adnan-khan-kakar 36

سست آدمی نے کھانا پکانا اور لکڑی سخت کرنا سکھایا

سیریز کا لنک: سست آدمی کے انسانیت پر احسانات

کوئی اٹھارہ لاکھ سال قبل سستو کے آگ دریافت کرنے کے بعد اس کے غار کے باہر مستقل ایک الاؤ روشن رہنے لگا تھا۔ شام کو قبیلے والے اس کی حرارت اور روشنی سے لطف اندوز ہوتے۔ آگے کو روشن رکھنے کے لیے لکڑیاں اس میں ڈالی جاتیں اور لمبی شاخوں سے اسے کریدا بھی جاتا۔ اس زمانے میں سستو کا قبیلہ جانوروں کے شکار کے لیے لکڑی کے ایسے ڈنڈے استعمال کرتا جنہیں پتھروں پر رگڑ کر ان کی پینسل جیسی نوک بنائی گئی ہوتی۔ یہ نیزے پرندوں کے خلاف تو کارگر تھے مگر ذرا بھی سخت کھال والے جانور کو مارے جاتے تو ان کی نوک ٹوٹ جاتی اور وہ بیکار ہو جاتے۔ قبیلے والے بہت تاک تاک کر جانور کی آنکھ کا نشانہ لینے کی کوشش کرتے جو اکثر ناکام ہوتی اور وہ شام ڈھلے موٹی سی بھینس کی بجائے چھوٹی سی بطخ لیے واپس آتے۔

اب سستو میاں بھی ایک دن ایسے ہی آگ سے کھیل رہے تھے۔ آگ کریدنے کی ضرورت پڑی تو ان کا دل نہیں کیا کہ دور درخت سے نئی شاخ توڑ کر لائیں۔ انہوں نے اپنے شکار والے نیزے سے آگ کو کریدنا شروع کیا۔ پدر سستو نے انہیں ڈانٹا بھی مگر وہ ایسے ہی کئی گھنٹے اپنے نیزے سے آگ کریدتے رہے۔ نیزے کی نوک خوب گرم ہو گئی اور اس سے دھواں بھی اٹھنے لگا۔ اس پر پدر سستو نے سستو کے ہاتھ سے نیزہ چھینا اور سات ہی اسے ایک لات رسید کی۔

اگلی صبح سب اپنے اپنے نیزے پکڑے شکار کرنے گئے تو سستو کو بھی طوعاً و کرہاً ساتھ جانا پڑا۔ وہ ایک جوہڑ کے قریب پہنچے تو وہاں چند بطخیں اور ایک بھینس موجود تھے۔ قبیلے والے جانتے تھے کہ ان کے نیزے بھینس کی موٹی کھال کو پار نہیں کر سکتے، وہ بطخوں کی طرف بڑھے۔ بطخیں تیزی سے پانی کی طرف بھاگیں اور قبیلے والے ان کے پیچھے پیچھے دوڑے۔

یہ بھی پڑھیں: -   انتیسویں پارے کا خلاصہ

اب سستو میاں کو بھاگ دوڑ سخت ناپسند تھی۔ وہ تو مارے باندھے چلے آئے تھے۔ وہ نہایت بے دلی سے بھینس کی طرف بڑھے۔ جھلائے ہوئے تو وہ تھے ہی کہ انہیں سوتے سے اٹھا کر یہاں لایا گیا تھا۔ انہوں نے سارا غصہ بھینس پر نکالا اور اسے خوب زور سے نیزہ مارا۔ ارے یہ کیا؟ نیزہ ٹوٹنے کی بجائے بھینس کے جسم میں گڑ گیا۔ اور اتفاق ایسا کہ لگا بھی سیدھا دل میں۔ بھینس تڑپی اور اس نے دم توڑ دیا۔ سستو نے حیران ہو کر نیزہ باہر کھینچا تو اس کی نوک سلامت تھی۔ سستو میاں نے دوسرا عام نیزہ اٹھا کر بھینس کو مارا تو وہ ٹوٹ گیا۔ ”ہوں، آگ نے اس پر جادو کر دیا ہے۔ اس لیے یہ ایسا ہو گیا ہے“ ۔

اتنی دیر میں قبیلے والے واپس پلٹے۔ ان کے ہاتھوں میں دو تین بطخیں تھیں جو پچاس کے قریب قبیلے والوں کی بھوک بجھانے کے لیے ناکافی تھیں۔ پدر سستو دور سے ہی دہاڑے ”سستو تم یہاں فارغ بیٹھے ہو، بطخ کے پیچھے دوڑ کر اسے مار بھی نہیں سکتے۔ اب تمہیں گوشت نہیں ملے گا۔“

سستو نے کوئی جواب نہیں دیا۔ قبیلے والے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر ششدر ہو گئے کہ اکیلے سستو نے اتنی بڑی بھینس مار ڈالی ہے۔ ”تم نے اس بھینس کو کیسے مارا؟“ کزن چستو نے اس سے پوچھا۔

”میں نے کل اگنی نیزہ ایجاد کیا تھا۔ وہ کسی بھی بھینس کے جسم میں ویسے ہی داخل ہو کر اسے مار سکتا ہے جیسے تمہارے عام نیزے بطخ کو مارتے ہیں“ ۔ سستو نے جواب دیا۔

سب قبیلے والے سستو کے گرد جمع ہو گئے۔ اس شام سب قبیلے والوں نے سستو کی نئی ایجاد سے متاثر ہو کر اس سے اگنی نیزہ بنانے طریقہ سیکھا اور اپنے نیزے بھی ویسے ہی بنا لیے۔ وہ رات تھی بھی جشن کی۔ سب کو بہت مدت بعد بھینس کا گوشت نصیب ہوا تھا۔ سستو کے کارنامے کے اعتراف میں اسے گوشت کا ایک خوب بڑا ٹکڑا دیا گیا۔ تھوڑا سا وہ کچا چبا گیا باقی اس نے آگ کے قریب رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   نماز کی اہمیت

”سستو اپنا گوشت وہاں سے ہٹا کر اندر لا کر رکھ دو۔ اندر دھوپ نہیں تو وہ دیر تک خراب نہیں ہو گا“ ۔ مدر سستو نے اسے کہا۔

سستو ازل کا سست تھا۔ اس کا دل نہیں کر رہا تھا کہ کام کرے۔ اس نے کہا ”ابھی پانچ منٹ میں رکھ دیتا ہوں“ ۔ مدر سستو مطمئن ہو کر سونے چلی گئی۔ سستو کی وہیں آنکھ لگ گئی۔ دو تین گھنٹے بعد ایک عجیب سی بو سے سستو کی آنکھ کھلی۔ اس نے دیکھ کہ گوشت کا ٹکڑا کئی جگہ سے بھورا اور کئی جگہ سے کالا پڑ چکا تھا اور اس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

”بیڑہ غرق، ماں دیکھے گی تو مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی۔ بہتر ہے کہ میں اسے کھا کر ثبوت مٹا دوں“ ۔ سستو نے سوچا۔ اس نے گوشت کا ٹکڑا پکڑ کر منہ میں ڈالا تو وہ نہ صرف بہت آسانی سے ٹوٹ گیا بلکہ اسے چبانے میں چند لمحے لگے۔ کچا گوشت چبانے میں تو مدت لگ جاتی تھی۔ سستو بہت حیران ہوا۔ اس نے جلدی جلدی گوشت کھانا شروع کیا اور بہت سا گوشت چٹ کر گیا۔ باقی ٹکڑے کو اس نے آگ کے قریب کیا اور جب اس سے دھواں اٹھنے لگا تو اسے اٹھا کر غار کے اندر لے گیا۔

صبح مدر سستو اٹھی تو کھانے کو کچھ تلاش کرنے لگی۔ سستو نے اسے گوشت کا ایک ٹکڑا دیا اور کہا ”ماں دیکھو میں تمہارے لیے ایک خاص کھانے کی چیز لایا ہوں“ ۔ مدر سستو نے بھنا ہوا گوشت چکھا تو وہ بہت لذیذ تھا اور آسانی سے کھایا بھی گیا۔

”تم یہ چیز کہاں سے ڈھونڈ کر لائے ہو؟ یہ تو بہت مزے کی ہے۔“ مدر سستو نے کہا۔
”یہ میری نئی ایجاد ہے۔ اسے اگنی بوٹی کہتے ہیں۔ یہ بھینس کے گوشت اور آگ سے بنی ہے“ ۔ سستو نے بتایا۔

یہ بھی پڑھیں: -   اچھی گفتگو

سب قبیلے والے شور سن کر جمع ہو گئے تھے۔ مدر سستو نے چند ایک کو چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کھلائیں۔ اب سب قبیلے والوں نے سستو سے اگنی بوٹی بنانے کا طریقہ سیکھا۔ کئی لوگوں نے اگنی شلجم اور اگنی گاجریں بھی بنائیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لکڑی کو تو آگ خوب سخت کرتی مگر کھانے کی چیزوں کو نرم کر کے چبانا آسان کر دیتی۔

آگ پر پکا کھانا کھانے کے نتیجے میں انسانی جسم کو اب کم محنت سے زیادہ کیلوریز ملنے لگیں۔ اس سے پہلے بیشتر وقت وہ کھانا ڈھونڈنے اور پھر اسے چبانے میں صرف کرتے۔ اب اگنی نیزے اور اگنی بوٹی کی ایجاد کے بعد ان کے پاس دماغ کو دینے کے لیے زیادہ توانائی بھی تھی اور زیادہ فراغت بھی جس سے وہ نئی باتیں سوچ سکتے تھے۔ یوں انسانی دماغ کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔

سستو کے قبیلے ہومو ہیبلس (ہینڈی مین) کے دماغ کا سائز جو چھے سے سات سو ملی لیٹر ہوتا تھا، وہ 900 ملی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ انسان یعنی ہومو سیپین کے دماغ کا سائز ساڑھے تیرہ سو ملی لیٹر تک ہو گیا۔ یوں سست انسان کی معمولی سی سستی کی وجہ سے انسان دگنے سے بھی زیادہ عقلمند ہو گیا۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں