Khursheed Nadeem 54

کیا سیاسی تحریکوں کا دور تمام ہوا؟

آج کسی سیاسی تحریک کی کامیابی کا امکان کتناہے؟سو فی صد یاایک فیصدبھی نہیں؟
تحریک اور انقلاب کا تَوام ایک تصور ہے جو بیسویں صدی کے سیاسی منظر نامے سے جڑا ہوا ہے۔انقلاب کا تصور قصۂ پارینہ ہوا تو تحریکوں کا دور بھی ختم ہو گیا۔پی ڈی ایم اگر کوئی تحریک نہیں اٹھا سکی تو میرا خیال یہ ہے کہ اس کا تعلق نئے سماج سے ہے جس کا سیاسی کردار تبدیل ہو چکا۔اس بنیادی حقیقت کا ادراک کئے بغیر تبدیلی کا کوئی عمل نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔
انقلاب قبل از جمہوریت دور کا ایک تصور ہے جب تبدیلی کاکوئی پُرامن راستہ موجود نہیں تھا۔یہ بادشاہتوں کا دور تھا۔لوگ بادشاہوں کے جبر سے نجات چاہتے تھے مگر استبداد کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے جان ہتھیلی پر رکھنا پڑتی تھی۔بیسویں صدی میں دو طرح کا استبداد تھا: ایک بادشاہت اور دوسری نوآبادیت۔عام آدمی کی کہیں شنوائی نہ تھی۔یہ جبر جب اس مقام تک پہنچ جاتا ‘جہاں انسانوں ‘کے پاس موت کے سوا کوئی راستہ نہ ہوتا تو وہ مرنے سے پہلے مارنے پر آمادہ ہو جاتے۔کسی معاشرے میں اکثریت جب مرنے مارنے پر تیار ہو جاتی تو انقلاب آجاتا۔
یہی سبب ہے کہ بیسویں صدی میں جن لوگوں نے سیاسی نظام میں تبدیلی کی بات کی ‘انہوں نے انقلابی تصورات پیش کیے اور نظام کے خلاف بغاوت کی تحریک اٹھانے کی کوشش کی۔یہ اشتراکی ہوں یا اسلام پسند‘سب نے تحریک کا تصور دیا جس کی پشت پر انقلابی تصورات تھے۔دنیا بھر میں انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں اور یہی تبدیلی کا واحد راستہ قرار پایا۔کہیں اس میں کامیابی ہوئی اور کہیں ناکامی۔
بیسویں صدی کے ر خصت ہوتے ہوتے دوبڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ایک بحیثیت مجموعی دنیا سے بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔دوسرا نوآبادیاتی دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ بادشاہتوں اور سلطنتوں کے دور ختم ہوا تو ان کی جگہ قومی ریاستوں نے لے لی جنہوں نے جمہوریت کوبادشاہت کے متبادل کے طورپر اپنا لیا۔یوں عوامی غم و غصے کا سبب بننے والے دونوں بنیادی اسباب ختم ہو گئے۔
جمہوریت نے کم ازکم نظری سطح پر لوگوں کو یہ احساس دیا کہ وہ اب آزاد ہیں۔انسان کسی کا غلام نہیں رہا۔جو حکمران ہیں ‘ان کے عزل و نصب کا اختیار اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔انہیں آزادیٔ رائے کا حق حا صل ہے۔وہ کسی خوف کے بغیردل کی بات کہہ سکتے ہیں۔یہ عملاً کس حد تک ممکن ہوا‘ یہ الگ بحث ہے لیکن یہ ایک بڑی شعوری تبدیلی تھی جو واقع ہوئی۔اس سے انقلابی تصورات کی پذیرائی کا امکان ختم ہو گیا۔انقلاب کا تصور انہی معاشروں میں باقی رہا جہاں ذہنی پسماندگی تھی۔
ریاست کا مزاج حاکمانہ ہے لیکن اب اس کو بھی پینترا بدلنا پڑا۔ مراعات یافتہ طبقے کو بھی اندازہ ہوا کہ اگر عوام کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا رہا تو ان کا غصہ اس سطح تک نہیں پہنچ پائے گا جہاں ان کا اقتدار خطرے میں پڑ جا ئے۔یوں ریاست نے جبر اور آزادی کے مابین ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔جب لوگوں کو یہ احساس دلا دیا گیا کہ حکومت کے خلاف بات کرنا ممکن ہے تو پھر انہیں سڑکوں پر نکلنے کے لیے آمادہ کرنا مشکل ہو گیا۔ترقی یافتہ معاشروں میں جمہوری عمل‘ حقیقی طور پرآگے بڑھا جس سے انسانی آزادی کا تصور زیادہ مستحکم ہوااور ساتھ ہی سیاسی نظام بھی۔بنیادی انسانی حقوق کے احترام نے معاشروں کو استحکام بخشا۔
پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ معاشرے میں بھی مقتدرحلقوں نے یہ جان لیا کہ مکمل جبر خود ان کے لیے نقصان دہ ہے؛ چنانچہ پاکستان میں اگر مارشل لا بھی آیاتواس میں وہ شدت نہیں تھی جو کسی انقلاب کوجنم دیتی۔اگر ایک طبقہ مارشل لا سے نالاں ہوا تو مقتدرہ نے ایک دوسرے طبقے کو ساتھ ملا لیا جو عوام میں پذیرائی رکھتا تھا۔جنرل ضیاالحق نے پیپلز پارٹی کو ناراض کیا تو قومی اتحاد کو ہم سفر بنا لیا۔پرویز مشرف نے ق لیگ اور ایم کیو ایم کا اپنا اتحادی بنایا۔ان حکمرانوں نے ساتھ ہی اس کا بھی اہتمام کیاکہ کسی حد تک مخالفین کو اپنی بات کہنے کی آزادی ملی رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آمریتوں کے خلاف بھی کوئی بڑی عوامی تحریک منظم نہ ہو سکی۔ضیاالحق حادثے کا شکار نہ ہوتے تو ان کے اقتدار کو کوئی بڑا سیاسی خطرہ لاحق نہیں تھا۔
یہ نظام آج بھی اسی طرح قائم ہے۔اگر ریاستی سطح پر کوئی جبر تھا بھی تو سوشل میڈیا نے اس کا احساس نہیں ہو نے دیا۔لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ سب کچھ کہا جا رہا ہے ۔عام آدمی سوشل میڈیا پر جب یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے جذبات کا جس بے تکلفی سے اظہار کرنا چاہتا ہے‘وہ کیا جا رہا ہے تو اس کی جذباتی تسکین کا سامان ہو جاتا ہے۔یہ تسکین اس غصے کو کم کر دیتی ہے جو بصورتِ دیگر اسے سڑکوں پر نکلنے پر ابھارتا۔
ایک تبدیلی اور بھی آئی ہے۔ یہ اجتماعی کے بجائے انفرادی سوچ کا غلبہ ہے۔ ہم میں سے کم وبیش ہر آدمی شخصی مفادات میں سوچتا ہے۔ کسی تحریک کا حصہ بنتے وقت ‘سب سے پہلے یہ خیال اس کے قدموں سے لپٹ جاتا ہے کہ اگر وہ بے روزگار ہو گیا تو اس کا کیا بنے گا؟ یوں مہنگائی میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے یہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ اس مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اپنے وسائل کو کیسے بڑھا سکتا ہے۔یہ اس تبدیلی کے علاوہ ہے جو تحریکوں کے باب میں بالعموم آئی ہے۔
ان تبدیلیوں نے کسی سیاسی تحریک کی کامیابی کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔کیا یہ واقعہ نہیں کہ اپوزیشن کی جماعتیں جو حکومت کو گرانا چاہتی ہیں ‘انہوں نے ہر اہم موڑ پر پارلیمان میں حکومت کا ساتھ دیا ہے؟سوال یہ ہے کہ جس نظام کو آپ پارلیمان میں تقویت پہنچا رہے ہیں‘ اس کے خلاف عوامی تحریک کیسے اٹھا سکتے ہیں؟اگر ایک عام آدمی اپنی شخصی مفاد سے آگے نہیں دیکھ رہا تو سیاسی جماعتیں بھی اپنے اپنے مفادات کی اسیر ہیں۔آج پیپلزپارٹی اپنی تحریک چلانا چاہتی ہے اور پی ڈیم ایم اپنی۔جہاں اس سوچ کا غلبہ ہو وہاں کوئی عوامی تحریک نہیں بر پا ہو سکتی۔
سیاسی تحریک کا متبادل شعوری تبدیلی ہے۔پاکستان جیسے معاشروں میں دونوں امکان مسدود ہیں۔اس لیے یہاں کسی فوری تبدیلی کا زیادہ امکان نہیں۔یہاں زیادہ سے زیادہ جو تبدیلی متوقع ہے ‘وہ چہروں کی تبدیلی ہے۔سیاسی تحریکوں کا دور ختم ہو گیا اور شعوری تبدیلی کے لیے ہم تیار نہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں راستے بند ہیں۔یہ بظاہر مایوسی کی بات ہے لیکن کیا کیا جائے کہ نوشتہ ٔدیوار یہی ہے۔
ایک طویل سفر ہے جو ہمیں درپیش ہے۔مجھے دکھائی یہ دیتا ہے کہ سماجی و سیاسی شکست وریخت کا عمل پہلے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔اس کے بعد ہی تبدیلی کی خشتِ ا ول رکھی جا سکے گی۔آغاز سماجی تبدیلی سے ہو گا۔سیاست میں صرف نتیجہ نکلتا ہے۔ حقیقی تبدیلی سماج کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔شعوری تبدیلی کے نتیجے میں جو سیاسی تبدیلی آتی ہے وہی پائیدار ہوتی ہے۔یہ کام اب سڑکوں پر نہیں‘ علم اور تعلیم کے مراکز میں ہوگا۔یہ مراکز رسمی بھی ہیں اور غیررسمی بھی۔قدیم بھی اور جدید بھی۔ کوئی اس کو سمجھنا چاہے تو ترکی میں برپا ہونے والی سعید نورسی اور فتح اللہ گولن کی تحریکوں کا مطالعہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں: -   روحانی ہستیاں اور شمشیر زن سورما
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں