Khursheed Nadeem 30

کالم نگار اور قاری کا رشتہ

کالم نگار اور قاری کا باہمی رشتہ کیا ہے؟
اپنے ہر کالم پر قارئین کے تبصرے پڑھ کر، یہ سوال بن بلائے مہمان کی طرح سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اس لیے میں اس کے جواب کی تلاش میں رہتا ہوں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اب تک میں جو جواب ڈھونڈ سکا، اس پر بات کرنے سے پہلے، بطور کالم نگار، میں اپنے تجربات کا ایک حاصل آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ بطور قاری، آپ اس عمل کا حصہ ہیں، اس لیے اس پر آپ کو بھی غور کرنا چاہیے۔ میرے اس تجربے کے دوپہلو ہیں۔
ایک یہ کہ کالم کی ہیئت کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔ ادب میں غزل، نظم، قطعہ، رباعی، افسانہ، ناول، رپورتاژ جیسی اصناف کی ایک متعین تعریف ہے۔ صحافت کی درسی کتب میں ہمیں خبر، سرخی، متن، رپورٹ وغیرہ کی تعریف مل جاتی ہیں۔ کالم کی تعریف کے باب میں، ہنوز کوئی متعین بات نہیں کہی جا سکی۔ اس کا سبب ارتقا ہے۔ اردو کالم گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنفِ تحریر ہے۔ یہ کالم نگار کا شخصی تاثر یاتجربہ ہوسکتا ہے اوراس کے ساتھ اس میں تجزے کے اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ وعظ و نصیحت ہے اور پروپیگنڈا بھی۔ اسلوب بھی ہے اور نفسِ مضمون بھی۔
کالم کی صورت گری میں، کالم نگار کا پس منظر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کالم لکھنے سے پہلے وہ عملی صحافی تھا یا سماجی علوم کا کوئی طالبعلم۔ استاد تھا یا کوئی ادیب۔ شاعر تھایا نثر نگار۔ دین کا سکالر تھا یا سیاستدان۔ کسی عالم کے ہاتھ میں ادیب کا قلم ہو تو یہ نورٌ علیٰ نورہے۔ پھر کوئی ابوالکلام، ابوالاعلیٰ یا پھر چراغ حسن حسرت بنتا ہے۔ اس میں بھی مراتب ہیں، کالم نگار کے علمی مرتبے کے لحاظ سے۔
دوسرا یہ کہ ایک لکھاری، کالم کیوں لکھتا ہے؟ میرے نزدیک اس کے تین بنیادی اسباب ہیں۔ وہ شخصی تجربات میں دوسروں کو شریک کرنا چاہتا ہے۔ کسی واقعے یا سیاسی حالات کا تجزیہ کرنا چاہتا ہے یا پھر ایک مربوط نظامِ فکر کا حامل ہے اورچاہتا ہے کہ عوام کے سیاسی وسماجی خیالات اسی میں ڈھل جائیں۔ اگر اس کا تعلق پہلے طبقے سے ہے تو وہ ہلکے پھلکے انداز میں کوئی شخصی تجربہ یا کسی سیاسی یا سماجی مسئلے پراپنی سوچ بیان کر دے گا۔ ایسے کالموں میں اظہارِ ذات کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔ یوں اس میں اسلوب اہم ہوتا ہے۔
اگر اس کا تعلق دوسرے طبقے سے ہے تو اس کی دلچسپی کا مرکز روزمرہ کے سیاسی واقعات ہوں گے۔ حکومتوں کا بننا بگڑنا، اقتدار کے ایوانوں کی سازشیں، کرپشن کے جھوٹے سچے واقعات پر اس کی زیادہ نظر ہو گی اوروہ انہی سے اپنے کالم کیلئے مواد جمع کرے گا۔ اس طرز کے اکثر کالم نگار وہ ہیں جوعملی صحافت سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ سیاسی کرداروں سے مسلسل رابطے میں ہوتے ہیں اور ‘اندرکی خبر‘ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے کالموں کی کشش دراصل یہی اندر کی خبر ہوتی ہے۔
کالم نگاروں کا تیسرا طبقہ وہ ہے جو اپنا ایک نظامِ فکر رکھتا ہے اور سیاسی وسماجی واقعات کو ایک وسیع تر نظری دائرے میں دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک کوئی واقعہ منفرد نہیں ہوتا۔ وہ ایک سلسلۂ واقعات کی کڑی اور ایک خاص تاریخی عمل (pattern) کے تابع ہوتا ہے۔ یہ کالم نگار سیاسی و سماجی واقعات کا تجزیہ اپنے نظامِ فکر کی روشنی میں کرتا اور قاری کو ایک خاص نتیجے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ طبقہ وہ ہے جوسماجی علوم کا پس منظررکھتا ہے۔ وہ سماج کو ایک خاص زاویہ نظر سے دیکھتا اور یہ چاہتا ہے کہ اس کے مطابق سماجی و سیاسی اداروں کی تشکیل ہو (کالم کے نام پر اور بھی بہت کچھ چھپتا ہے لیکن اس وقت یہ میرا موضوع نہیں)۔
اب دوسری طرف آئیے۔ قارئین بھی کئی طبقات میں منقسم ہیں۔ سب سے بڑا طبقہ وہ ہے جس کی دلچسپی روزمرہ سیاست سے ہے۔ وہ اندر کی خبر جاننا چاہتا ہے۔ اسے کسی نظامِ فکر سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے اور نہ اسلوب سے۔ اسے کرپشن کے قصے زیادہ دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ اسے حکومتی ایوانوں میں جنم لینے والی سازشوں سے دلچسپی ہوتی ہے۔ مقبول کالم نگار وہی ہوتا ہے جو عوام کے اس طبقے کیلئے لکھتا ہے۔ مقبولیت ہر کالم نگار کی خواہش ہوتی ہے اور یوں اکثر لکھنے والے مشقِ سخن کیلئے ایسے موضوعات ہی کا انتخاب کرتے ہیں۔ تیسرے طبقے کے کالم نگار بھی، بادلِ نخواستہ کوچۂ سیاست کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
قارئین کو میں ایک دوسرے زاویے سے بھی طبقات میں تقسیم کرتا ہوں۔ بہت سے پڑھنے والے وہ ہیں جن کے سیاست، سماج اور مذہب کے بارے میں طے شدہ خیالات ہیں۔ وہ ان لکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں جو نظریاتی طور پر ان کے خیالات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ وہ ایسے لکھاریوں کی اصابتِ رائے اور دیانت پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے خیالات کے برخلاف رائے رکھتا ہے تو اس کی بصیرت اور دیانت، دونوں ان کی نظر میں مشتبہ ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی دوسرے کے دلائل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
پڑھنے والوں کا بڑا طبقہ فکری اعتبار سے سہل انگار ہوتا ہے۔ اسے سطحی تجزیے اور سادہ حل اچھے لگتے ہیں۔ اگر کوئی متنوع اور پیچیدہ مسائل کو سادہ بنا کر کسی ایک مسئلے کے طور پر بیان کر دے اور اس کا بہت سادہ حل تجویز کر دے توانہیں لگتا ہے کہ لکھنے والا کوئی بڑا دانشور ہے اور دیانت کا پیکر بھی۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ ایسے قارئین اس طبقے میں زیادہ ہے جو جدید مفہوم میں پڑھا لکھا ہے۔ عام طور پر یہ آئی ٹی جیسے جدید علوم میں سند یافتہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں نجی طور پر کسی بڑے اقتصادی بحران کا سامنا نہیں ہوتا۔ مذہب، تاریخ اورعالمی سیاست کا بھی سرسری علم ہوتا ہے جو سنی سنائی باتوں، مقبول ٹی وی پروگراموں اور اخبارات کے جزوی مطالعے سے ماخوذ ہوتا ہے۔ ان کی یہ نیم خواندگی، انہیں سادہ حل کی طرف متوجہ کرتی ہے اور وہ اسے درست سمجھتے ہیں۔
مثال کے طور پر یہ کہتے سنائی دیں گے: ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اسلام سے دوری ہے۔ آج ہم صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں، سب مسائل حل ہو جائیں گے یا ہمارا ایک ہی مسئلہ ہے: سیاست دانوں کی کرپشن۔ چند بڑے بڑے سیاست دانوں کی کھال کھینچ کر لوٹی ہوئی دولت نکلوا لیں، ملک کے سب مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بیرونِ ملک مقیم قارئین کی ایک بڑی تعداد اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔
کالم نگار اور قارئین، اسی طرح طبقات میں منقسم رہیں گے۔ معاشرہ کبھی یک رنگ نہیں ہو سکتا۔ تنوع صلاحیتوں میں ہوگا اورپس منظر میں بھی۔ میری خواہش ہے کہ کالم نگار اور قاری کا باہمی رشتہ دلیل کی بنیاد پر قائم ہو۔ میں بطور کالم نگار ایسے قارئین کی تلاش میں رہتا ہوں جو میری کسی بات کو قبول کریں تو دلیل کی بنیاد پر اور رد کریں تو کسی دلیل کی بنیاد پر۔ اگر کالم نگار اور قاری کے درمیان تعلق اس بنیاد پر استوارہو جائے تو دونوں سماج کے فکری ارتقا میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لکھنے والے قارئین کے تبصروں کی روشنی میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کرتا رہے اور پڑھنے والا بھی رد و قبولیت کا فیصلہ کسی دلیل کی بنیاد پر کرے تو سماج کی شعوری سطح بلند ہو سکتی ہے۔
اس فارمولے کا زیادہ تر اطلاق کالم نگاروں کے تیسرے طبقے اور ان کے قارئیں پر ہوتا ہے تاہم اگر یہ بات بطور اصول مستحکم ہو جائے تو سب طبقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   دوسرے پارے کا خلاصہ
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں