columns of Javed Chaudhary 59

شہزاد اکبر کا کیا قصور تھا؟

وزیراعظم کو شہزاد اکبر پر چھ اعتراضات تھے‘ پہلااعتراض‘ یہ پاور پوائنٹس میں پریذنٹیشن بہت اچھی دیتے تھے لیکن جب دستاویزی ثبوتوں کی باری آتی تھی تو یہ کاغذات کا پلندہ پیش کر دیتے تھے اور یہ پلندہ آگے چل کر کاغذی ثابت ہوتا تھا۔

شہزاد اکبر نے میاں شہباز شریف فیملی پر 27 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا‘ وزیراعظم کو بڑی زبردست بریفنگ دی لیکن جب ریفرنس بنا تو پہلے 27 ارب روپے16 ارب روپے ہوئے‘پھر گواہوں کی فہرست میں سو لوگ آ گئے اور پھر معاملہ جب عدالت میں پہنچا تو شہزاد اکبر کے ثبوت مخالف وکیلوں کے چند سوالوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور یوں حمزہ شہباز شریف کی ضمانت بھی ہو گئی اور میاں شہباز شریف بھی گھر واپس آ گئے۔

شہزاد اکبر نے دسمبر2019میں لندن میں شہباز شریف فیملی کے خلاف این سی اے(نیشنل کرائم ایجنسی) میں کیس کیا‘ یہ کیس 21 ماہ چلتا رہا لیکن حکومت الزامات ثابت کر سکی اور نہ ثبوت دے سکی لہٰذا این سی اے نے ستمبر 2021میں اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا اور حکومت ٹھیک ٹھاک بدنام ہو گئی اور میاں شہباز شریف اب اگلے وزیراعظم بن کر ابھر رہے ہیں‘ اپوزیشن‘ اتحادی اور پی ٹی آئی کے اپنے 22 ارکان انھیں اعتماد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں جب کہ عمران خان انھیں ہر صورت نااہل قرار دلانا چاہتے ہیں اور شہزاد اکبر یہ بھاری پتھر نہیں اٹھا پا رہے تھے لہٰذا انھیں فارغ کر دیا گیا۔

دوسرا اعتراض‘ شہزاد اکبر نے وزیراعظم کو یقین دلایا تھا ’’میں نے پاکستان کو لوٹنے والی سو بڑی مچھلیوں کا ڈیٹا بھی جمع کر لیا ہے اور ان کے خلاف تگڑے کیس بھی بن رہے ہیں‘یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور مضبوط کیس ہوں گے‘ یہ وزیراعظم کو یہ یقین بھی دلاتے رہے سوئس بینکوں میں پاکستانی لٹیروں کے 280 بلین ڈالرز پڑے ہیں‘ ہم اگر یہ رقم لے آئے تو ہمیں آئی ایم ایف کے سامنے گڑگڑانا پڑے گا اور نہ ہی کشکول اٹھانا پڑے گا۔

وزیراعظم خوش ہو گئے لیکن جب ثبوتوں کی باری آئی تو یہ چند شیٹس اور دو ہزار الفاظ کے سوا کچھ نہیں تھا‘فائلوں میں دعوؤں اور خواہشات کے لنگڑے گھوڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا‘ تیسرا اعتراض‘ وزیراعظم انھیں جب بھی اسپیڈ بڑھانے کا کہتے تھے یہ گھنٹی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ایف آئی اے کے گلے میں باندھ دیتے تھے‘ وزیراعظم نے ان کے مشورے پر گوہر نفیس کو ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب بھی لگا دیا‘ ایف آئی اے کو بھی ان کے سامنے جواب دہ بنا دیا اور انھیں باقی تمام سہولیات بھی دے دیں لیکن اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے خلاف بھی شکایات کا انبار لگ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   اسلام اور صحافتی اخلاقیات!

ایف آئی اے کے ثبوت عدالتوں میں اڑ گئے اور کرپشن کے نئے نئے اسکینڈل بھی سامنے آنے لگے‘ چوتھا اعتراض‘ شہزاد اکبر نے وزیراعظم کے تمام دوستوں کو ناراض کر دیا‘ جہانگیر ترین ہوں‘ زلفی بخاری ہوں‘ ندیم بابر ہوں‘ انیل مسرت ہوں یا پھر پرویز خٹک ہوں وزیراعظم کے تمام دوستوں کے ہونٹوں پر انھی کا نام تھا لہٰذا وزیراعظم جب آج اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہیں تو انھیں کوئی اپنا دکھائی نہیں دیتا‘ یہ خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں اور یہ شہزاد اکبر کو اس اکیلے پن کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔

پانچواں اعتراض‘ شہزاد اکبر نے وزیراعظم سے وعدہ کیا تھا میں میاں نواز شریف کو لندن سے ہتھکڑی میں واپس لاؤں گا لیکن نواز شریف کی باعزت واپسی کا وقت آ گیا مگر شہزاد اکبر اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے اور چھٹا اور آخری اعتراض‘ وزیراعظم کا خیال ہے شہزاد اکبر مشیر میرے ہیں لیکن یہ احکامات کسی اور سے لیتے ہیں‘ انھیں دوسری طرف سے جب بھی حکم دیا جاتا ہے یہ اس کے مطابق کارروائی تیز اور آہستہ کر تے رہتے ہیں‘ بدنام میں ہو رہا ہوں لیکن ڈیل کوئی اور کر رہا ہے لہٰذا شہزاد اکبر کو گھر بھجوا دیا گیا۔

وزیراعظم کے یہ تمام اعتراضات درست ہیں کیوں کہ حکومت کو ساڑھے تین برسوں میں معیشت کے بعد سب سے زیادہ مار احتساب میں پڑی‘ حکومت کا وقت ختم ہو گیا لیکن یہ سیاسی کرپشن کا کوئی ایک بھی کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکی‘ کرپشن ختم کرنا تو دور پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے انڈیکس میں 117 سے 140 ویں نمبر پر آگیا لیکن سوال یہ ہے کیا اس کے ذمے دار صرف شہزاد اکبر ہیں اور باقی تمام وزراء مختلف ہیں؟ حماد اظہر کے پاس انرجی کا پورٹ فولیو ہے‘ کیا یہ عوام کو سستی بجلی دینے میں کام یاب ہو گئے ہیں۔

وہ نواز شریف جس پر آج الزام لگایا جا رہا ہے اس نے مہنگی بجلی کے کارخانے لگا دیے‘ ان کے دور میں بجلی کے گھریلو نرخ 11 روپے فی یونٹ تھے اور گردشی قرضہ 1148ارب روپے تھا لیکن آج بجلی کے نرخ 21 سے 24 روپے فی یونٹ اور گردشی قرضے 2419ارب روپے ہیں لہٰذا سوال یہ ہے حماد اظہر نے آج تک کیا کیا؟ کیا یہ بھی آج تک شہزاد اکبر کی طرح پریس کانفرنس میں تلواریں نہیں چلاتے رہے‘ عمران خان کے پاس چوٹی کے معیشت دان تھے۔

یہ بھی پڑھیں: -   یہ تو ہونا ہی تھا

اسد عمر بابائے معاشیات تھے‘ حفیظ شیخ معیشت کے جادوگر تھے اور شوکت ترین اکانومی کو جڑوں سے جانتے ہیں لیکن انھوں نے آج تک کیا کیا؟ یہ ساڑھے تین برسوں سے قوم کو بتا رہے ہیں اسحاق ڈار نے ڈالر کو 105روپے پر رکھ کر برا کیا تھا اور ہم نے اسے 180تک پہنچا کر کمال کر دیا‘ چین کو پاکستان میں 55 بلین ڈالر سرمایہ کاری کرانے والے غلط تھے اور ہم تمام بین الاقوامی پراجیکٹس روک کر صحیح ہیں۔

شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ ہیں‘ ان کے دور میں کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور یہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے لیے 15 ممبرز بھی اکٹھے نہیں کر سکے تھے‘ یہ ایک بیان دے کر سعودی عرب کو ناراض کر بیٹھے تھے اور پاکستان دوستوں کی محفل میں بھی تنہا ہو گیاتھا‘شاہ صاحب سے آپ تقریریں جتنی چاہیں کرا لیں‘ یہ سندھ کی طرف لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں لیکن ان سے وزارت نہیں چلتی‘ شاہد خاقان عباسی قطر سے 8ڈالر ایم ایم بی ٹی یو میں ایل این جی لے رہے تھے۔

وہ غلط اور لٹیرے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت 30 ڈالرایم ایم بی ٹی یو میں ایل این جی خرید کر بھی ٹھیک ہے‘ زراعت کے محکمے فخر امام اور پنجاب میں سید حسین جہانیاںگردیزی کے پاس ہیںلیکن قوم نے آج تک ان کی شکل نہیں دیکھی‘ حکومت دعویٰ کر رہی ہے ہم نے زراعت کے شعبے میں گیارہ سو ارب روپے پمپ کیے لیکن کھاد کے لیے قطاریں لگی ہیں اور کسان روز احتجاج کر رہے ہیں‘ مراد سعید شروع شروع میں تقریروں کے ذریعے موٹروے بناتے تھے‘ آج یہ بھی سڑکیں بنا بنا کر تھک گئے ہیں‘ میاں شہباز شریف پنجاب میں تھا تو یہ ڈاکو ہوتا تھالیکن آج ملک کا سب سے بڑا صوبہ سائیں عثمان بزدار چلا رہے ہیں اور انھیں اپنی ڈویژن کے لیے کمشنر نہیں مل رہا‘ یہ اب تک ڈی جی خان ڈویژن میں دس کمشنر تبدیل کر چکے ہیں۔

مری میں 23 لوگ مر جاتے ہیں اور یہ انتظامیہ کو شاباش دے رہے ہوتے ہیں‘ کے پی میں محمود خان کیا کر رہے ہیں‘ یہ جاننے کے لیے بلدیاتی الیکشن کے رزلٹ کافی ہیں اور پیچھے رہ گیا بلوچستان تو وہاں وفاقی حکومت کی بھرپور سپورٹ کے باوجود جام کمال حکومت نہیں بچا سکے لہٰذا سوال یہ ہے اگر شہزاد اکبر اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے تو باقی وزراء نے کیا کمالات دکھا دیے ہیں؟ کیا یہ بھی وہ نہیں کر رہے جو شہزاد اکبر کرتے رہے اور کیا یہ بھی کسی اور کے احکامات پر نہیں چلتے؟

یہ بھی پڑھیں: -   پلکوں سے کرچیاں چننے کا وقت

حکومت کو بہرحال ساڑھے تین سال کی مسلسل ناکامیوں کے بعد یہ تسلیم کر لینا چاہیے مسئلہ آنگن میں نہیں ہے ناچ میں ہے‘ عمران خان خیالات کی دنیا کے بلے باز ہیں‘ یہ زمینی حقائق اور مینجمنٹ سے نابلد ہیں‘ وہ لیڈر جو آج تک اپنے پرانے دوستوں‘ پارٹی کے پرانے ورکروں کو اکٹھا نہیں رکھ سکا‘ جو اپنی ذاتی معیشت نہیں چلا سکا اور جس کے پاس اپنے ٹیکس میں دو لاکھ روپے سے 98 لاکھ روپے کے جمپ کا کوئی جواب نہیں‘ وہ لیڈر جو پورے ملک کو مہنگائی‘ بے روزگاری‘ کساد بازاری اور افراتفری میں دھکیل کر بھی بڑے آرام سے کہہ دیتا ہے ’’میں کیا کر سکتا ہوں‘‘ لہٰذا مسئلہ شہزاد اکبر جیسے لوگ نہیں ہیں۔

مسئلہ عمران خان خود ہیں‘ یہ جب لیڈر تقریروں سے کام چلائیں گے تو ان کی کابینہ اور ترجمان بھی یہی کام کریں گے‘ قوم کو بھی اب یہ مان لینا چاہیے ہم جذبات کی رو میں بہہ کر انقلاب اور تبدیلی کا کیڑا مار چکے ہیں‘ ہم نے اگر اب اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کیا تو ہماری اگلی منزل ’’ٹی ایل پی‘‘ ہو گی اور اس کے بعد ملک میں جو ہوگا ہم سب اس سے واقف ہیں اور ہمارے ساتھ ساتھ اب ٹیلی فون والوں کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے، ملک میں اب مزید تجربوں کی سکت نہیں رہی‘ آپ گرتی ہوئی دیواروں کو مزید کتنے سہارے دے لیں گے۔

آپ کا ہر سہارا قوم کو مہنگا پڑ رہا ہے اور یہ ڈھلوان پر مزید نیچے کھسک رہی ہے لہٰذا آپ بھی مہربانی کریں اور اپنی غلطیوں کو ان ڈو (Undo) کر دیں کیوں کہ اب تو بس کی بھی بس ہو گئی ہے، چناں چہ آپ نے اگر نہ روکا تو حکومت قوم کو وہاں لے جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں