Attaul-Haq-Qasmi 24

رانا خدا بخش اور ان کے حاسدین!

میں تو خیر سادھو سا آدھی ہوں، مجھے کیا پتہ یہ مَن وتُو کے سلسلے کیا ہوتے ہیں مگر میرے ایک دوست بڑی مقبول شخصیت ہیں۔ ان کی عمر اگرچہ اس وقت ستر بہتر برس کے درمیان ہے مگر ان کے نام قیامت کے نامے آتے ہیں، وہ خوشبو میں بسے ہوئے یہ خطوط اپنی میز پر کسی فائل کور کے ارد گرد کچھ یوں رکھتے ہیں کہ ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی نظر انہی ناموں پر پڑتی ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میں چونکہ سادھو سا آدمی ہوں اس لیے مجھے تو نہیں لیکن ان کے جو دوست صنفِ نازک کی تحریر پہچاننے کے ضمن میں اسپیشلسٹ واقع ہوتے ہیں وہ ان سے راز دارانہ انداز میں ایک آدھ سوال کرکے سب کچھ اگلوا لیتے ہیں۔ ان لمحوں میں میرے اس دوست کے کان سرخ ہو جاتے ہیں چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ جاتی ہے اور وہ جھکی نظروں کے ساتھ جیب سے رومال نکال کر اس کا پلو اپنی انگلی کے گرد لپیٹنے لگتے ہیں، ان کا نام رانا خدابخش ہے۔رانا صاحب بڑے شرمیلے ہیں۔

میں نے عرض کیا ناکہ میری تو یہ فیلڈ ہی نہیں چنانچہ رانا صاحب رقابت کے تمام خطروں سے بے نیاز ہو کر بن مانگے مجھ پر مائل بہ کرم رہتے ہیں۔ یعنی میں ان سے کچھ پوچھوں نہ پوچھوں وہ مجھے خود ہی بتا دیتے ہیں کہ آج ان کے نام کتنے مہوشوں کے نامے آئے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ ازراہِ کرم گاہے گاہے ان میں سے کچھ اقتباسات بھی مجھے سناتے رہتے ہیں اور یوں اُن کے نام جو خط آتے ہیں، ان میں بڑے مخرب اخلاق فقرے درج ہوتے ہیں مثلاً’’چلیے ہٹیے! میں آپ سے نہیں بولتی، میں آپ سے ناراض ہوں‘‘ یا ’’آج ایک ہفتہ ہو چکا ہے راہ دیکھتے دیکھتے، میرے بال سفید ہو گئے ہیں ‘‘ لیکن ان کے اور میرے ایک مشترکہ دوست جو رانا صاحب کی اس مقبولیت کی وجہ سے اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں، طرح طرح کی باتیں کرکے اور بہانے سے ان خطوط میں کیڑے ڈال کر اپنی یہ آگ ٹھنڈی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ مثلاً وہ قسم کھا کے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ موصوف کمرے سے جاتے ہوئے یہ خطوط واپس اپنی جیب میں رکھنا بھول گئے تو انہوں نے جلدی جلدی یہ خط کھول ڈالے، ایک خط کا متن کچھ یوں تھا ’’محترم رانا صاحب میں نے آپ کو لکھا تھا کہ بانو بازار میں، میں نے ڈوپٹے رنگنے کو دیے ہوئے ہیں ذرا زحمت کرکے کسی روز گھر چھوڑ جائیں۔ میں نے امید بھیجی تھی ایک دن میں آپ کو خط مل گیا ہو گا مگر آج دو روز ہو گئے ہیں ڈوپٹے نہیں پہنچے، نواسی کی شادی میں چند روز رہ گئے ہیں ! اس روز آپ بازار سے جو سبزی لے کر آئے تھے وہ بھی گلی سڑی ہوئی تھی، چلیے ہٹیے! میں آپ سے نہیں بولتی، میں آپ سے ناراض ہوں‘‘۔ میرے اس حاسد دوست کے مطابق دوسرے خط کا متن یہ تھا،’’ محترم رانا صاحب! آپ کو لکھا تھا خضاب کے دو پیکٹ ذرا جلدی بھجوا دیں، آج ایک ہفتہ ہو چلا ہے راہ دیکھتے دیکھتے میرے بال سفید ہو گئے ہیں!‘‘ اور کچھ اس قسم کی باتیں میرے یہ حاسد دوست باقی خطوں کے بارے میں بھی کرتے ہیں لیکن میرا ایمان ہے کہ رانا صاحب بزرگ آدمی ہیں بھلا وہ کاہے کو خود پر الزام تراشی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کپتان کی نیت ٹھیک ہے

بزرگوار رانا صاحب کے بیان پر ایمان لانے کی وجہ صرف یہی نہیں جو میں نے ابھی بیان کی ہے بلکہ اس کی دو وجوہ اور بھی ہیں ایک تو یہ کہ موصوف کا ذوقِ جمالیات ابنائے زمانہ سے نہ صرف جداگانہ ہے بلکہ بہت صاف ستھرا اور صالح بھی ہے وہ بناوٹ کو بالکل پسند نہیں کرتے ،چنانچہ میک اپ کو بھی ناپسند کرتے ہیں۔ شو شا کے پیچھے نہیں جاتے بلکہ سادگی پر مرتے ہیں، چنانچہ میں نے ایک روز اپنی آنکھوں سے ان کے کمرے کی طرف ایک حور شمائل کو جاتے دیکھا جس نے پرانی طرز کا ٹوپی والا سفید برقع اوڑھا ہوا تھا اور پائوں میں ہوائی چپل تھی۔ رانا صاحب اس کے قدموں کی چاپ پہچان کر کمرے سے باہر نکل آئے اس کی بہت عزت و تکریم کی اس کے راستے میں آنکھیں بچھائیں اور جب اسے رُخصت کیا تو آنکھوں میں آنسو تھے جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں کا سارا سرمہ بہہ نکلا۔اس موقع پر انہوں نے مجھے اپنا یہ شعر بھی سنایا!

وقت رخصت ہم چپ رہے رانا خدا بخش

آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

یہ شعر سن کر خود میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے تاہم اس روز ان کے سارے دعوے سچے ثابت ہوگئے، کیونکہ اب تو میری حیثیت چشم دید گواہ کی ہو گئی تھی جبکہ میرے اس حاسد دوست کا کہنا تھا کہ ایسے گواہ کو چشم دید گواہ نہیں وعدہ معاف گواہ کہتے ہیں۔ اپنے حاسد دوست کو جھٹلانے اور رانا صاحب کے بیان پر ایمان لانے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ گویہ نامے موصوف کی کمزوری ہیں مگر ان کا ضمیر اس پر خوش نہیں ہے بلکہ وہ اکثر اس کی خلش محسوس کرتے ہیں چنانچہ ان لمحوں میں وہ اپنے تمام رومانس ایک ایک کرکے سناتے ہیں اور اس دوران کانوں کو ہاتھ لگاتے اور توبہ استغفار کرتے چلے جاتے ہیں۔ میں نے ایسے موقع پر خوفِ خدا کے باعث ان پر کپکپی طاری ہوتی بھی دیکھی ہے مگر برا ہو اس حسد کا میرے متذکرہ حاسد دوست اس مثبت پہلو میں سے بھی منفی پہلو نکال لیتے ہیں اور ایسے مواقع پر پوری بدلحاظی سے کام لیتے ہوئے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں اور رانا صاحب کو مخاطب کرکے کہتے ہیں ’’یہ تم گناہوں کا اقرار کر رہے ہو یا بڑیں ہانک رہے ہو؟‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   ’’مذہب کا استعمال‘‘
Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں