Khursheed Nadeem 65

سانحہ ٔمری کا اصل سبب

مری میں انسانی جانوں کے ضیاع کا اصل سبب کیا تھا؟ کرپشن؟ فحاشی؟ یا کچھ اور؟
موت یوں بھی ایک المیہ ہے لیکن بے بسی اسے ایک ایسی کسک میں بدل دیتی ہے جو تادیرمضطرب رکھتی ہیں۔ کبھی تو ہمیشہ! فلاں کو بچایا جا سکتا تھااگر … ؟ اس ‘اگر‘ کے بعد پچھتاوا جنم لیتا ہے اور خوفِ خدا ہوتو ہر اس آدمی کی نیند اڑا دیتا ہے جو ایسی موت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔عمرؓ ابن خطاب کے نام کے ساتھ ہمیشہ کی عظمت یونہی وابستہ نہیں ہو گئی۔انہیں تو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ وہ حکمران ہوں اورفرات کے کنارے ایک کتا بھوکا مر جائے۔ ہمارا حکمران طبقہ ہر دور میں ابنِ خطابؓ کی مثالیں دیتاہے اور ہر دور میں ہر روز ان گنت شہری بے بسی کی موت مرتے ہیں۔
مری میں لوگ بے بسی کی موت مر گئے۔ذمہ داروں میں انتظامیہ ہی نہیں‘اور بہت سے لوگ ملوث ہیں۔وہ تاجر بھی جنہوں نے موت کے اس کھیل کو کاروبار بنا دیا۔ ایک خاتون نے زیور گروی رکھ کر اہلِ خانہ کے لیے ہوٹل کا کمرہ لیا۔علاقے کی وہ مکین بھی ذمہ دارہیں جو اس المیے سے بے خبر رہے۔اور اگر مجھے معاف رکھا جائے تو وہ کم نگاہی بھی جو لوگوں کو خود کشی پر آمادہ کرتی ہے۔منیر نیازی کی وہ لافانی نظم یاد کیجیے…’کچھ شہر کے لوگ ظالم تھے اور کچھ مجھے بھی مرنے کا شوق تھا‘۔ سب سے اہم سبب مگر کیاہے؟
سیاحت کو ہم آمدن کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ایک کاروبار‘ تاکہ قومی خزانے میں پیسہ آئے جیسے ٹیکسٹائل سے آتا ہے۔ جیسے دوسری برآمدات سے۔سیاحت کب کاروبار بن سکتی ہے؟جب سیاحتی علاقے انسانوں سے اَٹ جائیں۔جب دنیا بھر سے لوگ جوق درجوق ایسے مقامات کا رخ کریں۔جتنے زیادہ لوگ‘اتنا اچھا کاروبار۔اس کا مطلب کیا ہے؟ سیاحتی مقامات پر زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی۔ انہیں ممکن حد تک حادثات سے محفوظ بنانا۔ایسا نہ ہو کہ لوگ مسرت کی تلاش میں آئیں اور موت ان کی منتظر ہو۔
یہ بات سمجھنے کے لیے کاروباری عبقری ہو نا لازم نہیں۔یہ عقلِ عام کا سیدھا سادہ معاملہ ہے۔دنیا میں جہاں سیاحت کو فروغ دیا گیا‘چند باتوں کا لازماً اہتمام کیا گیا: اچھے راستے‘آرام دہ رہائش‘حادثات و آفات سے بچنے کا نظام۔سہولتوں سے آراستہ ہسپتال۔امن وامان کا خاص اہتمام کہ کوئی مجرم کسی کی جان‘مال‘آبرو کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے۔قیمتوں پر نظر کہ لالچ مقامی کاروبار کو بر باد نہ کردے۔
ان امور کوایک پالیسی میں ڈھالنے کے لیے اہلیت چاہیے:وہ اہلیت جو سیاحت کو کاروبارمیں بدل دے۔اگر یہ کام دنیا کے سب سے متقی آدمی کو سونپ دیا جائے جو اہلیت نہیں رکھتا تو ایک نتیجہ یقینی ہے:ایسے ملک میں سیاحت کا کوئی مستقبل نہیں۔امورِ جہاں بانی کے لیے اہلیت کو دین داری یا دیانت پر ترجیح حاصل ہے۔ذمہ داری سونپتے وقت سب سے پہلے اہلیت دیکھی جائے گی۔اس کے بعد دیانت داری اور دوسری خوابیاں۔جب لوگ کسی ملازم کے لیے درخواست دیتے ہیں تو سب سے پہلے اہلیت کو دیکھا جاتاہے۔ ڈاکٹر کے منصب کے لیے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ طب کی کوئی سند رکھتا ہے یا نہیں۔آپ ایک ہسپتال کے مالک ہیں۔آپ کو ایک ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ ایک درخواست گزار طب کی ڈگری تو نہیں رکھتا مگر ایک زمانہ ان کی دیانت کا گواہ ہے۔کیا آپ اسے یہ ذمہ داری سونپ دیں گے؟
دیانت نہ ہوگی تو اس کے اپنے نقصانات ہیں۔اس میں بھی خسارہ ہے‘جس کا انکار محال ہے۔انسانی زندگی کا تجربہ مگر یہ کہتا ہے کہ اس خسارے کا کسی حد تک مداوا ہو جاتا ہے‘نااہلیت کو کوئی مداوا نہیں۔نااہلیت کے زخم جان لیوا ہوتے ہیں۔ ہمارے قومی وجود پر جتنے گھاؤ ہیں‘ان میں سے اکثرنااہلیت کے لگائے ہوئے ہیں۔ہم سابقہ حکومتوں کو نااہلیت کا رونا روتے ہیں۔یہ شیخ رشیدصاحب ہی کا فرمان ہے کہ اس ملک میں جس کی صحت سب سے خراب ہو‘اسے وزیرِ صحت بنا دیا جا تا ہے۔
قومی امراض کی تشخیص کرتے وقت‘ہم سے ہمیشہ غلطی ہوئی ہے۔ ہمارا قومی وجود نااہلیت‘کرپشن‘ فحاشی‘بد اخلاقی سمیت ان گنت امراض کی آماجگاہ ہے۔اس کے نتیجے میں ہماری معیشت بیمار ہے۔سیاست زخم خوردہ ہے۔سماج کو دردوں نے گھیر رکھا ہے۔ہم ان کا علاج چاہتے ہیں مگر ہم کبھی یہ طے نہیں کر سکے کہ آغاز کہاں سے ہو۔
چند سال پیشتر ہمیں بتایا گیا کہ کرپشن سب سے بڑا مرض ہے۔اس لیے سب سے پہلے اس کا علاج ہونا چاہیے۔تین سال بعد وزیراعظم صاحب اسے اپنی سب سے بڑی ناکامی قرار دیتے ہیں کہ وہ کرپٹ کا احتساب نہیں کر سکے۔اس کے بعد لازم تھا کہ وہ اس کے اسباب پر غور کرتے۔ماہرین سے مشورہ کرتے کہ حکومت کو اس میں ناکامی کیوں ہوئی؟پھر یہ کہ حکومت کو ہدف کیا ہونا چاہیے تھا؟پہلے احتساب یا ایسے ماحول کی فراہمی جس میں معاشی سرگرمیوں کو عروج ملے اور عام آدمی کی معیشت بہتر ہو؟عام پاکستانی کی امید میں اضافہ یا مجرموں کی سزا؟
سانحہ مری جیسے واقعات ہمیں متوجہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی ترجیحات کا درست تعین کریں۔اس سے کسی کو انکار نہیں کہ کرپشن اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔تین سالہ تجربہ مگر یہ بتا رہا ہے کہ یہ سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔سب سے بڑا مسئلہ ہے اچھی حکومت(Good Governance) کی فراہمی۔اچھی حکومت اس وقت بنتی ہے جب معاملات اہل لوگوں کے سپرد کیے جائیں۔حکومت پنجاب ان گنت سیکرٹریز کو تبدیل کر چکی۔کیوں؟اس لیے کہ سیکرٹری وزیراعلیٰ کے بعد حکومتی مشینری کا سب سے اہم پرزہ ہے۔اگر وہ اہل نہ ہوگا تو حکومت نہیں چل سکے گی۔جس جس کو اس منصب سے ہٹایا گیا‘ان میں سے کسی پر کرپشن کا الزام نہیں لگا۔پھر ہٹانے کا سبب کیا تھا؟ کیا ‘اہلیت‘ کے علاوہ اس کا کوئی جواب ممکن ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ سیاحت کی معیشت کو فروغ دیں تو اس کے لیے لازم ہے کہ مری جیسے مقامات پر زیادہ سے زیادہ لوگ آئیں۔یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب یہاں زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر ہوں گی۔اگر ہماری ترجیح یہ ہو کہ یہاں کم سے کم لوگ آئیں تو اس سے حادثات تو کم ہوں گے‘سیاحت معیشت کا ستون نہیں بن سکے گی۔ ایک اچھی سیاحت پالیسی اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔یہ کام ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو اس کے اہل ہوں۔
حکومت نے کرپشن اور فحاشی کے خاتمے کواپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔یہ دونوں اخلاقی مسائل ہیں جس کا حل عام طور پر حکومتوں کے پاس نہیں ہوتا۔حکومت کی مداخلت اس وقت ہوتی ہے جب یہ اخلاقی امراض جرم بنتے ہیں۔اگر عوام کسی مجرم کو اپنا لیڈر مان لیں تو قانون اس کو غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔حکومت کا اصل کام لوگوں کے جان و مال کا تحفظ اور ان کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔مالی کرپشن اسی وقت جرم بنتی ہے جب عوام کے مال پر ڈاکہ ڈالا جائے۔اس کو اگر اس مقام پر رکھ کر دیکھا جائے تویہ اصل کی فرع ہے نہ کہ خود اصل ہے۔
مری کا حادثہ بتا رہا ہے کہ یہ سرکاری محکموں کی اجتماعی نا اہلیت کا نتیجہ ہے۔مری کی انتظامیہ اور سب متعلقہ شعبوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ شدیدموسم میں حکومتی نظام کتنے سیاحوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟یہ ثابت ہے کہ انہیں یہ معلوم نہ تھا۔اسی کا نام نااہلیت ہے اور یہی اس سانحے کا اصل سبب ہے‘نہ کرپشن نہ فحاشی۔

یہ بھی پڑھیں: -   اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات!
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں