Columns of Saadullah jaan barq 36

نوے دن میں کرپشن فری

اس وقت ہمیں سخت غصہ آرہا ہے بلکہ آیا ہوا ہے اوراس غصے پر مزید غصے والی بات یہ ہے کہ ہم یہ غصہ نکال بھی نہیں پارہے ہیں کہ جن پرغصہ آرہاہے وہ ہاتھ نہیں آرہے ہیں، وہ تو وہ ان کی کوئی نشانی بھی قرب وجوارمیں نہیں ورنہ ہم چشم گل چشم عرف قہرخداوندی عرف اومیکرون کی طرح اپناجی ہلکاکرلیتے۔

قہرخداوندی کوجب اپنی نعمت عظمیٰ پرغصہ آتاہے اوراتفاق سے وہ میکے بھی گئی ہواورمزید خوش قسمتی سے اسے اس کاکوئی پہناوامل جائے، جوتے ،دوپٹہ کرتا،شلوارکوئی بھی چیزتو وہ اسے زمین پرڈال کراس پر کودنے لگتاہے۔

ڈنڈے مارنے لگتاہے اورگھسیٹنے لگتاہے، ہمیں فی الحال توایک شفافہ نام کی صرافہ پرشدید غصہ آرہاہے جو اپنے آپ کوٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کہتی ہے اس کی ایک اوربہن ’’صافہ‘‘ بھی ہے جواپنے آپ کوایمنسٹی انٹرنیشنل کہتی ہے یہ دونوں یعنی ’’صافہ اورشفافہ‘‘ ہمیشہ ہمارے اندرونی معاملات میں تانک جھانک کرتی رہتی ہیں جب کہ ہم نے ان کویہ اختیارکبھی نہیں دیاہے کہ آکرہمارے گھریلویانجی یااندرونی معاملات میں مداخلت کریں۔

یہ اجازت ہم نے صرف ’’لفافہ‘‘ یعنی آئی ایم ایف کودی ہوئی ہے چوں کہ وہ ہماری غم خوارہے، یارہے، دلدارہے،اس لیے جب جی چاہے جیساجی چاہے ہمارے اندرونی معاملات تک میں جوچاہے کرسکتی ہے،لفافے کے علاوہ کسی بھی صافے شفافے اورصرافے کویہ اجازت ہم نے نہیں دی ہے لیکن… یہ بازنہیں آرہی ہیں اب کے اس شفافہ نے یہ گل کھلایاہے کہ ہم نے کرپشن میں خاصی ترقی کرلی ہے۔ اچھا چلوکرلی ہے توتم کواس سے کیا۔ ہماری مرضی ہے جہاں چاہیں ترقی کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   پانچویں پارے کا خلاصہ

یہ صاف صاف ’’یہود وہنود‘‘ کی سازش لگتی ہے ورنہ ہمارے محترم صادق وامین اعظم کہہ چکے ہیں بلکہ کہتے رہے ہیں اورکہتے رہیں گے کہ کرپشن کوہم نے پہلے ہی نوے دنوں میں نکال باہرکیا ہوا ہے اور وہ اب لندن میں ہیں اوریوں پاکستان میں کرپشن کانام ونشان تک باقی نہیں رہا ہے اس کی جگہ انصاف اورصرف انصاف چل رہاہے، انصاف کے معنی کسی عربی لغت میں دیکھ سکتے ہیں یاکسی عربی جاننے والے عالم سے پوچھ سکتے ہیں۔

ارے ہاں عالم کے ذکر پر یاد آیا کرپشن کوختم کرنے اوراس کی جگہ انصاف کورائج کرنے میں بھی بعض عالموں نے ہماری مدد کی ہے ایک عالم نے نعرہ لگایا تھا کہ حکومت کونہیں ریاست کوبدل دیں گے اور بدل دیا۔کم ازکم نام کی حد تک اوردورسے باباجی ڈیموں والی اورازخود نوٹس والی سرکارتھی جنھوں نے ریاست کانیانام تجویزکیاتھا۔

چوں کہ دونوں بے غرض، بے لالچ، انتہائی مخلص اورصرف خلق خدا کا درد رکھنے والے تھے اس لیے اپناکام پوراکرکے گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے

ایسے حالات میں یہ صافے اورشفافے بالکل سفید جھوٹ بولتے ہیں بلکہ پاکستان کے سفید دامن پرکالایاکالے دامن پرسفید داغ ڈالنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں، چراغ لے کرملک کے کونے میں ڈھونڈئیے آپ کوکرپشن کانام ونشان تک نہیں ملے گا،ہرہرگوشے گوشے شوشے اورچپے چپے پر انصاف ہی انصاف جلوہ گرنظر آئے گا۔

معلوم نہیں کہ کیا یہ دوسروں کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں ’’کرپشن‘‘کو تو سات سمندر پارپھینکاجاچکاہے ،اب پاکستان میں کسی نسخے کے لیے تھوڑی سی بھی نہیں ملتی ہے۔ ہم نے خود پتہ کیاہے کسی کواگر کسی لمبے نسخے کے لیے تھوڑی کرپشن درکارہو تو افیون کی طرح اڑوس پڑوس سے چھپ چھپاکر لائی جاتی ہے ،مشک و عنبر آسانی سے مل جائے گا لیکن ’’کرپشن‘‘ توسانپ کے پیر،بچھو کی آنکھیں اورچڑیاکادودھ ہوگئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   بے راہ روی کا انسداد

آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبالے کر

کسی اورکی کیابات کریں خود اپنے اوپرگزری ہے، ہمیں خود تھوڑی سی ’’کرپشن‘‘ کی ضرورت پڑی، بیٹے کوبیروزگاری کاعارضہ لاحق تھا۔

ایک حاذق حکیم نے جونسخہ تجویزکیااس کا جزو اعظم کرپشن تھی،یہاں وہاں پتہ کرنے پرکسی نے ’’عطار‘‘کاپتہ دیاجو سرکاری طورپرمنظورشدہ اور رجسٹرڈ تھا اب توکورونا نے اسے اگلے جہان پہنچادیاہے لیکن ان دنوں بڑامشہورتھا۔

ہم اس کے پاس گئے مدعاعرض کیا تو اس نے کانوں کوہاتھ لگاتے ہوئے کہا کرپشن اوراس دور انصاف میں اوروہ بھی یہاں کی ریاست مدینہ میں؟ہم نے عرض کیاتوٹھیک انصاف ہی عطافرمادیجیے۔ بولا میرا کمیشن اس میں دولاکھ بنتاہے وہ میں نہیں لوں گا باقی کے تئیس لاکھ دے دیجیے تاکہ میں اپنے اپنے مقامات انصاف پر پہنچاکرتمہارے بیٹے کے ’’عارضے‘‘ کانسخہ مکمل کروں۔ ظاہرہے نسخہ ہمارے بس کا نہیں تھا لیکن یونہی بات چیت میں ہم نے ایک بڑے انصاف دارکانام لیتے ہوئے پوچھا اس کاحصہ انصاف کتناہوگا۔ت

وبہ توبہ کرتے ہوئے وہ ہاتھ ہلانے لگا ہاتھ میں پانچ انگلیاں بھی ہل رہی تھیں اب آپ ہی فیصلہ کیجیے جب کرپشن ہے ہی نہیں تو اس میں صافہ شفافہ لوگوں پر نمبرنگ وغیرہ بھی جھوٹ ہی ہے، سچ بات وہی ہے جو ریاست مدینہ کے صادق اعظم نے کہی ہے یعنی کرپشن تو پہلے نوے دن میں ملک بدرکردی گئی ہے اب تو انصاف ہی انصاف ہے صاف شفاف، و اشگاف،ہاف اینڈ ہاف اندر کھاتے۔

سب کچھ ہے ’’کچھ نہیں‘‘ہے یہ حالت بھی خوب ہے
دیوانگی کا نام ’’محبت‘‘ بھی خوب ہے

یہ بھی پڑھیں: -   یوسف سرور خان المعروف دلیپ کمار
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں