ہے پہلے یہ پتہ تو لگ جائے کہ چوزہ انڈے میں گھستا کیسے ہے؟ ہم نے اس معاملے کی تحقیق کے لیے اپنے ٹٹوئے تحقیق کو دوڑا دوڑا کر پسینہ پسینہ کردیا لیکن افسوس کہ گوہر مقصود ہاتھ نہیں آیا اور یہ سوال ہمارا منہ چڑاتا رہا ہے ،آخر یہ اتنا ڈھیر سارا’’سبزہ وگل‘‘جاتا کہاں ہے، دیکھیے تو ’’آمد‘‘ کے ذرایع بھی بہت ہیں اور حکومت جدید طریقہ زراعت کی وجہ سے اچھی خاصی پیداوار بھی لیتی ہے.

کالانعام کا تو ہم نے بتایا کہ ’’سبزہ وگل‘‘کا سبب باغ یا گارڈن بلکہ کھیت ہیں بلکہ اگر اسے گرین ہاوس یا سدا بہار۔یعنی ایورگرین کہاجائے تو زیادہ صحیح ہوگا، اس کے علاوہ یادش بخیر،زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا۔یعنی مہربان،قدردان دھنوان اور دیا وان تو ہر وقت تیار رہتا ہے، الو پر سوار ہوکر الوؤں اور پٹھوں کو نواز دے۔بلکہ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں سبزہ وگل کی کمی ہوہی نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: -   اردو مزاح میں تازہ ہوا کا جھونکا

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
کتنے نادان ہیں کہ سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

ارے ہاں وہ ڈھیر سارا سبزہ تو ہم بھول گئے تھے جو وہ’’سفید جسم‘‘اور سبز چشم شاطر اپنے ہاں سے جہاز بھر بھر کے لے جایا کرتے۔مطلب یہ کہ ’’سبزہ وگل‘‘ آتا تو ہر طرف سے ہے لیکن پھر وہی سوال کہ جاتا کہاں ہے؟مولانا روم کا شعر ہے کہ

عقل گوئد کہ شش جہات است وبیرون راہ نیس
عشق گوئد کہ راہ است ومن رفتہ ام مارہا

یعنی عقل کہتی ہے کہ اطراف صرف چھ ہیں اور اس کے علاوہ باہر کا راستہ کوئی نہیں ہے لیکن عشق کہتا ہے ’’راستہ‘‘ہے اور میں اکثر اس پر آتا جاتا ہوں۔اور ہمیں یہی ساتواں راستہ ڈھونڈنا ہے جس پر عشق اور’’سبزہ وگل‘‘چپکے سے نکل جاتے ہیں لیکن ہم ناکام ہوئے، اکیڈمیوں سے لی ہوئی ڈگریاں اور تفتیشی اداروں کی تربیت ہمارے کسی کام نہیں آئی اور یہ معلوم کرنے میں قطعی ناکام ہوئے کہ اتنا ڈھیر سارا’’سبزہ وگل‘‘ کہاں جاتا ہے؟ہم حیران تھے پریشان تھے اپنے ٹٹوئے تحقیق نے بھی جواب دے دیا تھا۔

کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے
ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

ہمارا تجربہ ہے کہ جب بھی عقل کام کرنا چھوڑ دے تب حماقت ہی کام آتی ہے۔اور اس کے لیے قہرخداوندی چشم گل چشم عرف کورونا وائرس سے زیادہ بہتر ذریعہ اور کوئی نہیں تھا کیونکہ بقول حضرت علامہ بریانی عرف برڈفلو کہ دنیا ئے جہالت وحماقت کا سب سے بڑا عالم وفاضل چشم گل چشم کے سوا اور کوئی نہیں ہے، اس کے پاس ہر صحیح سوال کا غلط اور ہر غلط سوال کا صحیح جواب ہروقت موجود رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   خادم حسین گرم حمام!

ہم نے اپنا مسئلہ سامنے رکھا تو ذرا بھی تاخیر کیے آٹو میٹک جواب دیا ’’لٹکے‘‘ اب اگر اس ’’لٹکے‘‘کو اردو کا لفظ سمجھ کر اردو لہجے میں پڑھیں گے تو معنی ظاہر ہیں کہ لٹکنے، لٹکانے اور لٹکاؤ کے نکلیں گے یعنی فلاں مقام پر سارے لیڈروں کو لٹکا دیا گیا یا آخرت میں لیڈروں کو زبان سے لٹکایا جائے گا۔

لیکن یہ لفظ اردو ’’لٹکے‘‘(latke)نہیں بلکہ پشتو لٹکے ہے یعنی (ٹ) پر زبر ہے لٹکہ ،یہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو سر سے دم تک ایک ہی موٹائی کے ہوتے ہیں اور جن کی دم ہوتی ہی نہیں بلکہ سر ہی کی طرح موٹائی میں ختم ہوجاتی ہے اور اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا سر اور منہ بدلتا رہتا ہے ایک سال جس طرح منہ ہوتا ہے وہ دم ہوجاتا ہے اور جس طرح دم ہوتی ہے وہ منہ اور سر میں بدل جاتی ہے۔بازاروں میں مجمع لگانے والے مداریوں کا کہنا ہے کہ بظاہر چھوٹا اور بے ضرر دکھائی دینے والا یہ سانپ سارے سانپوں سے زیادہ زہریلا ہوتاہے۔

اس بارے کہانی یوں کہ ایک بزرگ تھے اخون موسیٰ آف نئی کوٹ۔نئی کوٹ افغانستان میں تورخم اور جلال آباد کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں اخون موسیٰ نامی ایک بزرگ کا مزار آج بھی مجمع خلائق ہے۔ ہم نے بھی زیارت کی ہے، یہاں سانپوں کے ڈسے ہوئے مریض لائے جاتے ہیں۔کہانی کے مطابق اخون موسیٰ سانپوں پر اتھارٹی تھے، وہ سانپوں کو حکم دیتے کہ چارپائی میں کنڈلی مار لو۔ پھر رات کو ان سانپوں پر استراحت کرتے اور صبح تلوار سے سارے سانپوں کو کاٹ ڈالتے تھے، سانپ تنگ آگئے لیکن کوئی سانپ ان کو کاٹ نہیں سکتا تھا، اس’’لٹکہ‘‘نے ذمے داری لی اور ان کے جوتے میں چھپ کر بیٹھ گیا اور جیسے ہی اخون موسیٰ نے جوتے میں پیر ڈالا اس لٹکہ نے ڈس لیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   ذرا لندن تک

زہر اتنا تیز تھا کہ اخون موسیٰ کو پڑھ کر دم کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔اب آگے کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے؟ کہ دومونہے’’لٹکے‘‘سبزہ وگل کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ظاہر ہے کہ ایک ’’منہ‘‘ سے اندر کرتے ہیں اور پھر دوسرے منہ سے ’’باہر‘‘ کر دیتے ہیں۔کہاں؟کم ازکم یہ پتہ تو آپ خود لگالیں۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں