Columns of Ansar Abbasi 38

ان شاء ﷲ جنت میں ملاقات ہوگی

ایک روز قبل (ہفتہ 12فروری) صبح اُٹھا تو سب سے پہلے ایک نہایت افسردہ کرنے والی خبر ملی کہ میرے بچپن کے دوست خواجہ اعجاز کا انتقال ہو گیا ہے۔ خواجہ صاحب سے بہت پرانا یارانہ تھا، ایک ساتھ بہت اچھا وقت گزارا، خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے شریک رہے۔ خواجہ صاحب بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے لیکن اپنے والد صاحب کے فوت ہونے پر اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے اور کاروبار سنبھال لیا۔ اپنے بڑے بہن بھائیوں کی تعلیم مکمل کروائی ،اُن کی شادیاں کیں۔ شروع سے ہی ایک محنت اور جدوجہد والی زندگی گزاری جس میں عزیز رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ دوستوں اورہر جاننے والے کو جہاں ضرورت پڑی، اُن کی مدد کی، دوسروں کے کام کے لیے ہمہ وقت حاضر رہتے اور میرے ساتھ دوستی کی وجہ اور اس سے بھی زیادہ میرے نکمے پن کی وجہ سے نجانے میرے بھی کتنے کام خواجہ صاحب کو ہی کرنے پڑے۔ اپنی والدہ مرحومہ اور بڑی ڈاکٹر بہن کے ساتھ حج پر گئے تو گروپ میں میرے بڑے بھائی مرحوم، میرے بہنوئی مرحوم، میری بہن اور بھابھی سب شامل تھے اور وہاں بھی سب کی خدمت خواجہ صاحب ہی کرتے رہے۔ کئی برسوں سے بیمار تھے اور اسی بیماری میں اللہ کے حضور پیش ہو گئے اور سب کو اداس کر گئے۔ کیا بہترین زندگی گزاری، اپنے لیے نہیں بلکہ دوسرے کے لیے جیے۔ کیسا خوش قسمت انسان ہے وہ جس کے جانے کے بعد سب یہ سوچتے ہوں کہ اُن کا محسن چلا گیا۔ اللہ تعالی خواجہ صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے،آمین۔ سارا دن وہیں مصروف رہا تو معلوم ہوا کہ جیو کے سینئر صحافی ارشاد بھٹی صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ بھٹی صاحب کی اہلیہ کچھ عرصہ سے بیمار تھیں ۔ چند ہفتہ قبل مجھے بھٹی صاحب نے بتایا تھا کہ اُن کی اہلیہ اب بہتر ہیں اور ہسپتال سے گھر شفٹ ہوچکی ہیں لیکن پھر پتا چلا کہ وہ پھر سے بیمار ہو گئی تھیں اور اب اللہ کو پیاری ہو گئیں۔نماز جنازہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ بھٹی صاحب کی اہلیہ ایک اسلامی ذہن رکھنے والی خاتون تھیں اور وہ ضرورت مندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ دین کی خدمت کے کام بھی کرتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی مرحومہ اہلیہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین۔ نماز جنازہ میں مجھے سلیم صافی صاحب ملے، وہ بھی بھٹی صاحب کی مرحومہ اہلیہ کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ بھٹی صاحب اپنی زندگی کے بہترین ساتھی سے محروم ہوگئے لیکن اس سے بھی بڑا امتحان یہ ہے کہ اُن کے بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ کل کے ہی دن ہمارے دو اور جاننے والوں کا انتقال ہوا لیکن وہاں میرے لیے جانا ممکن نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   سب ’’مایا‘‘ ہے

موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ جو اس دنیا میں آیا ہے، اُس نے ہر حال میں مرنا ہے اور اپنے رب کے سامنے حاضرہونا ہے۔ آج اگر ہمارے دوست، ہمارے قریبی عزیز ہم سے جدا ہو رہے ہیں تو کل ہماری باری بھی آنی ہے۔ کوئی کچھ بھی کر لے، موت سے بچنا ممکن نہیں۔ اس لیے ہمیں بھی اپنے لیے اسلام کی زندگی اور ایمان کی موت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ہدایت مانگیں اورکوشش کریں زندگی میں کچھ ایسا کر لیں جو آخرت سنورنے کا سبب بن جائے۔ میں تو دعا کرتا ہوں کہ بس میرا رب مجھ جیسے گناہگار کو اُس وقت دنیا سے اُٹھا لے جب میرے نامۂ اعمال میں کچھ ایسا ہو کہ میں حشر کے دن، شرمندگی سے بچ جائوں۔ میرے مرحوم ماموں حاجی غلام قادر جن کا انتقال کوئی دو سال قبل ہوا۔ وہ بیمار تھے اور اُن کی تیمار داری کے لیے جانے میںجب بھی میرا وقفہ بڑھ جاتا تو مجھے پیغام بھیجا کرتے کہ انصار عباسی سے کہنا کہ اگر آنے میں دیر کر دی تو پھر ان شاء اللہ جنت میں ملاقات ہو گی۔ اُنہوں نے جو بات کی مجھے بہت اچھی لگی۔ یہ وہ دعا تھی جو ہم سب کو کرنی چاہیے ۔ دعا کریں ہم سب کی اپنے بچھڑنے والے عزیز و اقارب اور دوستوں سے جنت میں ملاقات ہو، آمین۔

Columns of Ansar Abbasi
انصار عباسی

کس سے منصفی چاہیں

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

یہ بھی پڑھیں: -   نمک حرام ولندیزیوں کی عیاری اور کنٹینر میں منشیات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں