adnan-khan-kakar 53

سست آدمی نے آگ دریافت کی

یہ تقریباً اٹھارہ لاکھ سال پہلے کی بات ہے۔ دسمبر کا مہینہ تھا، آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ سستو حسب معمول ایک گھنے درخت کے نیچے لیٹا اونگھ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ پھر یکلخت ایک کڑاکے سے بجلی کوندی اور سستو کے قریب ہی ایک درخت پر جا گری۔ درخت جلنے لگا۔ تمام جانور خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ سستو کا قبیلہ بھی گھبرا کر دور بھاگا۔ سستو نے شور سن کر آنکھ کھولی اور درخت کو دیکھا۔ ”اوہ، سورج آج نیچے آ گیا ہے، کچھ دیر میں شام ہوتی ہے اور سورج چلا جاتا ہے تو اٹھتا ہوں۔“ یہ سوچ کر سستو دوبارہ سو گیا۔ کچھ دیر میں آگ زیادہ بھڑکی تو سستو کی آنکھ دوبارہ کھلی۔ اسے درخت سے پھوٹتی حرارت میں بہت لطف آنے لگا تھا۔ وہ جلتے درخت کے قریب ہو کر ہاتھ تاپنے لگا۔

اسے یہ چیز بہت پسند آئی۔ اب تک اس کی آنکھ کھل چکی تھی۔ اس نے ارد گرد دیکھا تو اس کے قبیلے والے رفو چکر ہو چکے تھے۔ اسے دور چٹان کے اوپر سے آواز آئی ”سستووووو“ ۔ اس نے دیکھا کہ سارا قبیلہ ڈر کر اس چٹان کے اوپر ایک غار کے منہ پر بیٹھا ہوا سردی اور ڈر سے کانپ رہا تھا۔

سستو نے ان لوگوں کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ دو قدم ہی بڑھائے تھے کہ درخت سے پھوٹتی گرمی سے وہ دور ہو گیا اور اسے سردی لگنے لگی۔ ”میں یہ سورج ساتھ لے جاتا ہوں“ ۔ وہ واپس پلٹا اور دو جلتی ہوئی شاخیں اٹھا کر پھر چٹان کی طرف چلنے لگا۔ وہ کچھ دور ہی چلا تھا کہ اسے ایک خوفناک غراہٹ سنائی دی۔ تین بھیڑیے اس کا راستہ روکے کھڑے تھے اور اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سستو گھبرا گیا۔ ان تین بھیڑیوں کا مقابلہ کرنا ایک انسان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ بھیڑیے تیزی سے سستو کی طرف بڑھے۔ سستو نے گھبرا کر اپنے دونوں ہاتھ سامنے کر دیے جن میں جلتی ہوئی لکڑیاں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   دستار پہ بات آگئی

جلتی لکڑیاں دیکھ کر تینوں بھیڑیے اپنی جگہ پر رک گئے اور خوفزدہ نظروں سے سستو کو دیکھنے لگے۔ کچھ دیر تک تو سستو کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ بھیڑیے اس پر حملہ کیوں نہیں کر رہے لیکن پھر اس نے دیکھ کہ بھیڑیے جلتی لکڑیوں کو دیکھ رہے ہیں تو اس کے دماغ کی بتی جلی۔ ”اوہ یہ میرے ہاتھ میں موجود سورج سے ڈر گئے ہیں“ ۔ وہ لکڑیاں لہراتا ہوا بھیڑیوں کی طرف بڑھا تو بھیڑیے خوفزدہ آوازیں نکالتے ہوئے دوڑ گئے۔

سستو بہت خوش ہوا۔ یہ پورٹیبل سورج تو بہت کام کی چیز تھا۔ نہ صرف اس سے سردی دور ہوتی تھی بلکہ خونخوار جانور بھی اس سے ڈرتے تھے۔ وہ آگے چلنا شروع ہوا۔ اس نے دیکھا کہ وہ جلتی لکڑی کو کسی دوسری لکڑی یا پتوں سے مس کرتا تو وہ بھی جلنے لگتے۔ وہ آگ لے کر اوپر غار تک پہنچا تو اس کے قبیلے والے بھی آگ سے ڈر گئے۔

”ڈرو مت۔ یہ میری نئی ایجاد ہے۔ پورٹیبل سورج۔ اس سے نہ صرف سردی نہیں لگتی بلکہ خون خوار درندے بھی اسے دیکھ کر دور بھاگ جاتے ہیں۔“ سستو نے انہیں بتایا۔

fire-ancient-humans-fire

قبیلے والوں نے دیکھا کہ آگ انہیں نقصان نہیں پہنچا رہی تو آہستہ آہستہ وہ اس کے قریب پہنچے۔ واقعی اس سے پھوٹنے والی حرارت بہت اچھی لگ رہی تھی۔ سستو کے کزن چستو کو بہت حسد محسوس ہوا۔ اس نے لپک کر جلتی لکڑی سستو کے ہاتھ سے چھیننا چاہی لیکن سلگتے کوئلے اس کے ہاتھ سے چپک گئے۔ وہ ایک خوفناک چیخ مار کر اپنا ہاتھ منہ میں لیے دور بھاگا۔ سستو نے حیرت سے اپنی جلتی لکڑی کو دیکھا۔ پھر سر اٹھا کر کہنے لگا ”میری اس ایجاد کو صرف میں ہی استعمال کرنا جانتا ہو۔ کوئی دوسرا اسے بغیر اجازت استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو پچھتائے گا۔“

یہ بھی پڑھیں: -   میرے لئے صرف دعا کیا کریں!

”اس کا نام کیا ہے؟“ سستو کے چچا موٹو نے پوچھا۔
”اگ اگ اگ“ سستو نے نام تو سوچا ہی نہیں تھا۔ بوکھلاہٹ میں اس کے منہ سے بس یہی نکلا۔

”آگ۔ کیا میں یہ آگ لے سکتا ہوں؟“ موٹو نے پوچھا۔
”اپنی اپنی لکڑی اور پتھر لاؤ میں انہیں جلا کر تمہیں آگ دے دوں گا۔“ سستو نے کہا۔

قبیلے والے اپنی لکڑیاں لانے لگے۔ جو لوگ غار کے اندر سے خشک لکڑیاں لائے تھے وہ سستو کی لکڑی سے جل اٹھیں۔ جو پتھر یا گیلی لکڑیاں لائے تھے ان کی چیزیں نہ جلیں۔ یوں سب نے جان لیا کہ آگ کو صرف خشک لکڑیاں پسند ہیں۔ اتنی دیر میں رات پڑ گئی۔

”سب اپنی جلتی لکڑیاں اکٹھی کر کے غار کے منہ پر رکھ دو۔ اس سے کوئی جانور اندر نہیں آئے گا۔ وہ اس سے ڈرتے ہیں“ ۔ سستو نے کہا۔ سب نے ایسا ہی کیا اور پھر ہر روز وہ یہی کرنے لگے اور خونخوار درندوں سے خود کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں سستو کی وجہ سے انسان نے پہلی مرتبہ سکھ کی نیند لی۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

یہ بھی پڑھیں: -   آخری موو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں