Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 45

اسلام کا تصورِ حیا

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے اور دنیا بھر میں تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے بہت سے معمولات اور تہواروں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس پہلو نے دنیا کے مختلف مقامات پر منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ عہدِ حاضر کا مسلمان عصری علوم اور معلومات کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں بہتر حیثیت میں ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں تک تعلق ہے اپنے دین‘ مذہب اور شریعت کے تقاضوں کو سمجھنے کا ‘تو اس لحاظ سے آج کا مسلمان تنزلی کا شکار ہے۔ دنیا اور آخرت کی سربلندی کو حاصل کرنے کے لیے دین ودنیا میں توازن قائم رکھنا انتہائی ضروری ہے اور عصری معلومات اور علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم میں پختگی بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت دنیا میں جو تہوار منائے جارہے ہیں ان میں سے بعض تہوار اسلامی تہذیب، تمدن اور ثقافت سے کسی بھی طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔ ان تہواروں میں سے ایک تہوار ویلنٹائنز ڈے بھی ہے۔ یہ تہوار بین الاقوامی طور پر بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے اور ہر سال 14 فروری کے موقع پر ایک دوسرے سے اظہارِ محبت اور شناسائی کے لیے لڑکے‘ لڑکیاں ایک دوسرے کو پھول اور مختلف طرح کے تحفے تحائف دیتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد اپنی محبت کا اظہارکرنا ہوتا ہے۔ اس محبت اور وابستگی کے اظہار کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں‘ کئی مرتبہ وہ مذہبی اور اخلاقی حدود سے کلی طور پر تجاوز کرتے نظر آتے ہیں۔ ان حالات میںکتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے تمسک اختیار کرنے کی ضرورت کو بہت زیادہ محسوس کیا جاتا ہے۔
دین اسلام کسی بھی طور پر بے حیائی اور فحاشی کو قبول نہیں کرتا۔ قرآنِ مجید میں بہت سے مقامات پر شرم وحیا کی تلقین کی گئی ہے اور بے حیائی کے راستوں پر چلنے سے مسلمانوں کو سختی سے روکا گیا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32میں ارشاد ہوا: ”اور تم مت قریب جاؤ زنا کے‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور براراستہ ہے‘‘۔ اسی طرح سورہ احزاب میںبھی بہت سے ایسے اقدامات کی طرف اُمت کی رہنمائی کی گئی ہے جن پر عمل پیرا ہو کر فحاشی اور بے حیائی سے بچا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حیا، پاکیزگی اور طہارت سے متعلق جملہ احکامات کو جس شرح وبسط کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نور میں بیان کیا‘ اس کی نظیر کسی دوسرے مقام پر نہیں ملتی۔ جب ہم سورہ نور کے مندرجات پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر سورہ نور میں بیان کردہ احکامات پرسختی سے عمل کر لیا جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے فحاشی، عریانی اور بے حیائی کا نہایت احسن طریقے سے سدباب ہوسکتا ہے۔ سورہ نور میں جو احکامات اللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکدامنی کے فروغ اور فحاشی کے انسداد کے لیے بیان کیے ہیں‘ وہ درج ذیل ہیں:
1۔ نگاہوں کو جھکا کر رکھنا اور پاکدامنی کا تحفظ کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نور میں بڑی وضاحت کے ساتھ مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہ کو جھکا کر رکھنے اور پاکدامنی کے تحفظ کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر 30میں ارشاد فرماتے ہیں: ”مومن مردوں سے کہ دیجئے (کہ) وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہیں اور وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی، یہ زیادہ پاکیزہ ہے ان کے لیے ۔ بے شک اللہ خوب خبردار ہے اس سے جو وہ کرتے ہیں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومن عورتوں کو بھی اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ سورہ نور ہی کی آیت نمبر 31 میں ارشاد ہوا: ”اور کہہ دیجئے مومن عورتوں سے (بھی) (کہ) وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہیں اور وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی‘‘۔
2۔ عورتوں کو اپنی زینت چھپا کر رکھنے کا حکم: مردوں اور عورتوں کو جہاں اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے‘ وہیں عورتوں کو بالخصوص اپنی زیب وزینت کو اپنے محرم رشتہ داروں کے علاوہ باقی لوگوں سے چھپا نے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حکم کو سورہ نور کی آیت نمبر 31 میں بڑے شرح وبسط سے کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ”اور نہ وہ ظاہر کریں اپنی زینت کو مگر جو (خود) ظاہر ہو جائے اس میں سے اور چاہیے کہ وہ ڈالے رکھیں اپنی اوڑھنیوں کو اپنے گریبانوں پر، اور نہ وہ ظاہر کریں اپنی زینت (بناؤ سنگھار) کو مگر اپنے خاوندوں کے لیے یا اپنے باپوں (کے لیے) یا اپنے خاوندوں کے باپوں (کے لیے) یا اپنے بیٹوں (کے لیے) یا اپنے شوہروں کے (دیگر) بیٹوں (کے لیے) یا اپنے بھائیوں (کے لیے) یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں کے لیے) یا اپنی بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں کے لیے) یا اپنی عورتوں (کے لیے) یا (ان کے لیے ) جن کے مالک بنے ان کے دائیںہاتھ (یعنی زر خرید غلاموں کے لیے) یا تابع رہنے والوں (خدمت گار) مردوں میں سے (جو) شہوت والے نہیں (ان کے لیے) یا ان بچوں (کے لیے) جو نہیں واقف ہوئے عورتوں کی چھپی باتوں پر اور نہ وہ مارا کریں اپنے پاؤں (زمین پر) تاکہ جانا جائے جو وہ چھپاتی ہیں اپنی زینت سے‘ اور اے ایمان والو ! تم سب توبہ کرو اللہ کی طرف ‘تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘۔
3۔ کنوارے اور بے نکاح مردوں اور عورتوں کو نکاح کا حکم: سورہ نور میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فحاشی کے انسداد کے لیے جہاں نگاہوں کو جھکانے اور پردہ داری کا حکم دیا‘ وہیں جوان مردوں اور عورتوں کو نکاح کا حکم دیا اور اس بات کو بھی واضح کر دیا کہ نکاح کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ فقیروں کو غنی فرما دے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر32 میں اعلان فرماتے ہیں: ”اور نکاح کرو بے نکاح (مردوں اور عورتوں کا) اپنے میں سے اور (ان کا جو) نیک ہیں تمہارے غلاموں میں سے اور تمہاری لونڈیوں (میں سے) اگر وہ ہوں گے محتاج (تو) غنی کر دے گا اُنہیں اللہ اپنے فضل سے‘‘۔
4۔ برائی کی صورت میں سو (100) کوڑوں اور رجم کی سزا کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے فحاشی کے انسداد کے لیے سورہ نور میں زنا کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورتوں کو 100 کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے۔ سورہ نور کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ہوا: ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ‘پس کوڑے مارو ان دونوں میں سے ہر ایک کو 100کوڑے۔ اور نہ پکڑے تمہیں ان دونوں سے متعلق نرمی‘‘۔ احادیث مبارکہ میں اس فعل شنیع کا ارتکاب کرنے والے شادی شدہ مرد اور عورت کے لیے رجم کی سزا کو مقرر کیا گیا ہے۔
5۔ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے کی سزا: فحاشی کے انسداد کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نور میں پاکدامن عورتوں پر فحاشی اور برائی کا الزام لگانے والوں کے لیے کڑی سزا کا حکم دیا ہے۔ سورہ نور کی آیت نمبر 4 میں ارشاد ہوا: ”اور وہ لوگ جو تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر پھر نہ لائیں چار گواہوں کو‘ تو کوڑے مارو اُنہیں اَسّی کوڑے اور نہ قبول کرو ان کی گواہی کو کبھی بھی‘‘۔
6۔ ممنوعہ اوقات میں گھریلو ملازمین اور بچوں کے رہائشی کمروں میں داخلے کی ممانعت: فحاشی اور برائی کو روکنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نور میں ممنوعہ اوقات یعنی عشا کی نماز کے بعد، فجر کی نماز سے پہلے اور ظہر کی نماز کے بعد رہائشی کمروں میں بچوں اور گھریلو ملازموں کو بغیر اجازت داخل ہونے سے منع کیا ہے اور باقی اوقات میں ان کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر 58میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! چاہیے کہ اجازت طلب کریں تم سے وہ لوگ جن کے مالک بنے تمہارے دائیں ہاتھ اور وہ لوگ (بھی) جو نہ پہنچے ہوں بلوغت کو تم میں سے‘ تین مرتبہ (یعنی تین اوقات میں) فجر کی نماز سے پہلے، اور جب تم اتار دیتے ہو اپنے کپڑے دوپہر کو اور عشا کی نماز کے بعد (یہ) تینوں پردے (خلوت) کے اوقات ہیں تمہارے لیے‘ نہیں تم پر اور نہ ان پر کوئی گناہ ان کے بعد (یعنی ان اوقات کے علاوہ) (کہ کام کاج کے لیے) بکثرت پھرنے (یعنی آنے جانے) والے ہیں ایک دوسرے کے پاس‘‘۔
7۔ بلااجازت کسی کے گھر میں داخلے کی ممانعت: اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نور میں بلااجازت کسی کے گھر میں داخلے کی ممانعت کا حکم دیا ہے۔ اگر انسان کو پلٹ جانے کا کہا جائے تو اسے پلٹ جانا چاہیے؛ تاہم بے آباد گھروں اور ایسے گھروں میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے جہاں پر انسان کا سازو سامان موجود ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیات 27 تا 28 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہوا کرو (دوسرے ) گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ۔ یہاں تک کہ تم انس حاصل کر لو (یعنی اجازت لے لو) اور سلام کر لو ان کے رہنے والوں کو‘ یہی بہتر ہے تمہارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پھر اگر تم نہ پاؤ ان میں سے کسی ایک کو تو تم نہ داخل ہو ان میں یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جایا کرو‘ وہ زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے لیے‘‘۔
اگر سورہ نور میں مذکور ان نصیحتوں پر عمل کر لیا جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کر م سے فحاشی اور بے حیائی کا انسداد ہو سکتا ہے اور معاشرہ طاہر اور پاک‘ صاف سماج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ان احکامات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک صاف ستھرے اور صحت مند معاشرے کی شکل اختیار کر سکے اور ہمیں ان رسوم ورواج سے اجتناب کرنے کی توفیق دے جن کا ہمارے دین، ثقافت اور تہذیب سے کوئی واسطہ نہیں ہے، آمین !

یہ بھی پڑھیں: -   انصاف کی شریان اور سازش کی بدرو
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں