adnan-khan-kakar 90

لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کو پونے بارہ مشورے

اب جبکہ رائٹ ونگ کے کچے پکے سے نوجوان لکھاریوں کے لیے ہدایت نامے شائع ہونے لگے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کی راہنمائی بھی کی جائے۔ گو کہ ہم چاہتے تھے کہ لیفٹ ونگ کا کوئی گرگ باراں دیدہ اس طرح کا ہدایت نامہ ترتیب دے، مگر اب دو دن تک انتظار کرنے کے بعد ہمیں احساس ہوا ہے کہ گرگ (بھیڑیا) اور لگڑ بھگا وغیرہ ٹائپ کے شکاری لکھاری فی زمانہ صرف رائٹ ونگ میں پائے جاتے ہیں، سو ناچار ہم نے خود ہی لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کے لیے پونے بارہ پوائنٹ کا یہ ہدایت نامہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہمیں اس بھاری ذمہ داری کا پورا احساس ہے جو ہم نے رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے۔ لیفٹ ونگ سے تعلق رکھنے والے اچھے لکھاری زمانے کے سرد و گرم چشیدہ اور خوب پڑھے لکھے ہوتے ہیں، جو کہ جذبات، توہمات اور خواہشات کی بجائے منطقی انداز میں معاملات کو دیکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی راہنمائی کرنا آسان معاملہ نہیں ہے، لیکن بہرحال، جو بھی بری بھلی سی کوشش کی ہے وہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

ایک۔ رائٹ ونگ کا کوئی مجاہد ایک بے سر و پا دعوی کر دے تو آپ قہقہہ مار کر مت ہنسا کریں۔ اس سے وہ شرمندہ ہو کر اپنے موقف پر مزید سختی سے جم جاتا ہے۔ اس کی بجائے آپ یہ سوچ کر گفتگو کیا کریں کہ آپ ایک ڈھائی سالہ ننھے سے بچے کو دنیا داری کے معاملات سمجھا رہے ہیں اور اسی ذہنی لیول پر اتر کر گفتگو کیا کریں۔ یاد رکھیں کہ جب ہم بھی نوجوان تھے اور ہمارا علم اور ہمارے جذبات درسی کتابوں کے زیر اثر تھے تو ہم بھی ایسے ہی جذباتی اور ناسمجھ ہوا کرتے تھے۔ پھر وقت نے علم دیا۔ اگر وہ کوشش کریں گے تو ان کو بھی وقت علم سے محروم نہیں رکھے گا۔ جب جذبات کے چڑھتے دریا اتریں گے تو وہ بھی تہہ کو پا لیں گے۔

دو۔ رائٹ ونگ کے مجاہدین کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلیل سے چاند پر بھی پتھر پھینک سکتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر وہ آپ کو چاند کی سطح پر موجود گڑھے بھی دکھا سکتے ہیں جو کہ ان کی چاند ماری کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے زمین اور چاند کے درمیان اڑنے والے ان مسلح اور غیر مسلح مصنوعی سیاروں کو تباہ کرنا بھی ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے جو کہ سپر پاورز نے دنیا کے گرد بکھیر رکھے ہیں۔ اسی طرح وہ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا کر دشمن کی نیوکلیئر آبدوزیں تباہ کرنے کو بھی عین ممکن مانتے ہیں۔ ان کو چاند کا فاصلہ اور غلیل کی طاقت سمجھانے کا فائدہ نہیں ہے۔ ہاں ان کو یہ ضرور سمجھانا چاہیے کہ تانگے والا گھوڑا خشکی کا جانور ہے جو فی زمانہ بحر ظلمات کی بجائے صرف ریس میں دوڑایا جاتا ہے۔ اس لیے نیوکلیئر آبدوزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اور کچھ نہیں تو کم از کم دریائی گھوڑے ہی کو سدھانے کی کوشش کر لیں تو مناسب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ’’گوہر پختونخواہ‘‘ یا گئوخر پشتونخواہ ایوارڈ

تین۔ اگر وہ یہ دعوی کریں کہ وہ اپنے وظیفوں اور پیر صاحب کی دعا کی بدولت دشمن کے ہوائی جہاز گرا سکتے ہیں، تو ان کو فزکس وغیرہ پڑھانے کی کوشش ہرگز مت کریں۔ فزکس نامی یہ مضمون تو نصاب میں بھی گیارہویں جماعت کے سولہ سالہ بچے کو پڑھایا جاتا ہے جو کہ آپ پلے گروپ کے بچے کو پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو بس یہ بتا کر خاموش ہو جائیں کہ یہ تعویذ اسی صورت میں موثر ہو گا اگر طیارہ شکن سٹنگر میزائل پر چسپاں کر کے ہوائی جہاز کی خدمت میں پیش کیا جائے۔

چار۔ اگر وہ آپ کو یہ بتائیں کہ آپ نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، تو ان سے نظریہ پاکستان کا متن مانگ لیں اور پوچھ لیں کہ یہ کس شخص نے کب اور کہاں پیش کیا تھا۔ اگر وہ آدھے پونے گھنٹے کی گوگل سرچوں میں ناکام ہو کر آپ کو یہ بتائیں کہ نظریہ پاکستان ہر اس شخص کو نظر آ سکتا ہے جس نے تحریک پاکستان کا مطالعہ کیا ہے، تو یہ پوچھ لیں کہ ’جو سیکولر تحریک پاکستان کا مطالعہ کر کے قائد اور اقبال کے پاکستان کو سیکولر سمجھتے ہیں، ان کی فہم کو آپ کی فہم سے کمتر کیوں سمجھا جائے؟‘ ۔ یہ تو پھر ہر شخص کا ذاتی نظریہ ہوا جو کہ اس کے دماغ اور علم و فہم کے مطابق ہو گا۔

پانچ۔ اگر وہ یہ بتائیں کہ جناح صاحب کہنا غلط ہے اور یہ نظریہ پاکستان وغیرہ کی خلاف ورزی ہے، تو ان سے یہ پوچھ لیا جائے کہ کیا جناح صاحب نے خود کو ہمیشہ ’مسٹر جناح‘ کہلانا پسند نہیں کیا ہے؟ کیا اس اصول کے تحت قائد خود بھی اس مبینہ نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائیں گے جو کہ رائٹ کے نوجوان لکھاریوں نے اخذ کر رکھا ہے، یا پھر یہ تہمت صرف رائٹ ونگ کے مخالفین پر ہی دھری جائے گی۔

چھے۔ اگر وہ آپ کو کہیں کہ اقبال اور قائد کے بتائے گئے اصولوں کے مطابق پاکستان کا نظام بننا چاہیے، تو ان کو مشورہ دے دیں کہ اقبال کے شعروں سے من چاہا نظام اخذ کرنے کی بجائے اقبال کا چھٹا خطبہ بغور پڑھ لیں جس میں وہ اتاترک کی پارلیمنٹ جیسا نظام تمام مسلمان ملکوں میں رائج کرنے پر زور دیتے ہیں اور اس سیکولر پارلیمان کو ہی خلافت کی جدید شکل قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں ان کو قائد کے اتاترک کے بارے میں خیالات سے بھی مطلع کر دیں۔

سات۔ اگر وہ کہیں کہ قائد نے گیارہ اگست کو مجلس آئین ساز کے سربراہ کی حیثیت سے جو تقریر کرتے ہوئے مجلس کو آئین سازی کے معاملے پر جو راہنما ہدایات دی تھیں، اس پر عوامی سیاسی تقاریر کو فوقیت دی جانی چاہیے، تو ان سے سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا عمران خان اور شہباز شریف کی الیکشن مہم کے دوران کی گئی تقاریر اہم گردانی جائیں گی یا ان کی پارلیمانی تقاریر ان کی سنجیدہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں؟ کیا الیکشن جیتنے کے بعد نون لیگ نے واقعی آصف علی زرداری صاحب کو عوامی تقاریر کے مطابق سڑکوں پر گھسیٹنا شروع کر دیا تھا یا وہ معاملہ بس عوام کو جوش دلانے کی خاطر تھا؟

یہ بھی پڑھیں: -   میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے

آٹھ۔ اگر وہ یہ بتائیں کہ ’چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا‘ ، تو ان سے کہیں کہ ذرا اپنے چین و عرب کے کسی ائرپورٹ پر ویزے کے بغیر کیا، باقاعدہ ویزے کے ساتھ اتر کر بھی اپنے ساتھ اپنے اس وطن میں ہوتے سلوک کو بیان کریں۔ اور اگر اپنے عرب شریف میں کچھ عرصہ گزارنے کا اتفاق ہو گیا تو پھر امید ہے کہ اس احساس ملکیت میں مزید اصلاح ہو جائے گی۔

نو۔ اگر وہ آپ کو بتائیں کہ فلاں فلاں ملک ہمارا برادر اور جان سے بھی زیادہ عزیز ہے تو ان کو سعودی عرب اور امارات کے مودی کے دورے کے بارے میں آگاہ کریں۔ جب وہ ریاض کی سڑکوں پر لہراتے ہوئے ترنگے دیکھیں گے اور مودی کو سعودیہ کا سب سے بڑا اعزاز پاتے دیکھ کر ایک لحظے کے لیے اپنے برادرانہ جذبے میں کچھ کچھ وقتی سا سکون محسوس کریں گے تو ان کو بتائیں کہ ملکوں کے باہمی مفادات ہوتے ہیں، مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے ہیں۔ روس کبھی پاکستان کا دشمن تھا، آج دوست ہے۔ ان ’برادر اسلامی ملکوں‘ کو جو آپ کو وہاں پچاس سال کے قیام کے باوجود اپنی شہریت دینے کو تیار نہیں ہیں، کو اپنا ڈھائی سالہ نرسری اور پلے گروپ کا دوست مت سمجھیں جو کہ آپ کے ساتھ اپنا لنچ شیئر کرنے پر بغیر کسی مفاد کے تیار ہو جاتا ہے۔

دس۔ اگر وہ آپ سے اس غم و غصے کا اشتہار کریں کہ پاکستان کے ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اسرائیل مستقل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے اور ’بے غیرت پاکستانی حکمران‘ چپ چاپ بیٹھے ہیں، تو ان کو وضاحت کر دیں کہ اول بات تو یہ ہے کہ اسرائیل بھی ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایٹم بم کا جواب ایٹم بم سے دے سکتا ہے، اور دوسرے یہ کہ اگر پاکستان نے اپنا ایٹمی میزائل چلانے کا ارادہ بھی کر لیا تو راستے میں موجود برادر اسلامی ممالک ان ایٹمی میزائلوں کو اپنی فضاؤں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور تیسری بات یہ کہ فلسطینی آج بھی ’ہمارے ازلی دشمن بھارت‘ کو پاکستان سے عزیز جانتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ اس وقت کے بریگیڈئیر مرد مومن مرد حق کی جانب سے اردن میں کیا جانے والا فلسطینیوں کا قتل عام بھی ہو۔

گیارہ۔ اگر وہ بھارت کے لال قلعے پر پرچم لہرانے کی بات کریں تو ان کو یہ بتا دیں کہ بھارت بھی ایٹمی طاقت ہے۔ ہم اگر ایٹم بم مار کر اس پر فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ بھی ایٹم بم مار کر ہمیں صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لال قلعے پر سوچے سمجھے بغیر پرچم لہرانے کے شوق میں کہیں ہم لاہور کے قلعے پر لہراتا پرچم بھی خاکستر نہ کروا بیٹھیں۔ بفرض محال اگر ہم نے بھارت کو جوابی حملے کی مہلت دیے بغیر بھی اسے تباہ کر دیا، تو وہاں سے آنے والی تابکاری ہمیں بھی زندہ نہیں چھوڑے گی۔ اس لیے ایٹم بم کو ’ہر مشکل کا حل امرت دھارا‘ قسم کا مشکل کشا سمجھنا چھوڑ دیں جو کہ سر درد ختم کرنے سے لے کر تسخیر جنات تک میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اگر احسان ﷲ کر سکتا ہے

پونے بارہ۔ گو کہ یہ مشکل ہے، مگر ان کو یہ بتانے کی کوشش کر لیں کہ ’زندگی جیو اور جینے دو‘ کے فارمولے کے تحت ہی بسر کی جا سکتی ہے۔ خواہ یہ افراد کی زندگی ہو، گروہوں کی یا قوموں کی۔ کسی ایک طبقے یا ملک کی دھونس اسی وقت چل سکتی ہے جبکہ وہ سپر پاور ہو۔ اور جاہل عوام والے ممالک کبھی بھی سپر پاور نہیں بن سکتے ہیں۔ پہلے تعلیم روٹی کپڑا تو اپنے عوام کو دے دو، معیشت چلاؤ، اس کے بعد سوچو کہ دنیا میں کتنا اثر و رسوخ ہے۔ اگر دس سب سے بڑی اسلامی معیشتوں کی مجموعی پیداوار یورپ کے دو بڑے ملکوں کی معیشت کا تین چوتھائی بھی نہ بن پائے، تو کچھ غم کر لیں۔ اگر پاکستان کی مجموعی پیداوار، امریکہ کی مجموعی پیداوار کا صرف ڈیڑھ فیصد ہو جبکہ پاکستان کی آبادی، امریکہ کی آبادی کے تقریباً ساٹھ فیصد کے برابر ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ ایک پاکستانی شہری ایک امریکی شہری کے مقابلے میں صرف ڈھائی فیصد پیداوار دیتا ہے۔ پہلے اپنے ملک کو ترقی تو دیں، اس کے بعد دنیا بھر پر اپنی برتری کے دعوے کریں۔ گویا نام شکر پارہ روٹی کھائی دس بارہ، پانی پیا مٹکا سارا لیکن کام کرنے کو ننھا بیچارہ۔ ایسے میں اپنی برتری کے دعوے پر آپ شرمسار ہی ہوں تو مناسب ہے۔ ایسی باتیں افیمیوں کو تو زیب دیتی ہیں مگر کسی باشعور انسان کو نہیں۔

مگر یہ باشعور انسان ہونے والی شرط کڑی ہے۔ میرا خیال ہے کہ لیفٹ کے جہاندیدہ لکھاریوں کو یہ شرط رائٹ کے نوجوان لکھاریوں پر نہیں لگانی چاہیے۔
تاریخ اشاعت: Apr 20, 2016

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں