Khursheed Nadeem 74

صدر پوتن، نصاریٰ اور قرآن مجید

بس اتنی گزارش ہے کہ کتاب اللہ پہ رحم کیجیے۔ اسے بازیچہ اطفال نہ بنائیے۔
صدر پوتن کو مسلمانوں کا نیا ہیرو ثابت کیجیے۔ خیالات کے گھوڑوں کو پہلے کون روک سکا ہے جو اب روک لے گا لیکن اس کے لیے خدارا قرآن مجید کو تختۂ مشقِ نہ بنائیے۔ عصری واقعات پر کتاب اللہ کی آیات کا انطباق کوئی کھیل نہیں۔ یہ کتاب اس لیے ہے کہ ہدایت کے لیے اس کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے نہیں کہ اپنی من پسند تاویلات کیلئے اس سے دلیل تلاش کی جائے۔ دلیل بھی ایسی جسے کلام کا نظم قبول کرتا ہو نہ سیاق و سباق۔ روایت نہ تاریخ۔
سورہ مائدہ میں ارشاد ہوا ”حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی دشمنی میں تم سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور مسلمانوں کی دوستی میں سب سے قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر علما اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے‘‘ (5:82)۔ یہ کوئی پیش گوئی نہیں، خبر اور امرِ واقعہ کا بیان ہے۔ یہ اُن اہلِ کتاب کا ذکر ہے جو عہدِ رسالت مآبﷺ میں موجود تھے۔ اس کی شہادت خود متن میں موجود ہے۔ جو گروہ مسلمانوں کے قریب ہے، اس کی ایک نشانی بتائی گئی ہے کہ وہ خود کو نصاریٰ کہتا ہے۔
تمام مسیحی اپنے آپ کو نصاریٰ نہیں کہتے تھے۔ عالمِ مسیحیت نے سینٹ پال کی تعبیر پر اتفاق کیا تو ان کے ابتدائی معتقدین نصاریٰ کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے اور اسے حقیر جانتے تھے۔ 44ء میں انہوں نے اپنے لیے مسیحی (Christian) کا نام پسند کیا۔ آج تک وہ اسی پر قائم ہیں۔ ہمارے ہاں بھی مسیحی اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ انہیں ‘عیسائی‘ کہا جائے۔ قرآن مجید نے چونکہ سیدنا عیسیٰؑ کے لیے مسیحؑ کا نام بھی استعمال کیا ہے اس لیے اہلِ اسلام کے لیے یکساں ہے کہ ان کے نام لیواؤں کو مسیحی کہیں یا عیسائی۔
یہ دراصل سیدنا مسیحؑ کے خلیفہ شمعون صفا کے پیروکار تھے جو عہدِ رسالت مآبﷺ میں بھی بڑی حد تک حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات پر قائم تھے۔ ابن کثیر کے نزدیک اس سے مراد نجاشی ہے یا وہ نصاریٰ ہیں جو حبشہ سے نبیﷺ سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ابن جریر اس کے عمومی معنی مراد لیتے ہیں کہ جن میں یہ اوصاف پائے جائیں یعنی علما اور راہب۔ اس باب میں قرآن کی داخلی شہادت کو ترجیح ہے کہ اس سے مراد ایک خاص گروہ ہے جس کا تعلق دورِ رسالت کے ساتھ ہے۔
یہ بات کہ اس سے پوتن اور روس کے مسیحی مراد ہیں اور یہ کہ ان کے بارے میں قرآن مجید کی پیش گوئی ہے، ایک بے بنیاد بات ہے۔ یہ بھی خلافِ واقعہ ہے کہ کیتھولک خود کو مسیحی نہیں کہتے ہیں۔ جنہوں نے صلیبی جنگیں لڑیں، وہ کون تھے؟ دو عشرے پہلے جب صدر جارج بش نے کروسیڈز (Crusades) کا لفظ استعمال کیا تو ان لوگوں نے اس کا کیا مفہوم لیا‘ جو آج پوتن کو مسیحیت کا حقیقی نمائندہ مان رہے ہیں؟ امریکہ کی لڑائی کو مذہبی جنگ کون کہتا رہا ہے؟ اگر امریکہ مسیحیت کا نمائندہ نہیں تھا تو پھر کس کی نمائندگی کرتا تھا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ روس اور چین کو اب مسلمانوں کا ساتھی کہا جا رہا ہے۔ روس‘ جو سوویت یونین کا جانشن ہے، کے بارے میں چند سال پہلے تک یہی خیالات تھے کہ وہ دھریہ اور لا دینیت کا عالمی نمائندہ ہے جبکہ امریکہ اور یورپ اہلِ کتاب ہیں‘ اس لیے سوویت یونین سے لڑنا ترجیح ہونی چاہیے۔ آج اسے اہلِ اسلام کا ساتھی مان لیا گیا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ پوتن واحد لیڈر ہے جس نے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی۔
پہلی بات تو یہ کہ وہ واحد لیڈر نہیں ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم بھی یہی بات کہہ چکے ہیں اور ان کا کوئی تعلق روسی آرتھوڈوکس چرچ کے ساتھ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی یورپی راہنما اس کی مذمت کر چکے۔ دوسری بات یہ کہ صدر پوتن نے ایک بیان کے علاوہ اسلاموفوبیا کے خلاف کیا عملی اقدام کیا؟ کیا اس بنیاد پر کسی ملک سے سفارتی تعلقات ختم کیے؟ مشرقِ وسطیٰ میں روس کا کردار کیا رہا؟ مسلمانوں کے حق میں صدر پوتن کے نامہ اعمال میں کیا کوئی کارنامہ درج ہے؟
واقعہ یہ ہے کہ یوکرین اور روس کی لڑائی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یوکرین تو تاریخی اعتبار سے آرتھوڈوکس روسی مسیحیت کی جنم بھومی ہے جس پر روس چڑھ دوڑا ہے۔ یہ کیف ہی کا علاقہ تھا جہاں دسویں صدی عیسوی میں اس چرچ کی بنیاد رکھی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود صدر پوتن یا یوکرین کی قیادت میں سے کسی نے اس معرکہ آرائی کو مذہبی رنگ دینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس صلاحیت سے ہم ہی متصف ہیں کہ دنیا کی ہر لڑائی کو مذہبی بنا سکتے اور خیالی طور پر اس کو امتِ مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ پر منتج کر سکتے ہیں۔ تاریخ مسلسل اس خیال کو رد کرتی آئی ہے کہ لیکن ہماری استقامت دیکھیے کہ یہ سودا اب بھی اسی میڈیا پر بیچا جا رہا ہے جسے ‘دجالی‘ کہا جاتا ہے۔
مسلمان اس لڑائی میں نہ تو فریق ہیں اور نہ ہی ان کا مقدر اس سے جڑا ہوا ہے۔ مسلمان کیا، اس کا کوئی تعلق مسیحیوں سے بھی نہیں ہے۔ صدر پوتن کے تو فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہو گا کہ نصاریٰ کون ہیں اور کیسے پاکستان میں بیٹھے بعض دانشور انہیں عالمِ اسلام کا بڑا اتحادی قرار دے چکے ہیں جو ان کی طرف سے بے دین امریکہ اور یورپ سے لڑے گا۔ ایسی کوئی سوچ بیجنگ میں بھی نہیں پائی جاتی مگر یہاں بتایا جا رہا ہے کہ سلامتی کونسل میں مسلمانوں کے دو ووٹ ہو گئے ہیں: ایک روس کا دوسرا چین کا۔ دوسری طرف امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کا مل کر ایک ووٹ ہے۔ خوش گمانی کی، سچ یہ ہے کہ کوئی حد نہیں۔
یہ کاروبارِ دنیا اسی طرح چلتا رہے گا۔ میری درخواست تو بس اتنی ہے کہ قرآن مجید کو من پسند تاویلات کے لیے تختۂ مشقِ نہ بنایا جائے۔ یہ سلوک آپ پہلے روایات کے ساتھ کر چکے۔ جس طرح افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی موجود ہ حالات پر ان کا اطلاق کیا گیا، وہ باعثِ عبرت ہے۔ معلوم نہیں کہ ان لوگوں کو اس کا کتنا احساس ہے کہ اس مشق نے دین کو کتنا نقصان پہچایا ہے؟ خیال ہوتا ہے کہ اس کا احساس نہیں۔ ہوتا تو گریز کیا جاتا نہ کہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا جاتا۔
استدعا بس اتنی ہے کہ آپ ‘نقادوں‘ کے منہ میں جو چاہیں ڈال دیں مگر دین، بالخصوص اس کے سب سے مستند ماخذ قرآن مجید کو اس سے محفوظ رکھیں۔ یہ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی سرگزشت انذار ہے جو یہ بتانے آئی ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور لوگوں کو خدا کے حضور میں پیشی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ یہ قیادت کیسے آئے گی اور کیسے ایمان لانے والوں اور انکار کر نے والوں کو الگ الگ کردے گی، اللہ نے رسالت مآبﷺ کی قوم کیلئے اسے اسی دنیا میں واقعہ بنا کر دکھا دیا۔ اہلِ ایمان کو دنیا کی نعمتوں سے سرفراز کیا گیا اور انکار کرنے والوں کا نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ قرآن مجید اس کی روداد بیان کرتا ہے تاکہ اتمامِ حجت ہو جائے اور کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ ایسی الہامی کتاب سے صدر پوتن اور روس کے حق میں پیش گوئیاں تلاش کرنا، ایک ایسی جسارت ہے کہ اس سے محفوظ رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کیا اس کے بعد بھی
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں