Columns of Saadullah jaan barq 40

زبان اور کثرت استعمال

ڈرنے کی ضرورت نہیں، اس وقت ہم آپ کو اس ’’حماقت‘‘ سے بور نہیں کرنا چاہتے جو ہم نے اڑوس پڑوس کے ’’دانا دانشوروں‘‘سے سیکھی ہے، بس تھوڑا سا بور کرنے کے بعد ہم اپنے ڈگر پر آجائیں گے۔

ہم اکثر اپنے کالم میں اس حماقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ ڈارون اور لیمارک کا نظریہ ’’عدم استعمال‘‘اور کثرت استعمال کا بہترین نمونہ ہم خود یعنی’’عوام کالانعام‘‘ہیں کہ حکمران اشرافیہ نے اپنے زردست اور کثرت استعمال اور تیز ترین دماغ سے کام لے کر ہمیں دماغ کے عدم استعمال اور جسم کے کثرت استعمال پرلگارکھا ہے کہ (85)فیصد کالانعام صرف کماؤ، خرچ کرنے کی فکر بالکل نہ کرو، اس کے لیے ہم پندرہ فیصد حکمران ہیں نا۔لیکن آج ہم اس کثرت اور عدم استعمال کا ذکر ایک اور پہلو سے کرنا چاہتے ہیں جو عضو زیادہ استعمال ہوتا ہے، وہ زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے اور ’’زبان‘‘بھی ایک ’’عضو‘‘ہی ہے، ویسے تو زبان نام کی چیزیں دو ہیں ایک زبان وہ جو ’’بولی جاتی‘‘ ہے اور دوسری وہ جس سے’’بولا‘‘جاتاہے یعنی منہ میں دو چھٹانگ گوشت کا ٹکڑا جس نے اس دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ کسی شاعر نے ’’انگور‘‘کے بارے میں کہا ہے کہ

اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے سر پر دنیا
وہ تو اچھا ہے کہ انگور کا بیٹا نہ ہوا

اور یہی بات ہم اسی دو چھٹانگ کے نرم اور چھوٹے سے ٹکڑے کے بارے میں کرنا چاہ رہے ہیں کہ اچھا ہے یہ چھوٹی ہے اگر اس سے زیادہ لمبی ہوتی تو نہ جانے کیا حشر برپا کرتی۔ زبان تو انعام اور کالانعام کے منہ میں بھی ہوتی ہے لیکن’’عدم استعمال‘‘ کی وجہ سے اتنی ناکارہ ہوتی ہے، جتنے ان کے دماغ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ حیوان سے بس تھوڑے سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن وہ جو انسانوں سے بہت اوپر اور خدا سے تھوڑے کم ہوتے تو نہیں ہیں لیکن وہ خود کوسمجھتے ہیں اور مزید کہ کچھ لوگ بھی انھیں بنائے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   سیاسی دیوتا

ان کی زبان کثرت استعمال سے اتنی ’’شارپ‘‘ہوچکی ہوتی ہے کہ روزانہ جھوٹ کے پہاڑ کھڑے بھی کرتے ہیں اور اڑاتے بھی ہیں۔ تقریروں، بیانوں، پریس کانفرنسوں اور یہاں وہاں اتنا استعمال کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

سن کر میرا فسانہ غم اس نے یہ کہا
ہوجائے جھوٹ سچ یہی خوبی زبان کی ہے

پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ’’گیلی زبان ہر طرف مڑتی ہے‘‘اور جن لوگوں کا ہم ذکر کررہے ہیں ان کے منہ میں ’’اقتدار‘‘کے اتنے ’’لیموں اور نارنگی‘‘ نچوڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ زبان اس پانی میں مچھلی کی طرح تیرتی ہے بلکہ اب تو اس’’کام‘‘کے لیے بہت سارے کوالی فائڈ زبان دان، زبان دراز اور ہم زبان پیدا ہوئے ہیں کہ باقاعدہ اپنے خصوصی نام سے یعنی ’’معاون خصوصی‘‘کہلاتے ہیں۔

پیشے کے لحاظ سے وہ کچھ بھی ہوں ڈاکٹر ،انجینئر یا بیرسٹر یا اہل سیف وقلم، ڈھونڈ ڈھونڈ کرلائے اور لانچ کیے جاتے ہیں تاکہ وائٹ کو بلیک اور بلیک کو وائٹ کیا جاسکے۔ دیہات میں جب کسان بازار سے کوئی نیا بیلچہ خریدتے ہیں تو اس کی دھار نہیں ہوتی چنانچہ ہوشیار لوگ وہ بیلچہ کسی ایسے ٹرالی والے کو دے دیتے ہیں جو ’’ریت‘‘ کاکام کرتے ہیں چنانچہ دوچار دن میں ریت کی وجہ سے اس بیلچے کی دھار اتنی شارپ ہوجاتی ہے کہ بال بھی آسانی سے کاٹے جاسکتے ہیں یہی معاملہ ’’زبان‘‘ کا بھی ہے، آپ کسی گونگے کو لیڈر یا معاون خصوصی برائے اطلاعات بنادیجیے، پھر دیکھیے انداز گل افشانی گفتار مثل تلوار کے لہلانے لگے گی۔

ڈارون اور لیمارک نے خواہ مخواہ جنگل، جنگل پھر کر جانوروں اور پرندوں کے اعضا کا مشاہدہ کیا اور پھر اس پر اپنے نظریہ ارتقا کی بنیاد رکھی، اگر وہ صرف لیڈروں کا ہی مشاہدہ کرتے تو ان کے دماغ اور ان کی زبان، نظریہ کثرت استعمال وعدم استعمال کی تائید کے لیے کافی تھے کہ سامنے کی چیزیں ہیں اور خود ہی اپنے آپ دلیل ہیں ۔کہاجاتا ہے کہ دوسرے جہان میں جھوٹوں کو ان کی اپنی ’’زبان‘‘سے لٹکا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   خیر خواہی !

تصور کیجیے تو بڑا خوبصورت اور قابل دید منظر ہوگا۔ قطار در قطار وہ خاص لوگ بلکہ ’’سیلبرٹیاں‘‘لٹکی ہوں گی اور عامتہ الناس ان کا دیدار مفت اور بغیر کسی رکاوٹ کے کریں گے جو یہاں پہرہ داروں اور دیواروں کے پیچھے ناقابل دید رہتے ہیں، صرف ان کے بیان بلکہ ’’ان کی زبان‘‘ اخباروں اور چینلوں میں لپلپاتی ہے۔ایسے اگر ہمیں یہ قابل دید منظر دیکھنے کو ملا تو ایک دوسیلبرٹیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر دیکھیں گے اور دوچار بار ضرور۔لیکن ایک شبہ ہمیں ابھی سے لاحق ہے ان میں کچھ تو ایسے ہوں گے کہ ان کی زبانیں ان کا وزن سہار سکیں گی لیکن جن کا وزن زیادہ ہوگا یعنی ’’اورویٹ‘‘ ہوں گے جو اکثر ایسے لوگ ہوجاتے ہیں تو بچاری زبان ان کا بے پناہ وزن سہار سکے گی یا تڑاخ سے ٹوٹ جائے گی۔

خیر اس کے بارے تو ہم کسی مذہبی رہنما سے پتہ کرلیں گے لیکن ایک اور مسئلے نے دم ہلانا شروع کردی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے یہ ممدوح جو اپنی زبان کو کثرت استعمال سے بے پناہ تیزکرچکے ہیں، ابھی رکے تو نہیں ہیں بلکہ زبان کا استعمال مزید بڑھارہے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی زبان اتنی دراز ہوجائے کہ سارے کالانعاموں کو لپیٹ کر نگل لیں۔ایک مرتبہ ٹی وی پر ہم نے ایک چیونٹی خور جانور دیکھا تھا، کمال کا شکاری تھا کہ تیر نہ تلوار نہ دام نہ جال بلکہ بیٹھے بیٹھے شکار کرلیتاہے، وہ اپنی زبان جو ظاہر ہے کہ کثرت استعمال سے لیڈرانہ ہوگئی تھی، چیونٹیوں کے بل میں کھسا کر بیٹھ جاتا ہے ، چیونٹیاں آکر اس کی زبان سے چمٹ جاتی تھیں لیکن بیچارے۔

یہ بھی پڑھیں: -   پچیسویں پارے کا خلاصہ

شکار کرنے کو آئے شکار ہوکے چلے،جب اچھی خاص جلسہ یا دھرنا برابر چیونٹیاں زبان پر جمع ہوجاتی تھیں تو آرام سے کھینچ کر زبان منہ کے اندر کرلیتا تھا، یہ اور کمال زبان کا۔حیرت ہوتی ہے کہ آخر گوشت کے اس دو چھٹانگ لوتھڑے میں کیا کیا کمالات چھپے ہوئے ہیں۔

ہوجائے جھوٹ سچ یہی خوبی زبان کی ہے،اور وہ لقمان حکیم کا قصہ تو آپ کو یاد ہوگا کہ مالک نے اسے دوبار گوشت لانے کو بھیجا تھا، ایک مرتبہ اچھے سے اچھا گوشت اور دوسری بار برے سے برا گوشت لانے کو۔ اور وہ دونوں مرتبہ ’’زبان‘‘لے کرآیا تھا۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں