sarfarazahmed 79

کم شائقین، بہترین کرکٹ اورسرفراز کا غصہ

’’آج وہ رونق نہیں لگ رہی‘‘ نیشنل اسٹیڈیم پہنچتے ہی پہلی بات یہ میرے ذہن میں آئی، داخلے کے وقت جب شناختی کارڈ کے ساتھ کوویڈ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ اسکین ہوا تو خوشگوار احساس ہوا کہ چلو ملک میں کہیں تو قوانین پر عمل ہو رہا ہے، ورنہ فضائی سفر کے وقت بھی لازمی قرار دیے جانے پر ویکسین کا نہیں پوچھا جاتا، ایک اچھی بات میں نے یہ بھی محسوس کی کہ بیشتر راستے کھلے تھے۔

ورنہ کراچی میں جب میچ ہو تو گلشن اقبال اور اطراف کے لوگ جلد ایونٹ ختم ہونے کی دعائیں کرتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے گھروں پر پہنچنے یا کہیں جانے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سیکیورٹی ویسی ہی سخت ہے اس کے باوجود عوام کی مشکلات کم کرنے کیلیے کوشش ضرور ہوئی، ویسے تو این سی او سی نے25 فیصد شائقین کو آنے کی اجازت دی اس کے باوجود صرف زیادہ لوگ نہیں آ رہے۔

اس وجہ سے اسٹیڈیم میں وہ ماحول نہیں بن پایا، ٹی وی پر تو براڈ کاسٹر تالیوں کی آوازیں بھی لگا سکتے ہیں مگر آپ وینیو پر موجود ہوں تو وہ مزا نہیں آتا جو عموماً پی ایس ایل میچز دیکھنے میں آتا تھا، عموماً کوئی بھی کرکٹ میچ ہو تو اس میں بچوں کی بہت بڑی تعداد آتی ہے مگر بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے اب ایسا ممکن نہیں رہا،12سال سے کم عمر بچے اسٹیڈیم نہیں جا سکتے جس پر ان کی مایوسی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آپ نے بھی بچوں کی ویڈیوز دیکھی ہوں گی جس میں وہ اعلیٰ حکام سے داخلے کی اجازت دینے کا کہہ رہے ہیں، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پابندی ان کی اپنی بھلائی کیلیے ہی لگائی گئی ہے، البتہ جب اسکولز کھلے ہیں اور پورے ملک میں شاید ہی عوامی مقامات پر ایس او پیز کی پابندی ہو رہی ہو تو ایسے میں صرف نیشنل اسٹیڈیم میں ہی اتنی سختی تھوڑی حیران کن بھی لگتی ہے، خیر رمیز راجہ نے اس پر حکومت کو خط لکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کرکٹ، کپتان اور پاکستان

شاید لاہور میں میچز کے دوران بچوں کو آنے کی اجازت مل جائے، ویسے اس بار پی سی بی کے ساتھ صوبائی حکومت نے بھی پی ایس ایل کی پروموشن کیلیے کچھ نہیں کیا،اسٹیڈیم کے سوا کہیں اور آپ کو کتنے بورڈز وغیرہ نظر آ رہے ہیں؟ شاید انگلیوں پر گن کر ہی بتا دیں گے،کوئی پبلسٹی نہیں ہوئی، شٹل بس وغیرہ بھی میڈیا کی نشاندہی کے بعد چلائی گئیں مگر لوگ میچ کے بعد واپسی پر مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیا ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں اور اندر بھی زیادہ آپشنز موجود نہیں،آپ شائقین کو سہولتیں دیتے نہیں مگر یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہزاروں روپے خرچ کر کے میچ دیکھنے کیلیے اسٹیڈیم آئیں، یہ کیسے ممکن ہے؟ پی ایس ایل میں کم از کم ایک،ایک انکلوژر تو میچ میں شریک فرنچائزز کو دے دینا چاہیے، جیسے کوئٹہ اور پشاور کے میچ میں کسی ایک اسٹینڈ کو گلیڈی ایٹرز تو دوسرے کو زلمی کا نام دے دیں۔

وہاں پرستار اپنی ٹیموں کی جرسیاں پہن کر میچ سے لطف اندوز ہوں، ان کو فرنچائززہی کیپس، شرٹس وغیرہ کے تحائف دیں، میں نے آسٹریلیا وغیرہ میں دیکھا ہے وہاں شائقین کو بے تحاشا سہولتیں دی جاتی ہیں، اس لیے ہر میچ میں بہت لوگ آتے ہیں،خیر پی سی بی کی قیادت اس وقت رمیز راجہ جیسے ذہین انسان کے پاس ہے، یقیناً وہ اس حوالے سے سوچ رہے ہوں گے، ویسے ہم اکثر کہتے ہیں کہ رمیز کو اپنے کام دوسروں میں بانٹنے چاہیئں۔

مگر پی سی بی کا آپ حال دیکھ لیں، افتتاحی تقریب کی ایک ویڈیو ہی لندن اولمپکس جیسی بنا دی جس پر سوشل میڈیا پر خوب مذاق اڑا، جہاں ملک کا وزیر اعظم اور چیئرمین پی سی بی موجود ہوں کم از کم ادھر تو سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہیے تھا،سابق سی او او سبحان احمد کی برسوں طویل پی سی بی میں کامیاب اننگز کی ایک بڑی وجہ لو پروفائلررہ کراپنے کام پرتوجہ دینا تھی۔

یہ بھی پڑھیں: -   فیس بک کی پابندیوں سے کیسے نمٹیں؟

وہ میڈیا میں نہ ہونے کے برابر آتے تھے، قانونی مشیر سے سی اواو بننے والے سلمان نصیر اب روز کوئی نہ کوئی بیان دیتے نظر آتے ہیں، جن لوگوں نے سابق سی ای او وسیم خان کی کشتی ڈبوائی وہ اب اپنی بقا کیلیے سلمان کا کندھا استعمال کر رہے ہیں، شاید نئے سی ای او فیصل حسنین کو بھی پرانی دوستیاں یاد دلا کر قابو کرنے کی کوششیں ہونے لگی ہیں ،اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں کیسے خود کو محفوظ رکھتے ہیں۔

گذشتہ دنوں اسٹیڈیم میں میری مختلف شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، میں نے اپنے دوست سے ایک صاحب کا تعارف کرایا توانھوں نے مذاق میں اپنے نام کے ساتھ کسی گورے کا نام بھی شامل کر لیا، میں نے حیرت سے کہا کہ آپ کا نام تو یہ ہے تو ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔

جواب میں انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نام میں معمولی تبدیلی سے پاکستان کرکٹ میں کیا کچھ ہو رہا ہے تو میں نے سوچا میں بھی ایسا کر لوں شاید کوئی فائدہ مل جائے، پھر کہنے لگے کہ مذاق کر رہا ہوں سیریس نہ ہو جانا، ویسے جوئے والی اسٹوری پر تم کیوں رک گئے مزید کام کرتے، میں نے جواب دیا کہ میرا کوئی ایجنڈہ نہیں، ایک خبر تھی جو بریک کر دی،ابھی اس پر مزید کام ہو سکتا ہے مگر میں تھوڑا انتظار کر رہا ہوں، ویسے آپ باقی میڈیا سے بات کریں کہ وہ کیوں خاموش رہا؟یہ سن کر انھوں نے موضوع بدل دیا۔

خیر چھوڑیں ان باتوں میں کیا رکھا ہے،اگر آپ پی ایس ایل کو ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں تو یقیناً لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، بھرپور مسابقت والی کرکٹ جاری ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کسی اور ملک میں لیگ کا ایسا زبردست کرکٹنگ معیار ہو، اسی وجہ سے ہر بار انتظامی خامیاں دب جاتی ہیں۔

آپ دیکھ لیں ابھی چند ہی میچز ہوئے ہیں لیکن ان میں بیشتر سنسنی خیز ثابت ہوئے،اس وقت تو صرف ملتان سلطانز کی ٹیم ہی تسلسل سے عمدہ پرفارم کر رہی ہے مگر جو ٹیم آغاز میں ہی عروج پا لے بعد میں اسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، توقع ہے کہ ملتان کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا،محمد رضوان بہترین انداز میں ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، ان دنوں سرفراز احمد کا غصہ پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   بورڈ اور فرنچائزز میں اعتماد کی فضا مزیدخراب

مجھے یاد ہے جب قومی ٹیم ان کی قیادت میں نمبر ون تھی اورکوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹائٹل جیتا تھا تو انہی سرفراز کی ہر طرف تعریفیں ہوتی تھیں، ’’واہ کیا تگڑا کپتان ہے، لڑکوں کو ٹائٹ رکھا ہوا ہے‘‘ ایسی باتیں کی جاتی تھیں، اب ان کا بْرا وقت آیا، قومی ٹیم سے باہر ہوئے،کوئٹہ کی ٹیم کا کھیل متاثر ہوا تو سرفراز بْرے بن گئے۔

آپ دیکھ لیجیے گا اگر گلیڈی ایٹرز نے کم بیک کرتے ہوئے ٹائٹل جیت لیا تو یہی سرفراز پھر ’’تگڑے‘‘ کپتان کہلائیں گے،سب وقت کی بات ہوتی ہے، کسی کا بْرا وقت ہو تووہ مسکراتے ہوئے بھی اچھا نہیں لگتا، اچھا ٹائم چل رہا ہو تو بالوں پر ہاتھ پھیرنا بھی ادا کہلاتی ہے، خیر ابھی تو ایونٹ کے چند ہی میچز ہوئے ہیں جیسے جیسے آگے بڑھے گا ٹیموں کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے رہیں گے، ایک بات تو سب ہی دیکھ رہے ہیں کہ پی ایس ایل کے ساتوں ایڈیشن میں کرکٹ کا معیار کبھی کم نہیں ہوا، یہی اس لیگ کی کامیابی ہے۔

saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں