Khursheed Nadeem 47

14فروری کو میں نے کیا دیکھا؟

یہ 14فروری کا قصہ ہے۔ یہ وہی دن ہے جو بعض کے نزدیک اظہارِ محبت کیلئے خاص ہے اور بعض کے خیال میں یومِ حیا ہے۔
محبت اور حیا، کیا متصادم الفاظ ہیں؟ جہاں محبت ہو، کیا وہاں حیا نہیں ہوتی؟ حیا اوراحترام سے محروم رشتہ، کیا محبت قراردیا جا سکتا ہے؟ محبت ہو جائے توکیا اس کا اظہار ممنوع ہے؟ اظہار کے اسالیب کو، کیا تہذیبی روایات کا پابند ہونا چاہیے؟ یہ سوالات اہم ہیں لیکن اس وقت میرا موضوع نہیں۔ میں توآپ سے اپنے ایک مشاہدے کا ذکر کرنے چلا ہوں۔ وہ مشاہدہ جو مجھے امسال 14 فروری کو ہوا۔
یہ عصر کا وقت تھا جب میں شام کی سیر کو نکلا۔ میں ایک پارک کی طرف چلا جو میرے گھر سے زیادہ دور نہیں۔ دھوپ مدہم ہو چلی تھی جب میں پارک کے گیٹ پر پہنچا۔ پارک کے داخلی دروازے کے سامنے، دس پندرہ نوجوان مختلف بینر لیے کھڑے تھے۔ قریب پہنچ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک مذہبی جماعت کے کارکن ہیں جو ویلنٹائن دن کے بارے میں عامۃ الناس کو بتا رہے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیمات سے متصادم تصور ہے۔ بینروں پر سماجی پیغامات درج تھے جیسے: ‘یہ دل کا نہیں، دین کا معاملہ ہے‘۔ ساتھ ہی ایک کھلی گاڑی پرسوار ایک صاحب لاؤڈ سپیکر کی مدد سے اپنی بات کا ابلاغ کررہے تھے۔
یہ سب قطار بناکر مہذب انداز میں، راستے کے ایک طرف اس طرح کھڑے تھے کہ لوگوں کی آمدورفت میں کوئی خلل واقع نہیں ہورہا تھا۔ جوان کی بات سننا چاہتا، رک جاتا۔ جو نہ سننا چاہتا پاس سے گزر جاتا۔ میں بھی چند منٹ کھڑا رہا۔ بتانے والا بتارہا تھا کہ ویلنٹائن ڈے منانا بے حیائی کا کام ہے اور ہمیں اس سے گریز کرنا چاہیے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک دوسرے سے دور رہنا چاہیے۔
چند لمحات ان کے ساتھ گزارنے کے بعد، میں پارک میں داخل ہوا اور واکنگ ٹریک پر قدم رکھ دیے۔ یہ ٹریک پارک کا حصار کیے ہوئے ہے۔ میں نے دائیں طرف سے چلنا شروع کیا تو پارک میرے بائیں طرف تھا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے لڑکے اور لڑکیاں، کہیں جوڑوں اور کہیں ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہیں۔ ہنس کھیل رہے ہیں اور ساتھ کچھ کھا پی رہے ہیں۔ ایک جوڑا درختوں کی اوٹ میں بیٹھا تھا۔ میری نظر پڑی تودیکھا‘ لڑکی کسی بات پر مسکرا رہی تھی۔ اس کے چہرے پرسرخی تھی جسے شاعر لوگ حیا کی لالی کہتے ہیں۔ میں نے ایک لمحے کو یہ خیال کیاکہ اگریہ محبت کرنے والا کوئی جوڑا ہے تو یہ سرخی حیاکی نہیں ہو سکتی۔ میں نے کچھ دیر پہلے یہی سنا تھا۔ یہ سب اُس بات سے بے خبر تھے جو باہر کہی جارہی تھی۔ میں لیکن کسی غوروفکر کیلئے نہیں، واک کیلئے آیاتھا‘ اس لیے اس سوچ کو جھٹک کرآگے بڑھ گیا۔
چندہی قدم چلا ہوں گا کہ میں نے ایک اور منظر دیکھا۔ سٹریچر نما کچھ بستر بچھے تھے جن پر چند نوجوان لیٹے ہوئے تھے۔ یہ کسی سماجی تنظیم کا کیمپ تھا جو مستحق مریضوں کیلئے خون جمع کر رہی تھی اورنوجوان رضاکارانہ طورپر خون کا عطیہ دے رہے تھے۔ مجھے یہ نوجوان اچھے لگے اور دل سے ان کی سلامتی کیلئے دعا نکلی۔ سوچا‘ کیا اچھے لوگ ہیں جو دوسروں کیلئے ایثار کرتے ہیں۔ میں نے یہاں بھی سوچ کے اس عمل کو آگے نہیں بڑھنے دیاکہ اس طرف آنے کااصل مقصد توسیر تھی اور میں اسی پر اپنی توجہ مرتکز رکھنا چاہتا تھا۔ سیر لیکن آنکھیں بند کرکے نہیں ہوسکتی۔ کچھ آگے گیا تو تین چارسال کے بچوں کو دیکھا جو کھکھلاتے ہوئے بھاگ رہے تھے اور ان کے پیچھے ان کی برقع پوش مائیں دوڑ رہی تھیں کہ کہیں گر نہ جائیں۔ ممتا اور بچپن کو ایک ساتھ دیکھا تودل نے چاہا کہ دیکھتا ہی رہوں۔
ایک جگہ چند نوجوان بیڈ منٹن کھیل رہے تھے اور دوسری جگہ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ پھرخاندان تھے اور دوست یار ارد گرد سے بے خبر، ایک دوسرے میں گم۔ انہیں دیکھ کر طبیعت کھل اٹھی۔ ایک ان دیکھی خوشی جیسے چپکے سے آکر لپٹ جائے۔ اگلا موڑ مڑا تو بچوں کی پُرجوش چیخ و پکار سنی۔ ایک خوف کی آواز جو دراصل خوف نہ تھا۔ اس سمت دیکھا تو پتا چلا کہ بہت سے بچے، لڑکے بالے ایک اڑن کھٹولے پر سوار ہیں‘ جسے رولر کوسٹر (Roller Coaster) کہتے ہیں۔ وہ انہیں لے کر ہوا میں قلابازی لگاتا تو سب چیخ اٹھتے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ گرنے والے نہیں۔ یہ چیخ جو بظاہر خوف سے اٹھی تھی، دراصل جوش سے معمور تھی۔
اس پارک کے ایک حصے میں ‘ای ریسرچ لائبریری‘ ہے۔ میں یہاں پہلے بھی آچکا ہوں۔ ایک چھوٹے سے آڈیٹوریم کے ساتھ یہ ایک خوبصورت برقی کتب خانہ ہے جہاں نوجوان کمپیوٹر سکرینوں کے سامنے پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں اس کے قریب پہنچا تو اس کے اندر کے منظر کو چشمِ تصور سے دیکھنے لگا۔ لائبریری کے سامنے لان میں نماز کیلئے صفیں بچھی تھیں۔ لوگ نماز پڑھ رہے تھے جن میں اکثر خوبصورت داڑھی والے نوجوان تھے۔ مجھے بھی ان کے ساتھ نمازِ عصرکی ادائیگی کا موقع ملا۔ ایک کھلی فضا میں اپنے پروردگار کو یاد کرنا اور اس کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا ایک شاندار تجربہ ہے۔
ایک جگہ نوجوان دائرہ بنائے بیٹھے تھے۔ ایک گا رہا تھا اور دوسرے فراخ دلی سے داد دے رہے تھے۔ ایسے نوجوان بھی تھے جو ان مناظر سے بے نیاز اپنی کتابوں میں گم تھے۔ کبھی ادھر ادھر جھانک لیتے مگر ان کی نظر کسی منظر سے کوئی اثر لیے بغیر لوٹ جاتی۔ میں ان مناظر میں، آج کچھ اس طرح کھویا کہ وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا۔ گھڑی دیکھی تو اس نے بتایا کہ جتنے وقت میں، میں اس پارک کے تین چکر مکمل کر لیتا تھا، آج بمشکل ایک ہی پورا کر سکا۔ مغرب ہونے کو تھی اور میں چاہتا تھا کہ سورج غروب ہونے کے ساتھ میں بھی اُن پرندوں کی طرح اپنے گھونسلے تک پہنچ جاؤں جو آسمان کی وسعتوں میں محوِ پرواز، جھنڈ در جھنڈ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
میں اس پارک میں پہلی بار نہیں آیا تھا لیکن آج سے پہلے اس تنوع پر کبھی اس طرح سے غور نہیں کیا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ رنگا رنگی ہی ز ندگی کا اصل حسن ہے۔ اگر اس معاشرے میں مصلحین نہ ہوں جو لوگوں کو حیا جیسی اقدار کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو انسانی جذبات بے لگام ہو جائیں۔ اگر محبت کرنے والے نہ ہوں تو سماج لطیف احساسات سے خالی ہو جائے۔ کوئی شاعری ہو نہ موسیقی۔ اور اگر پیارے پیارے بچے اور ان کے پیچھے دوڑتی مائیں نہ ہوں تو انسان معصومیت کو کیسے مجسم دیکھے۔
میں پارک سے باہر نکلا تو چند سوالات میرے سامنے تھے: ہم کیسا سماج چاہتے ہیں: یک رنگ یا رنگا رنگ؟ کیا یہاں کوئی مصلح نہ ہو؟ کوئی اظہارِ محبت کرنے والا نہ ہو؟ انسانی رشتوں کا بے لوث اظہار نہ ہو؟ موسیقی، مصوری اور شاعری نہ ہو؟ مسجد اور مندر نہ ہوں؟ سینما اور تھیٹر نہ ہوں؟ جو رنگ، میں نے آج دیکھے، اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو کیا زندگی پھر بھی اسی طرح خوب صورت ہو؟ اگر یہ سب ضروری ہیں تو مختلف رنگوں کے علم بردار ایک دوسرے سے متصادم کیوں؟ حیا اور محبت کو کس نے میدانِ کار زار میں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے؟
کیاکبھی آپ نے بھی اس رنگا رنگی کو محسوس کیا ہے؟ کیا آپ کو بھی ان سوالات کا سامنا ہوا ہے؟ آپ کے جواب کیا ہیں؟ ہمیں کیسا معاشرہ چاہیے؟ بے رنگ، یک رنگ یا رنگا رنگ؟

یہ بھی پڑھیں: -   اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات!
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں