adnan-khan-kakar 50

سست آدمی نے پتھر کے ابتدائی اوزار ایجاد کیے

یہ تقریباً پچیس لاکھ برس پہلے کی بات ہے۔ اب تک سستو کے قبیلے کا دماغ بڑا ہو کر چھے سے سات سو سی سی پلس تک ہو چکا تھا۔ پرانے انسانوں کا دماغ اس کے مقابلے میں چار سے پانچ سو سی سی سائز کا ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سستو کے بارہ ماہی سیکس دریافت کرنے کے بعد اب قبیلے والے زیادہ بچے زیادہ بچے پیدا کرنے لگے تھے جو زیادہ خوراک لے آتے تھے۔ یوں خوب کھا کھا کر سستو کے قبیلے جو اب ہومو ہیبلس (ہینڈی مین) یعنی کاریگر آدمی کہلاتا تھا، کو اتنی توانائی میسر ہو گئی کہ وہ سب سے زیادہ توانائی خرچ کرنے والے عضو یعنی دماغ کو زیادہ سپلائی دے سکے۔

تو ایک دن سستو ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں لیتا آسمان پر اڑتے بادل دیکھ رہا تھا تو اچانک ایک ہڈی اس کے پیٹ سے ٹکرائی۔ ”ہڈ حرام، اٹھو اور اس ہڈی کو توڑ کر اندر سے گودا نکالو تاکہ ہم کچھ کھا سکیں۔ یہ لو بھینس کے چار پائے جو تمہارے ابا آج ہی ایک چیتے سے چرا کر لائے ہیں۔ سب کے اندر سے گودا نکالو۔“ سستو کی ماں غرائی۔

سستو نے نہایت بے دلی سے پاس پڑا ایک خوب گول سا پتھر اٹھایا اور اس ہڈی کو توڑنے لگا۔ سستو کا قبیلہ ندی سے خوب گول گول پتھر لے کر آتا اور ان سے ہڈیاں توڑتا تھا۔ مگر یہ ہڈی بہت ہی مضبوط تھی، ٹوٹ ہی نہیں رہی تھی۔ سستو نے زور زور سے پتھر اٹھا کر ہڈی کو مارنا شروع کیا لیکن اس کی ساری توجہ کچھ دور کھیلتے خرگوشوں پر مرکوز تھی۔ خرگوشوں کو دیکھتے دیکھتے اس نے زور سے ہڈی پر پتھر مارا لیکن پتھر اسے لگنے کی بجائے نیچے چٹانی فرش سے ٹکرایا اور اس کا ایک سرا ٹوٹ گیا اور اس طرف نوک سی بن گئی۔

یہ بھی پڑھیں: -   پچیسویں پارے کا خلاصہ

”ہت تیرے کی، اب یہ پتھر ضائع ہو گیا ہے۔ مجھے ماں سے نیا گول پتھر لینے اتنی دور جانا پڑے گا“ سستو نے پچاس گز دور بیٹھی اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔ ”اب اتنی دور کون پیدل چل کر جائے۔ اسی ٹوٹے ہوئے پتھر سے کام چلانے کی کوشش کرتا ہوں۔“ یہ سوچ کر سستو نے پتھر دوبارہ اٹھا لیا۔ اس نے تیز نوکیلا حصہ اپنی ہتھیلی کی طرف کیا اور گول حصے سے زور سے ہڈی پر ضرب لگائی۔ ”اف“ ، ایک دل دوز چیخ اس کے حلق سے نکلی لیکن اس کی خوش قسمتی کہ اس کی ماں نے اس کی آواز نہیں سنی ورنہ وہ آ کر سستو کے پائے بنا دیتی۔

”ہمم، یہ نوک والا حصہ تو میرا ہاتھ توڑ دے گا۔ گول والی طرف سے پتھر پکڑ کر ہڈی کو مارتا ہوں، اس طرح میرے ہاتھ پر چوٹ نہیں لگے گی“ ۔ سستو نے یہ سوچ کر گول حصہ اپنی ہتھیلی کی طرف کیا اور بے دلی سے پتھر کا نوکیلا حصہ ہڈی پر مارا۔ یہ کیا؟ نوکیلے حصے نے تو بہت کم قوت سے ہڈی توڑ دی تھی۔ سستو بہت خوش ہوا۔ اس طرح تو وہ بہت جلد بھینس کے چاروں پائے بنا کر دوبارہ آرام کر سکتا تھا۔ آدھے گھنٹے کے اندر اندر اس نے چاروں پایوں سے گودا نکال لیا اور ایک پتے پر رکھ کر اپنی ماں کو دینے چلا۔

homo-hablis-stone-tool

مدر سستو چھے سات پائے سامنے رکھے بیٹھی تھی اور ابھی پہلے پائے سے ہی گودا نہیں نکال پائی تھی۔ اس نے سستو کو آتے دیکھا تو اسے زور سے ڈانٹا ”کاہل کہیں کے۔ کبھی دل لگا کر کام مت کرنا۔ چار گھنٹے بیٹھ کر چار پائے نہیں بنا سکتے۔ پھر دوڑ لیے“ ۔

یہ بھی پڑھیں: -   آٹھواں عجوبہ

سستو نے اس کے آگے گودے والا پتہ رکھ دیا تو وہ حیران رہ گئی۔ ”تم نے اتنی جلدی چاروں پایوں سے گودا کیسے نکال لیا؟“ مدر سستو نے پوچھا۔

سستو نے نہایت سنجیدگی سے کہا ”میں بہت عقلمند ہوں۔ میں نے ایک نیا پتھر ایجاد کیا ہے جس سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے“ ۔

مدر سستو نے اس کے ساتھ جا کر پتھر دیکھا اور اسے اٹھا لائی۔ ”اس خراب پتھر کا کیا فائدہ ہے؟ کسی چیز کو حفاظت سے رکھنا تو حرام ہے۔ اچھا بھلا پتھر توڑ دیا اور کہتے ہو کہ تم نے نیا پتھر ایجاد کیا ہے“ اس نے پتھر کا نوکیلا حصہ اپنی ہتھیلی کی طرف کیا اور زور سے پائے پر ضرب لگائی۔ ”افففف“ جتنے زور سے ضرب لگائی تھی اتنے ہی زور سے وہ چیخی۔

”اس کی نوک ہڈی پر مارنی ہوتی ہے، میں نے اسے ایسے ایجاد کیا ہے۔“ سستو نے اسے مطلع کیا۔

مدر سستو کو یقین تو نہیں آیا مگر اس نے جب نوکیلا حصہ ہڈی پر مارا تو وہ آسانی سے ٹوٹ گئی۔ اس نے کھٹا کھٹ سارے پائے بنا دیے اور لے کر پدر سستو کے پاس گئی۔ پدر سستو اتنی جلدی کھانا تیار ہوتے دیکھ کر حیران رہ گیا۔

رش دیکھ کر باقی ہومو ہیبلس بھی پاس جمع ہو گئے اور سستو کی ایجاد کو حیرت سے آزمانے لگے۔ انہوں نے سستو کی بہت منت خوشامد کر کے نوکیلا پتھر بنانے کا طریقہ سیکھا اور پھر رفتہ رفتہ اس پتھر سے نہ صرف ہڈیوں سے گودا نکالنے لگے، بلکہ سخت زمین کھود کر جڑیں نکالنے اور درختوں کی شاخیں بھی توڑنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں: -   خوش ’’آم‘‘ دید!

یوں سست آدمی کی وجہ سے انسانیت نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کیا جس نے رفتہ رفتہ اتنی زیادہ ترقی کی کہ اب ہم نے ہڈی سے گودا نکالنا ہو تو بازار سے جا کر ہڈی بنوا لاتے ہیں۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں