adnan-khan-kakar 83

امریکہ کا چکر: لوگ اور زندگی

adnan-khan-kakar-usa
امریکی ائرپورٹ پر اترتے ہی ہمیں احساس ہوا کہ یہ ملک حیرت کے خزانے لیے ہوئے ہے۔ کئی ملک گھومے ہیں مگر یہ پہلا ائرپورٹ دیکھا جس میں آنے والے مسافروں کی اشد ضروری حاجات پوری کرنے کے لیے جو پہلا نشان لگایا گیا تھا وہ ٹائلٹ کا نہیں بلکہ ڈیفبریلیٹر کا تھا، یعنی تحیر سے رکے ہوئے دل چالو کرنے والی مشین کا۔ اسے دیکھتے شائبہ ہوا کہ یہاں کا سسٹم ایسا ہے کہ اسے دیکھتے ہی سوچنے سمجھنے والوں کے دل تھم تھم جاتے ہیں۔

ہم دیسیوں کو سسٹم میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، ہم شخصیات کی پرستش کرنے والوں میں سے ہیں۔ سائنس پر شاعری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور ہم نے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے سفر نامے بھی پڑھ رکھے ہیں اور مولوی صاحبان کے خطبے بھی خوب سنے ہیں۔ اس لیے ہم یہ نشان دیکھ کر یہ بھی سمجھ گئے کہ بس اب حسن کی دیویوں کی یلغار ہونے والی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک حسینہ جہاز سے اترنے والے گندمی رنگت والے دیسیوں پر ہلہ بولے گی اور وہیں قبضہ کر لے گی کہ اسے میں نے پہلے دیکھا ہے، یہ میرا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں دل نہ تھمے تو کیا کرے؟ اسے جھٹکا دینا ہی پڑتا ہے۔
defibrillator
تاہم یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ امریکیوں نے پیسہ ہی ضائع کیا ہے۔ حسن شسن کوئی نہیں تھا۔ سامنے گورے کالے بابے کھڑے تھے جو پاسپورٹ چیک کر رہے تھے۔ پھر سوچا کہ شاید جو لوگ ہماری طرح تارڑ صاحب کے سفرنامے پڑھ کر اور مولوی صاحبان کی مغرب کے بارے میں رنگین و سنگین باتیں سن کر پرستان کی امیدیں باندھے اترتے ہوں گے، ان کے دل سامنے دیو دیکھ کر رک جاتے ہوں گے، شاید ان کی خاطر ڈیفبریلیٹر لگائے گئے ہوں۔

اگلے دن ہم گریجویشن کی تقریب دیکھنے یونیورسٹی گئے تو دیکھا کہ انجینئیرنگ اور تکنیکی امور میں ڈگری پانے والے بیشتر ہندوستانی ہیں، پھر بنگلہ دیشی، پھر عرب اور پھر پاکستانی۔ گورے ان فیلڈز میں عنقا تھے۔ سوشل سائنسز میں صرف گورے گوریاں ہی تعلیم پاتے دیکھے مگر وہ ایک معمولی سی اقلیت تھے۔ فرمانبردار خان اور حکومت آپا نے بتایا کہ بیشتر مقامی طلبا و طالبات عموماً نہایت نالائق ہوتے ہیں۔ ان کی سکالر شپ اور سیٹ کے سکور کا سن کر حیران پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ تم اتنے لائق فائق ہو اور ہمارے مقابلے میں صرف ایک چوتھائی فیس دے کر پڑھ رہے ہو۔

یہ بھی پڑھیں: -   یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد

اگلے چند دن ادھر ادھر گھومے پھرے۔ جسے گورا یا گوری سمجھ کر ہمہ تن گوش ہوتے تھے کہ اس سے امریکی لہجے میں انگریزی سنیں گے، وہ ہومبرے یا موہیر یعنی ہسپانوی مرد یا عورت نکلتا۔ خدا جانے کیا معاملہ تھا کہ چند گورے ہی دکھائی دیے۔

ٹیکساس میں گھوم پھر کر جو پہلا احساس ہوتا ہے وہ ہوا کے مختلف ہونے کا ہے۔ ہم لاہور کی ہوا کے عادی، یہاں کی خالص ہوا میں سانس لے کر پریشان ہو گئے۔ دوسرا احساس وہاں کے لوگوں کو دیکھ کر ہوا۔ پاکستان میں لوگ ہماری صحت سے جلتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم موٹے ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں احساس ہوا کہ ہم تو بہت سلم سمارٹ ہیں۔ اصل موٹے پہلی مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور وہ بھی اتنی بڑی تعداد میں۔ ہم عموماً سفر میں وزن کم کر کے لوٹتے ہیں۔ یہاں سے کچھ بڑھا کر ہی لوٹیں گے۔

یہاں کے لوگ نہایت حریت پسند ہیں اور اپنی ذاتی آزادی میں حکومت کو مداخلت نہیں کرنے دیتے۔ اس لیے اومیکرون کرونا کی بڑی لہر پھوٹنے کے باوجود ماسک پہننے سے انکاری ہیں۔ ٹیکساس والے تو ہیں بھی کچھ ہمارے مزاج کے۔ نئے سال کی بتیاں دیکھنے کے لیے وہ بھی اسی طرح نکلتے ہیں جیسے ہم چودہ اگست کو جاتے ہیں۔ ڈیلاس میں ایک منچلا اپنی گاڑی بھی اسی طرح چلا رہا تھا جیسے چودہ اگست کو ہمارے نوجوان چلاتے ہیں۔ امریکہ میں سائلنسر اتارنے کی آزادی تو غالباً میسر نہیں مگر ایک سگنل پر وہ حضرت اپنی کھڑی گاڑی کے ٹائر گھما گھما کر اتنا دھواں پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے جتنا ہمارے ہاں چوک پر ٹائر جلا کر بہم پہنچایا جاتا ہے۔
ice-cream
امریکہ کی سائنسی ترقی کا بھی بہت سن رکھا تھا۔ اس کی وجہ جاننے میں ہمیں بہت دلچسپی تھی تاکہ ہم اپنے مشاہدات کی روشنی میں پاکستانیوں کو بھی ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔ ویسے تو کوئی خاص اندازہ نہیں ہوا مگر ایک دن ہم آئس کریم کھانے ایک دکان میں جا گھسے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم تو یہاں دیسی آئس کریم کی دکانوں کے عادی ہیں جہاں ہم جیسے ماجھے گامے ہی چوکی پر بیٹھے بالٹیوں سے آئس کریم نکال نکال کر کپوں میں ڈالتے ہیں۔ وہاں دیکھا کہ انہوں نے موقعے پر ہی آئس کریم بنانے اور بیچنے کی خاطر سائنسدانوں کی ایک ٹیم کا تقرر کیا ہوا ہے۔ ایک کونے میں نائٹروجن کے سیلنڈر پڑے تھے۔ تین چار لڑکے لڑکیاں ایپرن باندھے مشینوں کے سامنے کھڑے تجربات کرنے میں مصروف تھے۔ آرڈر وصول کرتے ہی وہ ایک ڈول کو مشین کے سامنے کرتے، کوئی بٹن دباتے اور اچانک ہر طرف نائٹروجن کا دھواں چھا جاتا۔ ہمیں اس دھوئیں میں ایٹمی نشان بھی دکھائی دیے۔ غالباً نائٹروجن کی ایٹمی فیوژن کر کے آئس کریم بنائی جاتی ہے۔ پھر نہایت محنت سے اسے کپ میں ڈال کر پیش کرتے ہیں۔ جس قوم میں سائنسی تعلیم ایسی عام ہو کہ آئس کریم بیچنا بھی آرٹسٹوں کی بجائے سائنس کے ماہرین کے سپرد کیا جائے، وہ ترقی نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی؟

یہ بھی پڑھیں: -   میں ’’اُن‘‘ کا ایجنٹ ہوں!

مغرب کے ترقی کا ایک اور سبب بھی ہمارے علم میں تھا۔ مولوی صاحبان اور دائیں بازو کے کالم نگار ہمیں متواتر بتاتے آئے ہیں کہ اہل مغرب کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے چپکے چپکے قرآن کا مطالعہ کیا ہے اور اسلام کے سنہرے اصولوں پر عمل کر کے ترقی کی ہے۔ سچ بات ہے کہ ہمیں اپنی فطری قنوطیت کی وجہ سے کبھی اس بات پر یقین نہیں آیا اور ہمیشہ ایک استہزائی مسکراہٹ سے یہ بات سنی۔ مگر جہاں ہم غلط ہوں اسے تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔
packet-outside-door
یہاں دیکھا کہ کورئیر والا کسی گھر کوئی پیکٹ ڈیلیور کرے تو اسے دروازے کے سامنے رکھتا ہے اور گھنٹی بجا کر اڑنچھو ہو جاتا ہے۔ اور لوگ بھی ایسے صادق اور امین ہیں کہ صرف اپنا پارسل اٹھاتے ہیں۔ دوسرے کے پارسل پر گندی نگاہ تک نہیں ڈالتے۔ یہ حالت ہم نے یونیورسٹی کے ان ہاسٹلوں میں بھی دیکھی جہاں دیسی رہتے ہیں۔ غالباً وہ امریکہ میں رہ کر اپنا زریں اصول بھول چکے ہیں کہ رام نام جپنا، پرایا مال اپنا۔ خیر یہ اچھی بات ہے کہ اسلام کے جو زریں اصول مغربیوں نے چوری چھپے قرآن پڑھ کر سیکھ لیے ہیں اور ہم سرعام قرآن پڑھ کر سیکھنے سے قاصر رہے ہیں، وہ اصول اب یہ دیسی طلبا گوروں سے سیکھ رہے ہیں۔ غالباً یہ گورے ہمارے مولوی صاحبان سے زیادہ اچھے مبلغ ہوں گے اور لفاظی کی بجائے عملی تبلیغ کرتے ہوں گے۔

یہ بھی دیکھا کہ کوئی چیز خریدنے کے بعد اسے ایک مہینے تک واپس کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ بات ماننی پڑے گی کہ جہاں سو شریف ہوں وہاں ایک ذات شریف بھی ہوتا ہے۔ ایک بڑی دکان پر شرٹ ٹنگی دیکھی جو بظاہر کوئی واپس کر گیا تھا۔ نہایت اجلی تھی۔ بالکل نئی۔ صرف ایک بات سے اندازہ ہوتا تھا کہ کسی نے واپس کی ہے۔ شرٹ کے پیٹ پر استری سے جلنے کا بڑا سا نشان موجود تھا۔ لیکن دکاندار کی شرافت دیکھیں کہ نہ صرف شرٹ واپس لی بلکہ اس کے ساتھ کی باقی شرٹوں کے ساتھ بلکہ بالکل سامنے لگا دی کہ کوئی خریدنا چاہے تو خرید لے۔
returned-clothes
یہ سننے میں آیا کہ یہاں لوگ طلبا کی سائیکل وغیرہ چوری کرنے میں منٹ نہیں لگاتے۔ پہلے پہل تو ہمیں یقین نہیں آیا۔ جو قوم اتنی ترقی یافتہ ہو کہ آئس کریم بیچنے کے لیے بھی اس نے سائنسدان مقرر کر رکھے ہوں، اس نے چوری کرنی ہو تو سائیکل کی کیوں کرے گی؟ وہ گاڑی کیوں نہیں چوری کرے گی؟ لیکن پھر غور کیا تو یاد آیا کہ امریکیوں نے اسلامی اصول سیکھتے ہوئے مواخات کا اصول بھی سیکھ لیا ہو گا اور اپنے بھائی سے پوچھے بغیر ضرورت کی چھوٹی موٹی چیز لینے میں عار محسوس نہیں کرتے ہوں گے۔ اگر وہ چور ہوتے تو گھر کے سامنے رکھے پارسل نہ چرا لیتے؟

یہ بھی پڑھیں: -   کیا اس کے بعد بھی

ہاں کیلیفورنیا اور نیویارک وغیرہ کے بارے میں سنا کہ وہاں چوری چکاری بہت ہے۔ گاڑی کھڑی کریں تو لوگ شیشہ توڑ کر اندر پڑی چائنہ کی عینک تک اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ زیادہ دیر تک گاڑی کھڑی کریں تو اس کے ٹائر اتار کر لے جاتے ہیں۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ پوری گاڑی ہی لے جائیں۔ ٹیکساس میں چوری کم ہونے اور کیلیفورنیا میں زیادہ ہونے کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ کیلیفورنیا والوں نے دل لگا کر اسلامی اصول نہیں سیکھے۔ اور دوسری یہ کہ ٹیکساس میں ہر بندہ آسانی سے اسلحہ خرید سکتا ہے اور کچھ چرا کر بھاگنا آسان نہیں ہوتا۔ اگلا بندہ پستول سے لے کر مشین گن تک سے مسلح ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ایمانداری ہی بہترین پالیسی ہے۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں