columns of Javed Chaudhary 28

کیوبا ایک دلچسپ تجربہ

ہوانا ایئرپورٹ پر اترتے ہی محسوس ہوا زندگی ستر سال پیچھے چلی گئی ہے‘ ایئرپورٹ کا عملہ سست‘ بے زار اور لاتعلق تھا‘ ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا‘ امیگریشن اسٹاف ہر چیز‘ ہر بات لکھ رہا تھا‘ تین تین بار تلاشیاں اور تین تین بار سوال و جواب‘ امیگریشن آفیسر نے پوچھا ’’کیوں آئے‘ کتنے دن رہیں گے اور کیا کرتے ہیں؟‘‘ وہ ساتھ ساتھ جواب لکھتی رہی‘ پھر اس کا باس آگیا۔

اس نے پوچھا ’’کیوں آئے‘کتنے دن رہیں گے اور کیا کرتے ہیں؟‘‘ اس نے بھی جم کر جواب لکھے اور پھر کسٹم کی خوب صورت خواتین نے روک لیا اور ایک بار پھر کیوں آئے‘ کتنے دن رہیں گے اور کیا کرتے ہیں؟‘‘ وہ بھی دیر تک جواب لکھتی رہیں‘ وہ ایک تھکا دینے والا سلسلہ تھا اور اس سلسلے کے آخر میں ایئرپورٹ پر صرف ہم چار مسافر اور کسٹم کے دو کتے رہ گئے‘بہرحال یہ مرحلہ بھی ختم ہو گیا‘ ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو 1960 کی دہائی کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور ان کے ساتھ ہالی ووڈ کی پرانی فلموں کے کرداروں جیسے ڈرائیورز۔ وہ ہمیں دیکھ کر دانت نکالنے لگے۔

ہم خوش قسمت تھے لہٰذا ہمیں جدید ٹیکسی مل گئی‘ ڈرائیور نے بتایا ٹیکسیاں حکومت کی ملکیت ہیں‘ ریٹس فکس ہیں اور یہ سیاحوں کو شہر میں چھوڑ کر واپس آ جاتی ہیں‘ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک تین حیران کن چیزوں سے واسطہ پڑا‘ پہلی حیرت صفائی تھی‘ ایئرپورٹ سے ہوانا اور پھر دوسرے شہروں تک سڑک کے دونوں طرف صفائی تھی‘ کسی جگہ ٹشو پیپر‘ جوس کا ڈبا یا شاپنگ بیگ نظر نہیں آیا‘ ہم پانچ دن کیوبا میں رہے اور چار پانچ دوسرے شہروں میں گئے اور ہم نے دیہات بھی دیکھے‘ آپ یقین کریں ہمیں کیوبا کے کسی کونے میں گند نظر نہیں آیا‘ پورے ملک میں سلیقہ‘ ترتیب اور صفائی تھی۔
ماحول کو صاف رکھنا شاید ان کی فطرت میں شامل ہے چناں چہ ہم نے پانچ دنوں میں کسی شخص کو کوئی چیز پھینکتے نہیں دیکھا‘ میں نے یہ صفائی اور صفائی کا یہ احساس دنیا کے کسی کونے میں نہیں دیکھا‘ دوسری حیرت ہوانا کی پرانی گاڑیاں تھیں‘ ڈرائیور نے بتایا کیوبا میں گاڑی خریدنا انتہائی مشکل ہے‘ یہ مہنگی ہیں‘ لوگ افورڈ نہیں کر سکتے‘ ہمارے ملک کے بے انتہا امیر لوگ ہی گاڑی خریدتے ہیں لہٰذا لوگ پرانی گاڑیوں سے کام چلاتے ہیں‘ یہ پرزے جوڑ کر پرانی گاڑیوں کو چلنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔

سیاح ان متروک گاڑیوں کو دیکھنے اور ان میں سواری انجوائے کرنے کے لیے بھی کیوبا آتے ہیں اور تیسری حیرت شہر میں جگہ جگہ قطاریں لگی تھیں‘ ڈرائیور نے بتایا ’’ ہمارے ملک میں ضروریات زندگی حکومت کے کنٹرول میں ہیں‘ لوگوں کو اس کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے‘ یہ بعض اوقات اپنی باری کے انتظار میں دو دو دن قطار میں کھڑے رہتے ہیں‘ پانچ بجے اسٹور بند ہو جاتا ہے تو یہ فٹ پاتھ پر سو جاتے ہیں اور اگلے دن دوبارہ قطار میں لگ جاتے ہیں‘ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے خوراک‘ پٹرول اور ادویات کا شدید بحران ہے‘ خاندان کو مہینے میں صرف ایک مرغی‘ تھوڑے سے چاول اور آدھا لیٹر کوکنگ آئل ملتا ہے اور اسے اسی میں گزارہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   عورت کا حق کھانے والا معاشرہ

یہ صورت حال حیران کن تھی‘ ہمیں اگلے دنوں میں پتا چلا کیوبا میں پرائیویٹ دکانیں نہیں ہیں‘ تمام مارکیٹیں‘ منڈیاں اور ہوٹلز حکومت کے کنٹرول میں ہیں تاہم لوگ حکومت سے چیزیں خرید کر بیچ سکتے ہیں‘ ریستوران پرائیویٹ ہیں لیکن یہ لوکل لوگوں سے لوکل کرنسی جب کہ سیاحوں سے ڈالرز میں بل وصول کرتے ہیں‘ لوکل کرنسی کے دو ایکسچینج ریٹس ہیں‘ سرکاری ریٹ ایک ڈالر کے 24 پیسو ہے جب کہ اوپن مارکیٹ میں یہ نرخ چار گنا ہیں‘ ایک ڈالر کے سو اور بعض اوقات 125پیسوبھی مل جاتے ہیں‘ حکومت نے اب غیرملکی سیاحوں کے لیے ڈالرز شاپس بھی بنا دی ہیں۔

ان دکانوں سے لوکل لوگ بھی ڈالرز کے عوض خریداری کر سکتے ہیں‘ ہوٹلز عموماً کریڈٹ کارڈز سے چارج کرتے ہیں یا ڈالر یا یوروز وصول کرتے ہیں جب کہ عام ریستورانوں میں لوکل کرنسی بھی چل جاتی ہے‘ لوگوں نے گھروں میں پے انگ گیسٹ رومز بنا رکھے ہیں‘ یہ ہوٹلوں کے مقابلے میں سستے بھی ہیں اور اچھے بھی۔

ہم ہوانا کے سینٹر میں پہنچ گئے‘ہمارا ہوٹل انٹرنیشنل چین تھا لیکن معیار بین الاقوامی نہیں تھا تاہم اسٹاف بہت اچھا تھا‘ ہم پانچ دن کیوبا میں رہے‘ تین دن ہوانا میں گزارے‘ ایک دن کیوبا کے شہر سین فیگوس (Cienfuegos) اور ٹرینی ڈاڈ (Trinidad) اور آخری رات سانتا کلارا میں بسر کی‘ ہم نے ان پانچ دنوں میں بے شمار دل چسپ چیزیں دیکھیں مثلاً کیوبا میں سڑکیں بڑی اور کھلی ہیں لیکن گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں‘ نئی گاڑیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہیں تو ان کے مالک وہ کیوبن ہیں جو امریکا میں مقیم ہیں اور انھوں نے گاڑی خرید کر اپنے گھر میں کھڑی کر رکھی ہے۔

پرانی گاڑیاں بڑی تعداد میں ہیں‘ لوگ انھی پر سفر کرتے ہیں‘ ہم کرائے پر گاڑی حاصل کرنا چاہتے تھے‘ ہمیں اس کے لیے تین دن خوار ہونا پڑا اور آخر میں پاکستانی ایمبیسی کی مدد لینا پڑ گئی‘ شبیر صاحب ہوانا میں پاکستان کے چارج ڈی افیئرز ہیں‘ ان سے پہلی ملاقات سری لنکا میں ہوئی تھی‘ میں نے انھیں فون کیا تو یہ خود تشریف لے آئے‘ ہم نے ان سے کرائے پر گاڑی کے حصول میں مدد کی درخواست کی‘ انھوں نے اپنے ڈرائیور کی ڈیوٹی لگائی اور وہ دو دن میں بڑی مشکل سے گاڑی حاصل کرنے میں کام یاب ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: -   اورکتنا جھوٹ بولو گے

وہ گاڑی بھی چھوٹی تھی لیکن اس کا کرایہ بہت زیادہ تھا‘ پبلک ٹرانسپورٹ موجود ہے لیکن کوالٹی اچھی نہیں‘ خوراک اور ادویات حکومت کے کنٹرول میں ہیں‘ شہروں کے اندر سرکاری دکانیں ہیں اور ان کے سامنے ہر وقت قطار نظر آتی ہے‘ لوگوں میں بے تحاشا صبر ہے‘ ہم نے پانچ دنوں میں کسی شخص کو کسی شخص سے الجھتے‘ لڑتے یا تکرار کرتے نہیں دیکھا‘ لوگ اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتے‘ پرائیویٹ اسلحہ بھی موجود نہیں‘ چوری چکاری یا فراڈ کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں‘ خواتین مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں‘ فری سیکس سوسائٹی ہے‘ لوگ جسمانی تعلقات کو برا نہیں سمجھتے‘ قطار میں کھڑا ہونا اور صفائی ان کے ڈی این اے میں ہے‘ یہ اکیلے بھی ہوں گے تب بھی قطار میں کھڑے ہو جائیں گے۔

پورا ملک سرکاری ملازم ہے‘ تنخواہیں بہت کم ہیں‘ پچاس ڈالر میں پورا مہینہ کام کرتے ہیں‘ تمام ملازمین ہفتے میں تین دن لیکن 24 گھنٹے کام کرتے ہیں‘ ہمارے ہوٹل کی ریسپشنسٹ 24 گھنٹے میزبان ڈیسک پر نظر آئی‘ ہم نے پوچھا تو اس نے جواب دیا‘ میں آج 24 گھنٹے کام کروں گی اور کل میری چھٹی ہو گی‘ کیوبن لوگ شام کو جلد گھروں میں جا گھستے ہیں‘ سورج غروب ہونے کے بعد گلیاں خالی ہو جاتی ہیں‘ صرف ریستوران‘ کافی شاپس اور بارز کھلی رہتی ہیں‘ لوگ ان میں دیر تک بیٹھے رہتے ہیں‘ موسیقی کے رسیا ہیں‘ بجانے اور گانے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے‘ دن کو گلیوں میں گاتے اور بجاتے ہیں اور رات کو ریستورانوں اور بارز میں گنے کی شراب رم پیتے ہیں‘ چائے اور کافی میں بھی رم ڈالتے ہیں‘ ریستوران بہت اعلیٰ اور سروسز لاجواب ہیں۔

سیاحوں کی بہت عزت کرتے ہیں‘ انھیں تنگ نہیں کرتے‘ ریستورانوں کو سرکاری رعایت حاصل ہے‘ کھانا گھروں میں مہنگا اور ریستورانوں میں سستا ہوتا ہے‘ ذاتی گاڑیاں بھی ٹیکسی ہیں‘ لوگ ہاتھوں میں کرنسی نوٹ پکڑ کر سڑک کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ گاڑیوں کے مالکان وہ نوٹ لے کر انھیں ان کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں‘ سڑکوں اور گلیوں میں رش نہیں ہوتا‘ ہم جب بھی باہر نکلتے تھے تو ہمیں یوں محسوس ہوتا تھا شاید آج قومی تعطیل ہے‘ پورے ملک میں سیکیورٹی کیمرے نہیں ہیں‘ یہ کرائم فری ہونے کی نشانی ہے‘ پولیس بھی دکھائی نہیں دیتی‘ روز رات نو بجے توپ چلا کر شہر کو بتایا جاتا ہے رات ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   مکمل تصویر

آپ اب سو جائیں‘ توپ چلانے سے پہلے گارڈز کی تبدیلی کا فنکشن بھی ہوتا ہے‘ سیاح یہ دیکھنے بھی جاتے ہیں‘ امریکا ہوانا سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘ فلوریڈا اسٹیٹ اور میامی شہر بہت قریب ہیں لیکن فیریز بند ہونے کی وجہ سے آمدورفت ممکن نہیں‘ امریکا سے مسلسل اختلافات ہیں لیکن امریکی سیاح اور امریکی ڈالرز دونوں پسندیدہ ہیں‘ لوگ ان کے سامنے بچھ بچھ جاتے ہیں‘ موسم بہت اچھا ہوتا ہے‘ نہ سردی نہ گرمی‘ سمندر کے کنارے فرحت بخش ہوائیں چلتی رہتی ہیں‘ لوگ گورے بھی ہیں‘ گندمی بھی اور سیاہ فام بھی‘ اسپینش زبان بولتے ہیں۔

سور کا گوشت زیادہ کھاتے ہیں‘ مرغی اور بڑے گوشت کے لیے ترستے رہتے ہیں تاہم ریستورانوں سے مچھلی اور سی فوڈ بھی مل جاتا ہے‘ انناس‘ امردو‘ تمباکو اور گنا بہت زیادہ پیدا ہوتے ہیں‘ آم کے درخت میلوں تک پھیلے ہیں اور یہ میٹھے بھی ہوتے ہیں‘ کیلا چھوٹا لیکن مزیدار ہوتا ہے‘ پورا ملک سرسبز بھی ہے‘ کھیتی باڑی بھی ہوتی ہے اور ہزاروں میل تک باغ بھی ہیں‘ لوگ ان تھک اور صابر ہیں۔

چپ چاپ کام کرتے رہتے ہیں‘ دفتری نظام ہماری طرح سست ہے‘ پانچ پانچ لوگ ایک کام کرتے ہیں اور وہ بھی مکمل نہیں ہوتا‘ تعلیم تقریباً سو فیصد ہے‘ پوری آبادی پڑھی لکھی ہے‘ میڈیکل کا شعبہ بہت تگڑا ہے‘ 1000 لوگوں کے لیے 9 ڈاکٹرز دستیاب ہیں‘ پورے ملک میں پانچ پاکستانی ہیں اور وہ بھی طب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آخری بات کیوبا واقعی ایک دل چسپ تجربہ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ موقع دے تو اس موقعے کا فائدہ ضرور اٹھانا چاہیے۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں