adnan-khan-kakar 61

ولایتی کتے کی موت سے دیسی انسان کی موت تک

گو کہ کتے کی موت کے بارے میں ہمارے نصاب اور روایات میں ایک قصہ بہت بیان کیا جاتا ہے کہ فرات کے کنارے بے بسی کی موت مرنے والے کتے کا ذمہ دار بھی حکمران ہے۔ اسی سے حساب لیا جائے گا۔ یعنی کتے کو بھی اتنا اہم سمجھا جاتا ہے کہ اس کی موت کی پرسش ہو گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتے کی موت کو ہمارے ہاں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ سرکار تو باقاعدہ کتے مار مہم چلاتی ہے۔ اور وہ ایسی مہم نہ چلائے تو عدالت اس سے پوچھتی ہے کہ کتے کو کیوں نہیں مارا؟

دوسری جانب متمدن معاشرے بھی ہیں جہاں کتا بلی کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو ریسکیو والے اپنا لاؤ لشکر لے کر اس کی جان بچانے پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی بلی کسی درخت پر چڑھ جائے اور اپنی فطرت و آبائی تربیت بھلا کر اترنا بھول جائے تو بھی حکومت بجائے یہ کہنے کے کہ یہ اس کی اپنی غلطی ہے اور وہ اگر مر گئی تو حکومت نردوش ہو گی، الٹا ایک کثیر سرمایہ اور وسائل اسے درخت سے اتارنے پر خرچ کر دیتی ہے۔ کتوں کے بھی ایسے ہی بہت زیادہ حقوق ہیں اور کتے کی موت بھی حکومت کو مصیبت میں ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب ہمارے ہاں بلاوجہ ہی کتے کو پتھر مار دینا بھی لطف اندوز ہونے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اور پھر کتے کی موت کو اس حد تک عبرتناک بھی سمجھا جاتا ہے کہ دشمن کو ایسی موت مرنے کی بدعا دی جاتی ہے۔ بہرحال کتے کے مرنے کو ہمارے ہاں اہم نہیں سمجھا جاتا، صرف اس کی میت کے تعفن سے قوم کو پریشانی ہوتی ہے۔ ورنہ کتا مرتا مر جائے ہمیں کیا؟

یہ بھی پڑھیں: -   نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ؟

ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ حقیر سا کتا ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔ گلیوں میں آوارہ پھرتا ہے۔ بھونک بھونک کر ہمارا سکون غارت کرتا ہے۔ کبھی زیادہ ہی مشتعل ہو تو کاٹ بھی لیتا ہے۔ اس لیے ایک کتا مرتا ہے تو ہم یہ سوچتے ہیں کہ چلو ایک پریشانی کم ہوئی۔

اب اسی معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ حکومت کے لیے عام انسان حقیر ہیں۔ وہ اہم نہیں۔ بھونک بھونک کر حکومت کا سکون غارت کرتے ہیں۔ زیادہ ہی مشتعل ہوں تو حکومت کو کاٹ بھی ڈالتے ہیں۔ اس لیے ایک عام انسان مرتا ہے تو حکومت سوچتی ہے کہ چلو ایک پریشانی کم ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ نہ تو سڑک حادثات کی روک تھام کی جاتی ہے، نہ ہی ہسپتالوں میں انسان بچانے پر زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ نہ زخم خوردہ انسانوں کو خالص دوائی یا خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ نہ اس کی تعلیم پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ نہ ہی ایسا بندوبست کیا جاتا ہے کہ وہ کسی برفانی علاقے میں برف کے طوفان میں پھنس کر جان کی بازی ہار رہا ہو تو چند میل دور واقع حکمرانوں کے محل تک اس کی آہ پہنچے اور اسے بچانے کا بندوبست کیا جائے۔

بس ایسی موت پر زیادہ شور نہ مچے۔ لوگ مشتعل ہو کر حکومت کو کاٹ کھانے پر نہ اتر آئیں۔ ورنہ تو بس اس موت سے حکومت کی ایک پریشانی کم ہوئی، اس پر وہ کیوں اپنا وقت برباد کرے؟ ہاں مرنے والے اپنے آخری لمحات میں ضرور سوچتے ہوں گے کہ دیسی انسان سے تو ولایت کا کتا بھلا، جیسا بھی ہو حکومت خبر گیری تو کرتی ہے، یہ تو نہیں کہتی کہ وہ اپنی بے وقوفی سے مرا تو میرا قصور نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   تئیسویں پارے کا خلاصہ
adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں