adnan-khan-kakar 84

کپتان کی تنخواہ بڑھانے کی اپیل اور حکومت کی بے حسی

اس امر میں کسی ذی شعور پاکستانی کو ہرگز کوئی شبہ نہیں کہ کپتان کی قیادت میں پاکستانی معیشت نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ پچھلے دنوں جب کپتان کی حکومت نے بتایا کہ پاکستانی معیشت کی شرح نمو 5.37 ہو چکی ہے تو بہت سے لوگوں کو یقین ہی نہیں آیا اور انہوں نے سمجھا کہ کپتان محض کسر نفسی کے باعث یہ شرح بتا رہا ہے ورنہ حقیقی شرح اس سے بہت زیادہ ہے۔ اس موقعے پر ان افراد نے جو کپتان کے حامی نہیں، حسب معمول قنوطی پن دکھایا اور کہا کہ ایسا نمبر لانے کی خاطر پورا فارمولا بدلا گیا ہے بنیاد کو 2005/2006 سے ہٹا کر 2015/2016 کر دیا گیا ہے، اور اگر اس فارمولے کو نواز حکومت کے آخری برس 2017/2018 پر لاگو کیا جائے تو اس کی شرح نمو 5.5 فیصد سے بڑھ کر 6.1 فیصد ہو جاتی ہے۔ اگر یہ مخالفین خود ہی اپنی دلیل پر غور کریں تو منہ چھپاتے پھریں گے۔ نواز حکومت تو اتنی نااہل تھی کہ فارمولے کی بنیاد بدل کر ملک کو ترقی تک نہ دے پائی، یہ کام بھی کپتان نے کیا کیونکہ معیشت کو وہ نواز شریف سے بہتر سمجھتا ہے۔

ایسا نہیں کہ کپتان اپنی کارکردگی سے مطمئن ہے۔ کپتان نے بتایا ہے کہ اگرچہ معیشت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے، لیکن اس کے باوجود کپتان کو قوم کا ایسا درد ہے کہ راتوں کو جاگتا ہے اور آہیں بھرتا ہے کہ لوگ مہنگائی سے بہت پریشان ہیں۔ ایسے میں کپتان نے سوچا کہ لوگوں کی آمدنی بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ تاجر تو چلو قیمت زیادہ کر کے اپنا دال دلیہ پورا کر لیتے ہیں لیکن تنخواہ دار طبقہ کیا کرے؟ کپتان نے اس مسئلے پر عمیق غور و فکر کے بعد آجروں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   ففتھ جنریشن وارفیئر اور پانچواں کالم

سچ ہی ہے کہ اگر قیادت مخلص اور ایماندار ہو تو لوگ اس کی بات سنتے ہیں۔ اپیل کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ کپتان ہر روز ایک ٹویٹ کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ تنخواہوں میں بے شمار اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے کپتان کی اپیل پر اے آر وائی کے سلمان اقبال نے لبیک کہا۔ پھر تو گویا جھڑی لگ گئی۔ یہ خوشخبریاں کپتان کے ٹویٹ شدہ الفاظ میں سنیں تو خوشی دوبالا ہو جائے گی۔

مورخہ 28 جنوری: ”میری استدعا پر عمل کرنے اور ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے پر میں اے آر وائے ڈیجیٹل کے سی ای او اور صدر سلمان اقبال کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ گزشتہ سال ریکارڈ منافع کمانے والی دیگر کمپنیوں سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کی اجرت میں اضافہ کریں۔“ (اے آر وائی نے ملازمین کی تنخواہ میں 80 فیصد تک اضافے کا اعلان کر دیا)۔

مورخہ 29 جنوری: ”میری اپیل پر کم تنخواہ والے ملازمین کی اجرت میں 44 % جبکہ دیگر کی تنخواہوں میں 15/25 % اضافے کے اعلان پر میں سیرین ائر کے ائر وائس مارشل (ر) صفدر کا مشکور ہوں۔ گزشتہ برس 950 ارب کا منافع کمانے والی پاکستان کی بڑی 100 کارپوریشنز سے بھی میری التماس ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں۔“

مورخہ 30 جنوری: ”میری اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 % اضافے پر رضامندی ظاہر کرنے پر میں گو پٹرولیم کا شکرگزار ہوں۔ دیگر کمپنیوں سے بھی میری گزارش ہے کہ اس مثال کی پیروی کریں!“

یہ بھی پڑھیں: -   اک سیانی بات

یہ خوشی کی بات ہے کہ کپتان کی اپیل پر روز ہی کوئی نہ کوئی نجی کمپنی اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں چالیس پچاس ستر اسی فیصد اضافہ کر دیتی ہے۔ شکر ہے کہ قوم کا دل ابھی مردہ نہیں ہوا۔ وہ جانتی ہے کہ کپتان نہ صرف ملک سے مخلص ہے بلکہ وہ کرپٹ بھی نہیں ہے۔ سب لوگ کپتان کی بات سن کر اس پر لبیک کہہ رہے ہیں۔ وہ کپتان کی بہت عزت کرتے ہیں اور اسے تکریم دیتے ہیں۔ کرپٹ حکومت میں تو سال کی پانچ دس فیصد تنخواہ بڑھائی جاتی تھی، اب تو یکلخت اسی فیصد تک کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

نجی شعبے نے کپتان کی بات کو جو عزت بخشی ہے، اس پر راقم الحروف اسے سلامِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ ہر عوام دوست شخص اور ادارہ یقیناً کپتان کی اپیل پر لبیک کہے گا۔ بس حکومت ہی بے حس ہے جو کپتان کی اپیل پر کان نہیں دھرتی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس سے اسی فیصد اضافہ کرنے سے انکاری ہے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ کپتان کی بات توجہ سے سنے اور کپتان کو عزت اور اہمیت دے۔
ختم شد۔
salary-increase

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

یہ بھی پڑھیں: -   درویش کے دانت سویلین ہو گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں