psl-lhr-crowd 58

لاہوریوں نے میلہ لوٹ لیا

’’فلائٹ دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہے‘‘

ائیرلائن کی جانب سے جب مجھے یہ پیغام ملا تو دل میں خیال آیا کہ ہمارے ملک میں آخر کتنی فلائٹس وقت پر پرواز کرتی ہیں،ان سے کوئی پوچھنے والا بھی ہے کیا،پھر یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ کم از کم پہلے تو آگاہ کر دیا ورنہ گذشتہ بار کی طرح پھر ایئرپورٹ پر انتظار کی کوفت سے گذرنا پڑتا مگر جلد ہی میری خوش فہمی ہوا ہو گئی جب بھائی نے بتایا کہ ایک سیاسی تنظیم کی ریلی ہے،ٹریفک میں پھنس سکتے ہیں لہذا ایئرپورٹ جلدی جانا مناسب ہوگا،خیر میں فلائٹ سے کئی گھنٹے قبل ہی پہنچ گیا،پچھلی بار کے برعکس اس بار کوویڈ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ چیک ہوا۔

جہاز میں کئی ایسے لوگ تھے جو خاص طور پر پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے جا رہے تھے،لاہور پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ سے باہر نکلا تو ٹھنڈی ہواؤں نے استقبال کیا،چونکہ عباس رضا مجھے پیشگی آگاہ کر چکے تھے اس لیے میں تیاری کر کے آیا تھا،ویسے ہمارے کراچی میں تو اب گرمیاں تقریباً آ ہی گئی ہیں،ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد میں اسٹیڈیم روانہ ہو گیا،مجھ سے کہا گیا تھا کہ چونکہ ملک کی کئی اہم شخصیات میچ دیکھنے آ رہی ہیں اس لیے جلدی پہنچ جانا ورنہ داخلے میں مشکل ہوگی۔

کافی دور سے شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم کی جانب رواں دکھائی دی،ان کے چہروں کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ وہ پی ایس ایل کی وجہ سے کتنے خوش ہیں،حالانکہ پارکنگ کا اسٹیکر قریب کا تھا مگر شاید رش کی وجہ سے میری گاڑی کو پنجاب اسپورٹس بورڈ تک ہی جانے کی اجازت ملی،وہاں سے پیدل مارچ شروع کیا،تقریباً ہر انکلوژر کے سامنے ہزاروں شائقین قطاروں میں منظم انداز میں کھڑے تھے جہاں تلاشی اور ٹکٹ چیک کرنے کے بعد انھیں داخلے کی اجازت مل رہی تھی، کافی لوگوں نے لاہور قلندرز یا پاکستانی ٹیم کی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: -   کورونا کیسز میں اضافے پر سنیل شیٹھی کا اپارٹمنٹ سیل کردیا گیا

لوگ سیٹیاں،باجے،جھنڈے بھی ساتھ لائے تھے، خوب شور مچ رہا تھا، زندہ دلان لاہور نے لیگ میں نئی جان ڈال دی،مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ کراچی میں ایسا ماحول نہیں بن پایا تھا اور اگر فائنل وہاں ہوتا تو شاید ہی اسٹیڈیم مکمل بھر پاتا، جب بھی کوئی میچ ہو تو کرکٹ سے وابستہ شخصیات کیلیے سب سے بڑا مسئلہ مفت پاسز والوں کی ڈیمانڈ پوری کرنا ہوتا ہے۔

شاید آپ یقین نہ کریں انگلینڈ اور دبئی میں بھی میچ ہوں تو لوگ مفت ٹکٹ کے لیے فرمائشیں کرتے ہیں،فائنل لاہور میں ہونے کے باوجود مجھ سے بھی بہت لوگوں نے ٹکٹیں مانگیں مگر ظاہر ہے سب کو خوش کرنا ممکن نہ تھا،ویسے ہمارے ملک میں یہ مفت والا کلچر بہت بڑھ چکا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ کروڑ پتی لوگ بھی چند ہزار روپے خرچ کرنے کے بجائے پاسز کے لیے کوشش کر رہے ہوتے ہیں،شاید وہ اس سے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہوں کہ ہماری اتنی جان پہچان ہے کہ مفت پاسز ملتے ہیں،کئی ساتھی صحافی اسٹیڈیم میں ملے تو انھوں نے بتایا کہ اس مسئلے سے بچنے کیلیے فون ہی بند کر دیا ہے۔

میں جس لاؤنج میں بیٹھا تھا اس کے نیچے والے فلور پر میڈیا سینٹر تھا لہٰذا آتے جاتے صحافی دوستوں سے ملاقات ہوتی رہی،عباس رضا،اظہر مسعود، عمر فاروق کالسن، ابوبکر، زاہد مقصود، یوسف انجم، محمد یعقوب،نسیم صدیقی سمیت کئی صحافی ملے،میچ کے دوران زبردست ماحول تھا،کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی،بیشتر شائقین لاہور قلندرز کے حامی اور چاہتے تھے کہ ان کے شہر کی ٹیم ٹرافی جیت جائے،ملتان سلطانز کو شاید لگ رہا ہو کہ وہ کسی اور ملک میں کھیل رہے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بار لاہور کی وکٹ گرنے یا ملتان کی باؤنڈری پر میدان میں سناٹا چھا جاتا،میری چند لوگوں سے بات ہوئی تو ان کا یہی کہنا تھا کہ سب نے ٹرافی جیت لی صرف ہم رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: -   خوف سے نجات پائیں

بس اس بار ہمیں چیمپئن بننا ہے،ان کی دعائیں قبول بھی ہو گئیں،پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن میں چھٹی ٹیم چیمپئن بنی،اس وقت لاہوریوں کی خوشی دیدنی تھی، ویسے پی ایس ایل کا اصل میلہ انہی نے لوٹا اور ایونٹ میں جان ڈال دی،ایسے ایونٹس قومی یکجہتی کے لیے بھی بیحد ضروری ہیں،آپ دیکھیں لاہور کے کپتان شاہین شاہ آفریدی تھے اور کراچی کی قیادت بابر اعظم نے کی،رمیز راجہ نے اگلے ایڈیشن کے میچز پشاور اور ملتان میں کرانے کا بھی اعلان کیا ہے، آپ سوچیں جب زلمی اور سلطانز ہوم گراؤنڈز پر کھیلیں گے تو کیا ماحول ہوگا،راولپنڈی اور کوئٹہ میں بھی میچز رکھنے چاہئیں،میچ میں لاہور کی فتح کے بعد جشن کا سماں تھا،اختتام پر آتش بازی نے زبردست ماحول بنا دیا،بچے،بڑے،بزرگ سب ہی اسٹیڈیم آئے ہوئے تھے۔

خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی،سب میچ سے بیحد لطف اندوز ہوئے،بدقسمتی سے پہلے دہشت گردی اور پھر کوویڈ نے یہ رونقیں چھین لی تھیں مگر شکر ہے اب حالات ٹھیک ہیں،پاکستان اب کسی انٹرنیشنل ایونٹ کی میزبانی کے لیے بھی مکمل تیار ہے،آسٹریلوی ٹیم 24سال بعد اسلام آباد آ چکی اور رواں ہفتے پنڈی ٹیسٹ شروع ہونے والا ہے،ٹیسٹ میچ کے بھی ٹکٹوں کی فروخت حوصلہ افزا ہے۔

یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ ہم درست ٹریک پر گامزن ہیں،پاکستانی شاید کرکٹ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ ہیں اور ہم ہمیشہ اس کا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں،میں بھارت جا کر آئی پی ایل بھی دیکھ چکا لیکن یقین مانیے ہماری لیگ جیسی کرکٹ وہاں بھی نہیں ہوتی،اسٹیڈیم سے ہوٹل واپس جاتے ہوئے شائقین کے مسکراتے چہرے ظاہر کر رہے تھے کہ وہ لاہور قلندرز کی فتح سے کتنے خوش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   کیا ہم مسلمان ہیں؟

نعرے لگاتے لوگ رقص بھی کر رہے تھے،جب میچ کے بعد محمدرضوان اور شاہین شاہ آفریدی گرمجوشی سے گلے ملے وہ پی ایس ایل کا سب سے زبردست لمحہ تھا،یہ پاکستان کی لیگ ہے جو بھی جیتے فتح ہماری ہی ہوتی ہے۔

ایک بات ماننے کی ہے کہ کراچی کے بعد لاہور میں بھی سیکیورٹی انتظامات زبردست رہے، اگر ملک میں اب وہ حالات ہو گئے کہ آسٹریلیا جیسی ٹیم آ کر کھیل رہی ہے تو اس میں بڑا کردار پی ایس ایل کا بھی ہے جس میں غیرملکی کرکٹرز کو شرکت کرتے دیکھ کر دیگر کا بھی حوصلہ بڑھا،آخر میں رمیز راجہ سمیت پی سی بی کو کامیاب ایونٹ پر مبارکباد،اس میں سیکیورٹی اداروں،حکومت،شائقین سب کا اہم کردار ہے، بس اب یہی دعا ہے کہ ہمارے ملک کی رونقیں ایسے ہی بحال رہیں۔

Saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں