adnan-khan-kakar 43

سست آدمی نے ہاتھی گینڈا مارنا اور گھر بنانا سکھایا

سیریز کا لنک: سست آدمی کے انسانیت پر احسانات

یہ پانچ چھے لاکھ برس قبل کی بعد ہے۔ سست آدمی اپنے قبیلے ہومو ہائیڈل برگنسس کے ساتھ ایک یورپی وادی میں رہتا تھا اور شکار کرنے جانے پر مجبور کر دیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں سستو کے بنائے ہوئے لکڑی کے نیزے ہی شکار کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ وہ چھوٹے موٹے جانور کو تو مارنے کے لیے اچھے تھے مگر سامنے ہاتھی گینڈا آ جاتا تو پھر وہ شکاری ہوتا اور انسان شکار بن جاتا۔

ایک دن سستو بیٹھا قبیلے والوں ایک بھینسے کا گوشت بناتے دیکھ رہا تھا جو خراب قسمت ہونے کی وجہ سے شکار ہو گیا تھا۔ سستو نے نوٹ کیا کہ چستو نے پتھر کا تیز دھار کلہاڑا اٹھایا اور آرام سے بھینسے کی کھال کاٹ دی۔ چستو کی نظر سستو پر پڑی تو اس نے اسے بھینسے کی ہڈیاں توڑنے کا کہا۔ کچھ دیر میں سستو کے ہاتھ تھک گئے تو اس نے پتھر ایک طرف رکھا اور پاس پڑا لکڑی کا ایک ڈنڈا مار کر ہڈی توڑنے کی کوشش کی۔ ہڈی کیا ٹوٹنی تھی ڈنڈا ٹوٹ گیا۔ لیکن سستو نے نوٹ کیا کہ ڈنڈا مارنا پتھر مارنے سے زیادہ آسان ہے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ ڈنڈا ٹوٹ جاتا تھا۔ سستو نے کچھ سوچا اور پھر ڈنڈے کے سرے پر پتھر باندھا اور اسے ہڈی پر دے مارا۔ اسے یہ دیکھ کر کچھ سکون ملا کہ اس مرتبہ بہت کم طاقت لگا کر ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ چستو نے یہ دیکھا تو اس نے سستو کا یہ چوبی کلہاڑا اس سے چھینا اور ہڈیاں توڑنے لگا۔ واقعی اس طرح کام آسانی سے ہو جاتا تھا۔ باقی قبیلے والوں نے بھی اسی طرح کے دستے والے کلہاڑے بنا لیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   میاں نواز شریف کیا سوچ رہے ہیں؟

اگلے دن شکار پر جانا تھا۔ سستو نے سوچا کہ اگر کلہاڑے میں لکڑی کا دستہ لگا کر وہ اتنا طاقتور ہو جاتا ہے تو نیزے پر بھی پتھر کی انی لگانے سے شکار آسانی سے ہو جائے گا۔ اس نے دو تین نیزے پکڑے اور ان کے سروں پر پتھر کی انی لگا دی۔ اگلے دن جب سب شکار کرنے نکلے تو سستو بھی اپنے نیزوں کے ہمراہ ان کے ساتھ تھا۔ دوسرے لوگ تو نرم کھال والے ہرنوں کے پیچھے دوڑے مگر سستو نے ایک موٹے سے بھینسے کو تاڑا جو سکون سے ایک طرف گھاس چر رہا تھا۔ اسے ان انسانوں سے کوئی خوف نہیں تھا جو اس کی موٹی کھال کے آگے لاچار تھے۔

سستو نے قریب جا کر زور سے اپنا نیزہ مارا۔ نیزہ بھینسے کی موٹی کھال چیر کر اس کے جسم میں گڑ گیا۔ سستو نے باقی دو نیزے بھی بھینسے کے جسم میں پیوست کر دیے۔ بھینسا کچھ دیر دوڑا پھر ڈھیر ہو گیا۔ سستو پاس ہی لیٹ کر سستانے لگا۔ گھنٹے بھر بعد قبیلے والے آئے تو سستو کو بھینسے کی لاش کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئے۔

یہ بھینسا تمہارے ہاتھ کیسے لگا؟ کیا کوئی شیر اسے مار کر گیا ہے اور پھر پانی پینے چلا گیا ہے؟ چستو نے پوچھا۔

میں نے اسے اپنی نئی ایجاد پتھریلے نیزے سے شکار کیا ہے۔ سستو نے جواب دیا اور اپنا نیزہ قبیلے والوں کو دکھایا۔ چستو نے نیزہ پکڑا اور بھینسے کو دے مارا۔ واقعی یہ اس کی کھال چیرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ قبیلے والوں نے اپنے نیزے اس طرح کے بنا لیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ’’گوہر پختونخواہ‘‘ یا گئوخر پشتونخواہ ایوارڈ

اب سستو کا قبیلہ اس نئی ایجاد کی وجہ سے گینڈے سے لے کر میمتھ نامی دیو قامت ہاتھی تک شکار کرنے لگا اور اس کی خوراک کی ورائٹی میں اچھا بھلا اضافہ ہو گیا۔

قبیلہ شکار کرنے میدانی علاقوں میں جاتا تو برف اسے پریشان کرتی۔ کھلے آسمان تلے آگ بھی زیادہ دیر تک ساتھ نہیں دیتی تھی۔ بہت لوگ ٹھنڈ سے بیمار ہو کر مر جاتے۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ بہت سی لکڑیوں کا ڈھیر بناتے، اوپر گیلی لکڑیاں تو نہ جلتیں لیکن ڈھیر میں نیچے موجود لکڑیاں برف سے بچ جاتیں اور آسانی سے جل جاتیں۔ برف زیادہ پڑتی تو پھر وہ ڈھیر کو وہیں چھوڑ کر دور موجود درختوں کے جھنڈ کے نیچے پناہ لیتے۔

سستو نے سوچا کہ اگر میں لکڑیوں کے نیچے چھپ جاؤں تو میں بھی خشک رہنے میں کامیاب ہو جاؤں گا اور مجھے اتنی دور درختوں کے جھنڈ تک پیدل چل کر نہیں جانا پڑے گا۔ اس نے لکڑیوں کے ایک ڈھیر کو درمیان سے کھوکھلا کر لیا اور یوں ایک چھوٹا سا غار بن گیا۔ اب برف باری ہوئی تو سستو اس غار میں سمٹ کر بیٹھ گیا۔ واقعی وہ نہ صرف برف بلکہ ٹھنڈی ہوا سے بھی بچ گیا تھا۔

ادھر باقی سب قبیلہ ٹنڈ منڈ درختوں کے نیچے چھپ کر برف سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ سستو کا بنایا لکڑی کا غار دیکھ کر باقی لوگوں نے بھی لکڑیاں کھڑی کر کے ان کی چھت سی بنائی اور اس کے نیچے بیٹھ گئے۔ برف اوپر لکڑیوں پر گرتی رہی اور وہ اندر آگ جلائے گرم بیٹھے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   آپ نے گھبرانا نہیں!

یوں سستو نے پہلی مرتبہ گھر ایجاد کیا، جس نے رفتہ رفتہ اتنی ترقی کی کہ وہ نہ صرف برف بلکہ بارش اور دھوپ سے بھی بچانے لگا۔

006 Terra Amata reconstruction hut, 400k bce

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں