columns of Javed Chaudhary 56

مگوں میں تقسیم زندگی

اس نے سب سے گندا مگ اٹھا لیا‘ وہ مگ کو ہونٹوں تک لے کر آیا‘ ایک لمبا سپ لیا‘ آنکھیں بند کر کے طویل سانس لی اور پروفیسر صاحب کی طرف دیکھ کر بولا ’’سر آپ کی کافی بہت شان دار ہے‘‘ بوڑھے پروفیسر نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا‘ تمام لوگوں نے مگ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے اور پروفیسر کی طرف دیکھ رہے تھے۔

پروفیسر نے ان سے پوچھا ’’کافی کیسی ہے؟‘‘ تمام لوگوں نے مگوں کی طرف دیکھا اور شائستگی کے ساتھ بولے ’’ اچھی ہے سر‘‘ پروفیسر نے پوچھا ’’ میٹھا کیسا ہے‘‘ دو طالب علم فوراً بولے ’’ مناسب ہے‘‘ ایک نے ملازم کی طرف مڑ کر کہا ’’ مجھے دو چمچ چینی اور لا دو‘‘ جب کہ باقی تمام لوگ کندھے اچکا کر خاموش بیٹھے رہے‘ پروفیسر نے اس کی طرف دیکھا‘ وہ بولا ’’ سر کافی میں چینی نہیں تھی اور میں پھیکی کافی پسند کرتا ہوں‘‘ پروفیسر نے ستائش بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

یہ تمام لوگ زندگی میں کام یاب تھے‘ ان میں سے کچھ انجینئرتھے‘ کچھ ڈاکٹر تھے‘ کچھ بزنس مین تھے‘ کچھ بیورو کریٹس تھے اور دو سیاست دان تھے‘ یہ چالیس سال کے پیٹے میں تھے اور یہ زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتے تھے‘ یہ کر چکے تھے لیکن اس تمام تر کام یابی کے باوجود ان کی زندگی میں کسی چیز کی کمی تھی‘ یہ مضطرب تھے‘ یہ بے چین تھے اور ان کی زندگی بے کیف تھی‘ یہ لوگ ایک دن اکٹھے بیٹھے‘ انھوں نے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور اس کے بعد فیصلہ کیا‘ یہ اپنے پروفیسر کے پاس جاتے ہیں‘ یہ ان سے اپنی بے کیف زندگی ڈسکس کرتے ہیں اور پروفیسر صاحب جو مشورہ دیں‘ یہ اس پر عمل کریں گے۔

یہ پروفیسر کے پاس پہنچ گئے‘ پروفیسر ایک مطمئن انسان تھے‘ یہ ایم اے کے بعدکالج میں لیکچرار بھرتی ہوئے‘ پی ایچ ڈی کی‘ کالج سے یونیورسٹی آئے‘ اپنی ایک اسٹوڈنٹ کے ساتھ شادی کی‘ تین بچے پیدا ہوئے اور یہ مزے سے زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ سب لوگ پروفیسر صاحب کے پاس پہنچ گئے‘ پروفیسر کے پاس اس وقت ایک اور اسٹوڈنٹ بھی بیٹھا تھا‘ یہ پروفیشن کے لحاظ سے فوٹو گرافر تھا اور سماجی رتبے میں ان سب سے کم تھا۔

اس کے پاس بڑی گاڑی تھی‘ بڑا گھر تھا اور نہ ہی لمبی چوڑی تنخواہ تھی لیکن اس کے باوجود یہ ایک خوش گوار زندگی گزار رہا تھا‘یہ لوگ پروفیسر کو اپنے مسائل بتا رہے تھے‘ پروفیسر بڑے غور سے ان کی گفتگو سن رہا تھا‘ نوکر اس دوران کافی کی ٹرے لے آیا‘ ٹرے میں مختلف قسم کے مگ تھے‘ کوئی مگ خوب صورت تھا‘ کوئی قیمتی تھا‘ کوئی لمبا تھا اور کوئی چھوٹا تھا اور ان میں ایک مگ بدصورت اور ٹوٹا ہوا بھی تھا‘ نوکر ٹرے ایک ایک صاحب کے پاس لے جا رہا تھا اور وہ اپنی مرضی کا مگ اٹھا لیتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   یہ فتح تو ہے مگر کس کی؟

یہ ٹرے جب فوٹو گرافر کے پاس پہنچی تو اس نے بدصورت ترین مگ اٹھایا‘ لمبا سپ لیا اور سرشاری کے عالم میں بولا ’’سر آپ کی کافی بہت شان دار ہے‘‘ جب کہ دوسرے لوگ مگ ہاتھ میں اٹھا کر چپ چاپ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے‘ پروفیسر نے گفتگو روک کر فوٹو گرافر سے پوچھا ’’ٹرے میں ہر قسم کا مگ تھا‘ ٹرے میں لمبے مگ بھی تھے‘ شوخ رنگ والے بھی تھے اور قیمتی بھی تھے لیکن تم نے ان میں سے بدصورت اور ٹوٹا ہوا مگ کیوں پسند کیا؟‘‘ فوٹو گرافر نے مسکرا کر پروفیسر کی طرف دیکھا اور بولا ’’ سر لیکن کافی تو سب میں ایک جیسی تھی‘‘ پروفیسر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی‘ فوٹو گرافر نے اپنے مگ کی طرف اشارہ کیا اور اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی طرف اشارہ کیا‘ ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں سب سے شان دار مگ تھا۔

اس نے اس کے بعد ملک صاحب‘ مہر صاحب اور چوہدری صاحب کے مگوں کی طرف اشارہ کیا‘ ان سب کے مگ بھی شوخ‘ خوب صورت اور قیمتی تھے اور اس کے بعد اس نے پروفیسر صاحب کے مگ کی طرف اشارہ کیا اور بولا ’’جناب ہم سب کے مگ مختلف ہیں لیکن ان میں ایک چیز کامن ہے اور وہ چیز کافی ہے‘‘ وہ رکا اور اس کے بعد بولا ’’ اگر ہم مگوں میں سے کافی نکال دیں تو یہ تمام مگ بے معنی ہو جائیں گے۔

یہ مگ کتنا ہی خوب صورت‘ قیمتی اور شان دار کیوں نہ ہو‘ ہم اسے اٹھانا پسند نہیں کریں گے‘‘ وہ رکا اور دوبارہ بولا ’’ ہم نے جب کافی ہی پینی ہے تو پھر مگ کا سائز‘ رنگ اور برینڈ کی کیا حیثیت ہے چناںچہ میں نے وہ مگ اٹھا لیا جس کی طرف ان میں سے کوئی شخص ہاتھ نہیں بڑھا رہا تھا‘‘۔ وہ خاموش ہو گیا‘ پروفیسر نے قہقہہ لگایا اور تمام لوگوں کو مخاطب کر کے بولا ’’ تم سب کا یہی مسئلہ ہے‘ تم زندگی میں ’’ بیسٹ ون‘‘ کی تلاش میں رہتے ہو۔

یہ بھی پڑھیں: -   ذرا لندن تک

تم سب کو شہر کی خوب صورت خاتون چاہیے‘ تمہیں قیمتی ترین گاڑی چاہیے‘ تمہارا بینک بیلنس بھی ’’سیون ڈیجٹ‘‘ میں ہونا چاہیے‘ تمہارا گھر بھی شان دار ہونا چاہیے اور تمہیں اسٹیٹس‘ اختیار اور عزت میں بھی منفرد ہونا چاہیے چناںچہ تم زندگی کی ٹرے سے ہمیشہ بیسٹ مگ اٹھاتے ہو اور یہ بھول جاتے ہو تم یہ مگ اٹھا کیوں رہے ہو چناںچہ جب مگ ہاتھ میں آتا ہے اور تمہیں لذت محسوس نہیں ہوتی تو تم حیرانی سے دائیں بائیں دیکھتے ہو اور تمہیں زندگی بے کیف سی محسوس ہونے لگتی ہے‘‘ پروفیسر صاحب نے فوٹو گرافر کی طرف دیکھا اور بولے ’’ لیکن یہ شخص زندگی کو سمجھ گیا ہے‘ یہ زندگی کے ریپر‘ زندگی کے لیبل اور شوخ و شنگ رنگوں کی طرف نہیں جاتا‘ یہ مگ کے اندر موجود زندگی کی لذت کو محسوس کرتا ہے لہٰذا اس کے پاس کچھ بھی نہیں لیکن یہ اس کے باوجود خوش بھی ہے اور مطمئن بھی‘‘۔

میں نے یہ واقعہ برسوں پہلے سیلف ہیلپ سیریز کی کسی کتاب میں پڑھا تھا اور یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے ذہن کی دیواروں سے چپک گیا اور میں نے اس کے بعد جب بھی کوئی مگ اٹھایا تو کافی کی خوشبو‘ جھاگ اور اس سے اٹھتی ہوئی مسرت کو دیکھ کر اٹھایا‘ اس کے رنگ روغن اور سائز پر توجہ نہیں دی‘ ہماری زندگی بے شمار مگوں میں تقسیم ہوتی ہے‘ ہمارے مکان ایک مگ ہیں‘ ہمارے دفتر‘ ہماری جابز‘ ہماری گاڑیاں‘ ہمارے سماجی تعلقات‘ ہمارے معاشرتی مرتبے اور ہمارے بیوی اور بچے یہ بھی مگ ہیں اور ہم لوگ اکثر اوقات مگوں کا رنگ روغن‘ قد کاٹھ‘ قیمت اور معیار دیکھ کر انھیں پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔

ہم میں سے کوئی شخص ان مگوں کے اندر جھانک کر نہیں دیکھتا‘ ہم میں سے کوئی نہیں دیکھتا ان مگوں کے اندر کافی بھی ہے یا یہ خالی ہیں اور اگر کافی ہے تو اس کی مقدار کتنی ہے‘ اس کا ذائقہ کیسا ہے اور یہ بنی کیسی ہے؟ خوشی ہمارے کپ‘ ہمارے مگ کی کافی ہوتی ہے اور ہم اس خوشی کے لیے مگوں کے درمیان ٹھڈے کھاتے ہیں اور ہم مگوں اور کپوں کے درمیان ٹھڈے کھاتے ہوئے ہمیشہ خوشی کے عنصر کو بھول جاتے ہیں‘ ہمیں بڑی گاڑی چاہیے‘ ضرور لینی چاہیے لیکن کیا یہ گاڑی ہمیں خوشی بھی دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: -   بیت المقدس کی ایک شام

ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا‘ ہمیں اگر بڑی گاڑی کے بعد خوشی ملتی ہے تو ہمیں یہ گاڑی ضرور خریدنی چاہیے‘ اسی طرح ہمارا سوشل سرکل وسیع‘ شان دار اور مضبوط ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ سوشل سرکل ہمیں خوشی دے رہا ہے؟ اگر ہاں تو ہمیں اس سرکل کو مزید سے مزید پھیلانا چاہیے اور اگر ہم شان دار‘ طاقتور اور مضبوط لوگوں کے درمیان بیٹھ کر بھی اداس‘ پریشان اور کنفیوژ ہیں تو پھر ہمیں اس سرکل سے فوراً نکل جاناچاہیے اور اگر ہمارا کام‘ ہماری جاب اور ہمارا بزنس بھی ہمیں خوشی اور اطمینان نہیں دے رہا تو پھر ہمارا سیون ڈیجٹ اکاؤنٹ‘ ہماری فیکٹریاں اور ہماری ترقیاں بھی بے معنی ہیں۔

لہٰذا ہمیں یہ کپ بھی واپس ٹرے میں رکھ دینا چاہیے‘ ہم لوگ اگر زندگی میں خوشی دیکھ کر فیصلے کریں تو ہمارا ہر مگ ہمیں مسرت اور اطمینان دے گا لیکن اگر ہم مگوں کا رنگ‘ روغن‘ معیار‘ برینڈ اور قیمت دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں تو زندگی کا ہر مگ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اداس اور پریشان کر جاتا ہے‘ پروفیسر کا فوٹو گرافر شاگرد ان کے تمام کام یاب شاگردوں کے مقابلے میں زیادہ سمجھ دار تھا‘ وہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کو سمجھ گیا تھا اور یہ ہمیشہ کافی دیکھ کر مگ اٹھاتا تھا مگ کی شکل دیکھ کرنہیں چناںچہ یہ کچھ نہ پا کر بھی خوش تھا جب کہ دوسرے لوگوں نے زندگی کے خوب صورت ترین مگ اٹھا رکھے تھے لہٰذا یہ سب کچھ حاصل کر کے بھی اداس تھے۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں