Columns of Saadullah jaan barq 58

خاموش انقلاب آرہاہے

ہم جانتے تھے، ہمیں خبرتھی، ہمیں معلوم تھاکہ۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہورہے گا کچھ نہ کچھ گبھرائیں کیا
اوروہ ہوگیا ’’خاموش انقلاب‘‘اسی کوتو کہتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان،سن گن تک نہیں ملی اور خاموش انقلاب انتہائی خاموشی سے چپ چاپ سائلنٹ موڈ پربرپا ہوگیا۔

تم چلے آؤ تو آہٹ بھی نہ پاؤ اپنی

درمیاں ہم بھی نہ ہوں توتمہیں ملناچاہیں

اگرچہ ہماری سمجھ دانی قطعی عام بلکہ درجہ سوم وچہارم ہے اور اسی وجہ سے ہائی فائی یا وی وی آئی پی قسم کے معاملات دوچارنیزے اوپرہی سے گزر جاتے ہیں لیکن پھربھی ہم اتنا توجانتے ہیں کہ انقلاب انقلاب ہوتاہے اورخاموش خاموش ہی ہوتاہے ۔

لب خاموش سے اظہارتمناچاہیں

بات کرنے کوبھی تصویرکالہجہ چاہیں

جہاں تک ’’خاموش انقلاب‘‘کے آنے بلکہ برپاہونے کی ’’خبر‘‘کاتعلق ہے تویہ ایک انتہائی معتبراورباوثوق ذریعے نے سنائی ہے یا یوں کہیے کہ ’’ریاست مدینہ‘‘کے سب سے بڑے، سب سے مبارک اورسب سے مقدس دہان مبارک اورلسان محترم سے نکلی ہے جو نہ صرف ریاست مدینہ کے امیرہیں بلکہ صادق وامین بھی ہیں، البتہ اگرہم جسے نکموں کونظر نہیں آتا تو یہ ہماری ناسمجھی، بے خبری اورنالائقی ہے ۔

اگراجازت ہوتوہم سیاسی تاریخ سے اس قسم کی صورت حال کے لیے دلیل اورحوالہ بھی پیش کرسکتے ہیں، اس بادشاہ کے بارے میں توآپ نے سناہی ہوگاجس نے ایک جلاہے کو حکم دیاتھا کہ ’’میرے لیے ایک ایسی دستارتیارکروجو ’’میری ریاست‘‘کی طرح نہ اس سے پہلے کسی نے دیکھی ہو ، نہ سنی ہواورنہ اس کے بعد کوئی ایسی ’’دستار‘‘بناسکے اوراگر اتنے دنوں میں دستار تیارنہیں ہوئی تو تمہارے سارے خاندان کوکولہو میں پلواکرجنت رسید کر دیاجائے گا۔جلاہا بیچارا بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   کون کس کو دھوکہ دے رہا ہے؟

آخر مقررہ دن وہ دربار میں آتادکھائی دیا، وہ اپنے دونوں ہاتھ یوں آگے کیے ہوئے تھا جسے بہت ہی نازک اورقیمتی چیزاٹھائے ہوئے ہو۔ آتے ہی وہ بادشاہ سے عرض گزارہواکہ آپ کی خواہش کے مطابق بے مثل وبے مثال اورحد درجہ کمال وجمال دستارتیارہوگئی ہے اوراس کی خوبی یہ ہے کہ اسے صرف ’’حلالی لوگ‘‘ دیکھ سکیں گے، حرامی لوگوں کو یہ کبھی دکھائی نہیں دے گی، پھر آگے بڑھ کر بادشاہ کے سرپر پگڑی باندھ بھی دی، بادشاہ سمیت سارا دربارعش عش کراٹھا،دستارکی خوبیوں، حسن اور کمالات کی تعریفیں کرنے لگاکیوں کہ کسی کواپنی ولدیت مشکوک کرنا منظورنہ تھا۔

آپ خود سمجھ دارہیں کیوں کہ پاکستانی ہیں اور پاکستانی دنیاکے نمبرون سمجھ دارہوتے ہیں اوراپنی سمجھ داری کا ثبوت یہ ہے کہ پچھترسال سے اچھی اچھی حکومتیں بناکردے رہے ہیں بلکہ اچھی اچھی پگڑیوں کی تعریف کرکے دے رہے ہیں۔

سو ہماری گردن میں بھی ابھی ’’مرغ‘‘ کے بال نہیں اگے ہیں کہ اس پگڑی عرف ’’خاموش انقلاب‘‘ کا انکارکریں،یقیناًجب ’’وہ‘‘ کہہ رہے ہیں توخاموش انقلاب آیا ہوگا،کہیں نہ کہیں توآیا ہوگا ،کہیں اورنہ سہی توچائے کافی کی پیالی یاکسی اورمشروب کے گلاس یابوتل میں تویقیناًآیا ہوگاجہاں تک آواز کاتعلق ہے توجب انقلاب ہی خاموش ہے تو ’’پگڑی‘‘ بولتی تو ہے نہیں۔

جوجاوے ہے کوچے سے ترے، آوے ہے گھائل

تلوارکھیچے ہے نہ کہیں تیرچلے ہے

ویسے بھی پاکستان میں انقلابات کاوطیرہ ہی ایسا رہاہے اوردیکھیے تویہ بھی ہم پاکستانیوں کی ایک منفرد خصوصیت ہے، اب تک دنیامیں جتنے بھی انقلابات برپاہوتے رہے ہیں، وہ ’’کلرفل‘‘ ہوتے تھے، سفید انقلاب،سبزانقلاب، سرخ انقلاب کالا انقلاب۔کسی بھی انقلاب کاکوئی ساؤنڈایفیکٹ ہوتا ہے لیکن ہمارے اس انقلاب کی خوبی ہی الگ ہے، خاموش انقلاب۔انقلاب خاموش، ساؤنڈ پروف یا سیدھی سادی زبان میں گونگا انقلاب، یہ کچھ ایسا سلسلہ ہے کہ جسے کپڑے کومیٹروں کے حساب سے، آلوپیازکو کلو کے حساب اورپانی کوگراموں یاملی گراموں کے حساب سے تولا،مولا یا ناپاماپا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   شیریں مزاری اور40 ہزار کنال زمین

ایک اورخاص بات بھی ہے اورانقلاب ہوتا ہی خاص ہے، لفظ انقلاب کے لغوی معنی’’الٹ پلٹ‘‘ کے ہوتے ہیںجسے ہل چل جانے کے بعد نیچے کی مٹی اوراوپرکی مٹی نیچے ہوجاتی ہے تو ہوسکتاہے کہ ہمیں پتہ بھی نہ چلاہو اورملک میں نیچے کی مٹی اوپراوراوپر کی مٹی نیچے چلی گئی ہو یااوپرکی مٹی مزید اوپراورنیچے کی مٹی اورزیادہ نیچے چلی جاری رہی ہو، ویسے منہگائی کا ’’ہل‘‘ تومل ہی رہاہے، اگر اب تک نہیںہوئی ہے تو بہت جلدنیچے کی مٹی اتنی نیچے چلی جائے کہ بقول مرشد۔

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کوبھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

اپنی سمجھ دانی کی نارسائی کاروناتوہم پہلے ہی روچکے ہیں، اس لیے یہ بات بھی اس میں نہیں اتری ہے کہ جہاںتک ہمیں معلوم ہے، جتنا شور آج ہے، اتناشورکبھی نہیں تھا کیوں کہ اس حکومت نے اپنی تھیلی میں اتنے ’’شوریلے:: جمع کیے ہوئے ہیں اور ان کوشاید فی بیان کے حساب سے ادائیگی بھی ہورہی ہے جس کاحکومت سے جائزو ناجائز دورکاتعلق بھی ہو، وہ اگر روزانہ ایک بیان نہ دیں تو ان کے پیٹ میں دانہ پانی پہنچتاہی نہیں، وہ وزیر،وزیرمملکت، مشیر،معاون مشیر اور ترجمان وغیرہ کی فوج ظفر موج تو ایک طرف اسٹینڈنگ ،سلیپنگ،سیٹنگ، واکنگ اور جاگنگ کمیٹوں کے ممبران بھی اتنے مصروف ہیں جیسے گاؤں میں کوئی فقیرآگیاہو۔

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں

صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

ایسے میں جوانقلاب آیاہے،اسے خاموش انقلاب کہنا ایسا ہے جیسے بارش کوسوکھی بارش کہا جائے، اب اتنی باتیں ہوگئی ہیں توشبھ چنتک ہونے کی مناسبت سے ایک مشورہ ہم بھی دے ڈالیں کہ

یہ بھی پڑھیں: -   سفرِ آخرت کا سفر نامہ!

خطاوارسمجھے گی دنیا تمہیں

اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

ویسے ایک اوربات بھی دم ہلانے لگی ہے کہ کہیں خاموش انقلاب کامطلب یہ تونہیں ہے کہ ہوکاعالم طاری ہونے والاہے یعنی سارے بانس ہی ’’بریلی‘‘جانے والے ہیں تو بانسریاں ہی خاموش ہوجائیں گی۔

نوحہ ہائے غم کوبھی اے دل غنیمت جانیے

’’بے صدا‘‘ہوجائے گا یہ ’’سازہستی‘‘ایک دن

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں